کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال اقوام متحدہ نے شام سے وضاحت مانگ لی پاکستان کا اظہار تشویش تحقیقات کا مطال

معائنہ کاروں کو دمشق کے کیمیائی حملے سے متاثرہ مقام تک رسائی دلوانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں،ماریہ کرسٹینا


News Agencies August 23, 2013
بشارالاسد کی فوج کو تباہ کرنا ہمارے لیے مشکل نہیں لیکن یہ ہمارے مفادمیں نہیں،جنرل ڈیمپیسی، پاکستان میں اسامہ بن لادن اور دیگر دہشتگردوں کو ختم کردیا گیا تاہم امریکا کیلیے خطرات ابھی کم نہیں ہوئے، وائٹ ہاؤس. فوٹو : اے ایف پی/فائل

KARACHI: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام سے کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال کی وضاحت طلب کرلی ہے۔

سلامتی کونسل کے شام کے حوالے سے ہنگامی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ارجنٹینا کی سفیرماریا کرسٹینا نے کہا ہے کہ کونسل کے ارکان کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر تشویش ہے اور حقائق جاننے کی ضرورت ہے۔ اقوامِ متحدہ کے حکام نے کہا ہے کہ شام میں موجود ادارے کے معائنہ کاروں کو دمشق کے کیمیائی حملے سے متاثرہ مقام تک رسائی دلوانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل جین الیاسن نے کہا یہ واقعہ شام کی صورتحال میں ایک اہم اور سنجیدہ تبدیلی ہے۔



پاکستان نے کیمیائی حملے پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حالیہ الزام کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کے اقدام کی مکمل حمایت کرتا ہے، پاکستانی سفیرمسعود خان نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شامی حکومت کے گیس حملے میں ملوث ہونے سے متعلق دعوؤں پر سوال اٹھایا۔ انھوں نے کہا یہ بات ناقابل فہم لگتی ہے کہ شام کی حکومت خاص طور پر اقوام متحدہ کی ٹیم کی موجودگی میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کرے گی لیکن اپوزیشن کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے دعوے پریہ انتہائی ضروری ہے کہ غیرجانبدارانہ تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لائے جائیں۔

اقوام متحدہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل نے جنرل سیکریٹری بانکی مون کے اس مطالبے کی حمایت کی ہے کے جس میں انھوں نے شام سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات کی بلا تاخیر، مکمل اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کاکہا تھا۔ دوسری جانب شامی وزیر اطلاعات نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے انھیں جھوٹا قراردیا ہے۔ ادھر واشنگٹن میں میڈیا بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کے نائب ترجمان نے کہا کہ شام میں شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ناقابل قبول ہے، اقوام متحدہ کو دمشق میں قتل عام بند کرانا ہوگا، پاکستان میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن اور دیگر دہشتگردوں کو ختم کردیا گیا تاہم امریکا کے لیے خطرات ابھی کم نہیں ہوئے۔