پاکستان اور افغانستان میں امن کیسے ممکن

افغانستان کی حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے سرحدی علاقوں سے دہشت گردوں اور شرپسندوں کا صفایا کرے۔


Editorial May 07, 2019
افغانستان کی حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے سرحدی علاقوں سے دہشت گردوں اور شرپسندوں کا صفایا کرے۔ فوٹو : فائل

وزیراعظم عمران خان نے اتوار کو ضلع جہلم کی تحصیل سوہاوہ میں روحانیات اور سائنس سے متعلق یونیورسٹی ''القادر''کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے نظریئے کو چھوڑکرہم نہ اسلامی رہے اورنہ ہی فلاحی رہے، معاشی بحران اور اچھے برے حالات قوموں پر آتے رہتے ہیں، لیکن نظریہ چلا جائے تو قوم کا کوئی مستقبل نہیں رہتا، مشرقی پاکستان نظریے سے ہٹنے، انصاف اور حقوق نہ ملنے کی وجہ سے ہم سے الگ ہوا۔

ادھر وزیراعظم عمران خان کو افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ٹیلیفون کیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے افغانستان اور خطے میں امن، سیکیورٹی اورخوشحالی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ پاکستان افغانستان کو برادر ملک سمجھتا ہے، دونوں ملکوںکے عوام کے مفاد کے لیے پاکستان اور افغان قیادت کو امن کے قیام، اقتصادی ترقی کے فروغ اور علاقائی خوشحالی کے لیے رابطے بڑھانے چاہئیں۔

وزیراعظم عمران خان نے افغانستان کے مسئلے کے پرامن حل تلاش کرنے کے لیے اپنے وژن کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ افغانستان کے مسئلے کا حل مکمل طور پر افغانوں کے اپنے اور ان کی اپنی قیادت میں ہونا چاہیے۔

عمران خان اور اشرف غنی نے پاکستان اور افغانستان کی جغرافیائی حیثیت کا ادراک کرتے ہوئے علاقائی رابطوںکو بڑھانے ، سماجی اقتصادی ترقی، غربت کے خاتمے اور دونوں ملکوں کے عوام کی فلاح کے لیے پاکستان اور افغانستان کی حقیقی اقتصادی صلاحیت کا ادراک کرنے پراتفاق کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو دورہ پاکستان کی دعوت دی، دورہ کی تاریخوںکا فیصلہ باہمی مشاورت سے ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان نے صائب کہا کہ نظریہ چلا جائے تو قوم کا کوئی مستقبل نہیں رہتا لیکن اس کے لیے ناگزیر ہے کہ قوم کی حقیقی اور درست بنیادوں پر تربیت کی جائے اگر نام نہاد منافقت کا لبادہ اوڑھے دانشوروں کو قوم کا رہنما بنا کر پیش کیا جائے اور ان کے نظریات پر نوجوان نسل کی آبیاری کی جائے تو پھر وہی ہو گا جو آج پاکستانی قوم کے ساتھ ہو رہا ہے۔

ہماری یونیورسٹیاں سائنسی تحقیق سے دور صرف مفروضوں اور ماضی کے گھڑے ہوئے قصوں کی بنیاد پر سنہرے مستقبل کے خواب دکھا رہی ہیں' قوم کو بہکانے میں ہمارے انھی یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور نام نہاد دانشوروں کا کلیدی کردار ہے۔ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ حکومتوں نے بھی ان نام نہاد دانشوروں کو پروموٹ کیا اور حقیقت کا روپ دکھانے والوں کو پس منظر میں دھکیل دیا گیا۔

افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے پاک افغان امن کے قیام' اقتصادی ترقی کے فروغ اور علاقائی خوشحالی کے لیے رابطے بڑھانے کے لیے بات چیت خوش آیند ہے' افغانستان اس وقت خانہ جنگی کے علاوہ بہت سے مسائل کا شکار ہے اور یہ مسائل اسی وقت حل ہوں گے جب وہاں کی قیادت اس کو حل کرنے کی مخلصانہ کوشش کرے گی۔ پاکستان کی قیادت متعدد بار افغان حکومت سے بات چیت کر چکی ہے کہ دونوں ممالک مل بیٹھ کر خطے کے مسائل حل کریں لیکن افغان حکومت کی جانب سے عملی طور پر کبھی اس کا مثبت جواب نہیں آیا۔

پاکستان اور افغانستان دونوں برادر اسلامی ممالک کو اس وقت دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہے' افسوناک امر یہ ہے کہ افغانستان کی جانب سے آنے والے دہشت گردوں کے گروہ متعدد بار پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کر چکے ہیں لیکن افغان حکومت ان گروہوں کو روکنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکی جس سے اس شبہ کو تقویت ملتی ہے کہ افغان حکومت دانستہ یا غیردانستہ دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور دہشت گرد اس قدر منہ زور ہو چکے ہیں کہ وہ جب چاہتے ہیں دہشت گردی کر گزرتے ہیں۔

انھی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کی قیادت نے افغان سرحد کے ساتھ ساتھ باڑ لگانے کا کام شروع کیا جس پر تیزی سے کام جاری ہے۔ افغان سرحد کے ساتھ ساتھ جہاں جہاں پر باڑ کی تنصیب ہو چکی ہے وہاں سے دہشت گردوں کی آمد رک چکی ہے جس سے علاقے میں امن و امان کی صورت حال میں کافی حد تک بہتری آئی ہے۔ افغان سرحد کے ساتھ ساتھ باڑ کی تنصیب مکمل ہونے کے بعد امید ہے کہ دہشت گرد خفیہ راستوں سے پاکستان میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔

افغان سرحد کے ساتھ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شرپسند عناصر جو کارروائیاں کر رہے ہیں ان کے بارے میں بھی یہ اطلاعات آرہی ہیں کہ سرحد پار سے ان کی مدد کی جا رہی ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بھی ایسے گروہ موجود ہیں جو کبھی مذہب اور کبھی قوم پرستی کی آڑ لے کر ریاست کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں ۔افغانستان کو ایسے گروہوں کی حمایت اور سرپرستی نہیں کرنی چاہیے ۔پاک افغان سرحد پر باڑ صرف پاکستان کے لیے ہی نہیں بلکہ افغانستان میں امن کے لیے بھی ضروری ہے۔

افغانستان کی حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے سرحدی علاقوں سے دہشت گردوں اور شرپسندوں کا صفایا کرے۔اسی میں افغانستان کا فائدہ ہے ،جب تک افغان قیادت خطے میں قیام امن کے لیے مخلصانہ کوشش نہیں کرے گی علاقائی مسائل حل نہیں ہوں گے۔

مقبول خبریں