سابق اولمپئنز پی ایچ ایف میں تبدیلی پر مسرور

شہباز کا فیصلہ’ دیرآید درست آید ‘ کے مصداق ہے، احتساب ہونا چاہیے، سمیع اللہ


Sports Reporter May 05, 2019
شہباز کا فیصلہ’ دیرآید درست آید ‘ کے مصداق ہے، احتساب ہونا چاہیے، سمیع اللہ۔ فوٹو: فائل

سابق اولمپئنز نے پی ایچ ایف میں تبدیلی کوخوش آئند قرار دے دیا۔

سمیع اللہ خان، حنیف خان اور وسیم فیروز نے تبدیلی کو خوش آئند قرار دیا ہے، سمیع اللہ کا کہنا ہے کہ پی ایچ ایف کے صدر بریگیڈیئر (ر) خالد سجاد کھوکھر کی جانب سے شہباز سینئر کے استعفیٰ کو قبول کرنا 'بڑی دیر کی مہربان آتے آتے' والی بات ہے، جبکہ شہباز کا مستعفی ہونا دیر آید درست آید کے مصداق ہے، تاہم بات استعفی پرختم نہیں ہونی چاہیے فیڈریشن کا احتساب ضروری ہے۔

سابق کپتان حنیف خان نے کہا کہ شہبازسینئر کے دور میں قومی ٹیم ہر ایونٹ میں آخری نمبر پرنظرآئی۔گراس روٹ پرمحنت تودورکی بات شہباز سینئر ورلڈ ہاکی فیڈریشن کے عہدیدار ہونے کے باوجود پی ایچ ایف کو جرمانے سے نہیں بچاسکے۔

سابق سیکریٹری نے مختلف شہروں میں اپنی من مانی کے لیے متوازی ایسوسی ایشنز بنوائیں، مالی بدعنوانی کی گونج اس قدر زیادہ رہی ہے انھیں ایک بار پھر مستعفی ہونا پڑا، شہباز سینئرکا استعفیٰ درحقیقت اولمپئنزفورم کی سچائی پرمہرہے، امید ہے فیڈریشن میں سیکریٹری کی حیثیت سے کام کا تجربہ رکھنے والے اولمپئن آصف باجوہ اپنی دوسری اننگز میں ہاکی کی ترقی کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کردیں گے، آصف باجوہ کو ماضی میں لگنے والے الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

اولمپئن وسیم فیروز کا کہنا ہے کہ ٹیم سلیکشن میں شہباز سینئر کی براہ راست مداخلت اور دوستوں کو نوازنے کی پالیسی انھیں لے ڈوبی۔ شہباز سینئردنیائے ہاکی کا ایک بڑا اور قابل قدر نام ہے لیکن افسوس ایڈمنسٹریٹرکی حیثیت سے وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کے باعث وہ پاکستان ہاکی کی مزید تباہی کا باعث بنے۔