شدت پسند ہتھیارڈال دیں تومذاکرات کرینگےورنہ طاقت سےکچل دیاجائےگا سیاسی وعسکری قیادت

کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ شدت پسند ہتھیارڈالیں توبات چیت ہوگی۔


کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس میںنیشنل سکیورٹی کونسل کی تشکیل نوکردی گئی۔ فوٹو : این این آئی

ISLAMABAD: کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ شدت پسند ہتھیارڈالیں توبات چیت ہوگی ورنہ ان کیخلاف طاقت کا استعمال کیا جائے گا جبکہ نیشنل سکیورٹی کونسل کی تشکیل نوکردی گئی۔

جمعرات کووزیراعظم نوازشریف کی زیر صدارت کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیرداخلہ چوہدری نثار،وفاقی وزیراطلاعات ونشریات پرویزرشید، مشیربرائے خارجہ امورسرتاج عزیز،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل خالدشمیم وائیں،تینوںمسلح افواج کے سربراہان،سیکرٹری دفاع ،ڈی جی آئی ایس آئی،ڈی جی آئی بی،ڈی جی ایم آئی اوردیگراعلیٰ سول اورفوجی حکام نے شریک کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شدت پسندہتھیارڈالیں توان سے بات چیت ہوگی ورنہ ان کیخلاف طاقت کا استعمال ہوگا۔اجلاس میں بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پرفائربندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کا نوٹس لیا گیا اورفیصلہ کیا گیا کہ بھارت کی طرف سے کنٹرول لائن کی خلاف ورزیوں کے باوجودپاکستان صبروتحمل اورذمہ داری کی پالیسی جاری رکھے گا۔

کمیٹی نے شکما سیکٹرمیں بھارتی فوجیوں کی بلا اشتعال فائرنگ کی شدید مذمت کی جس کے نتیجے میں پاک فوج کا کیپٹن سرفراز شہید ہوا۔کمیٹی نے ان کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی۔اجلاس نے زوردیا کہ فائربندی کوہرصورت قائم رکھا جائے اورفائر بندی کی خلاف ورزیوں کوروکنے کیلیے تمام فوجی اور سفارتی ذرائع استعمال کیے جائیں۔اجلاس نے زوردیا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب معاملات کوپرامن طورپرحل کرنے اوربات چیت کیلیے کوششیں جاری رکھے گا۔اس موقع پرڈی جی ایم اونے دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے اس سال 240 مرتبہ ہماری حدودکی خلاف ورزی کی جس کے نتیجے میں2 افسران سمیت 8 جوان شہیدہوئے۔



وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کوبڑے داخلی چیلنجوںکا سامنا ہے جبکہ خطے میں دوررس اثرات کی حامل پیشرفت ہورہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کابینہ کمیٹی ان معاملات پرغوروخوض اورمناسب حکمت عملی وضع کرنے کیلیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں عسکری قیادت نے کہا کہ حکومت انسداددہشتگردی کی مجوزہ پالیسی میں دہشتگردی کی مکمل تعریف کرے،انسداددہشتگردی پالیسی کے بارے میں طویل المدتی اقدامات کیساتھ قلیل المدتی اقدامات بھی تجویزکیے جائیں۔

عسکری قیادت نے دہشتگردی کے خاتمے کیلیے سخت سے سخت قوانین بنانے کی سفارش کی ہے۔ذرائع کے مطابق عسکری قیادت نے بریفنگ کے دوران یہ بھی کہا ہے کہ فیصلہ کیا جائے تحریک طالبان پاکستان کے بین الاقوامی خفیہ ایجنسیوں سے تعلقات کس حدتک منظرعام پرلانے ہیں۔ علاوہ ازیں اجلاس میں کابینہ کی دفاعی کمیٹی کی کابینہ کمیٹی برائے قومی سلامتی کے نام سے تشکیل نوکی منظوری دی گئی،وزیراعظم کمیٹی کے سربراہ،خارجہ،دفاع،خزانہ وداخلہ امورکے وفاقی وزراء،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمٹی،تینوںمسلح افواج کے سربراہان ارکان ہوں گے۔