سوہاوہ مسافر وین کا الم ناک حادثہ

اکثر گاڑیوں ، بسوں اور کوچز میں ناقص سیلنڈروں کی تنصیب بھی الم ناک حاثات کا سبب بنتی ہیں۔


Editorial May 07, 2019
اکثر گاڑیوں ، بسوں اور کوچز میں ناقص سیلنڈروں کی تنصیب بھی الم ناک حاثات کا سبب بنتی ہیں۔ فوٹو: فائل

ملک میں ٹریفک حادثات کے تسلسل نے ایک آسیبی شکل اختیار کرلی ہے، لوگ گھروں سے نکلتے ہیں، بسوں کوچزاور اپنی گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں اور موت کے منہ میں پہنچ جاتے ہیں۔ اکثر اموات غلط سمت سے آنے والی گاڑی یا اوورسپیڈنگ اور اوورٹیکنگ کے کوشش میںالم ناک حادثوں میں قیمتی انسانی جانیں تلف ہوجاتی ہیں۔

افسوس ہے یہ سلسلہ رکتا نظر نہیں نہیں آتا جب کہ دل دہلادینے والے حادثات کے بنیادی اسباب بھی صرف ڈرائیوروں کی ذہنی ،اعصابی و نفسیاتی جھنجھلاہٹ ، غضبناکی کی کیفیت تک محدود نہیں بلکہ ٹریفک حکام کو دیکھنا ہوگا کہ گاڑیوں کے کٹس،اپلائنسز اور گیس سیلنڈرز میں کوئی ان دیکھا نقص تو نہیں،ان کی مناسب فٹنگ بھی ہوئی ہے یا نہیں۔ اکثر گاڑیوں ، بسوں اور کوچز میں ناقص سیلنڈروں کی تنصیب بھی الم ناک حاثات کا سبب بنتی ہیں۔

بتایاجاتا ہے کہ جہلم میں سوہاوہ کے قریب بکڑالہ پل کے مقام پر گوجرانوالہ سے راولپنڈی جانیوالی مسافر وین میں بھی گیس سلنڈر پھٹنے سے آگ بھڑک اٹھی جس نے پوری وین کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، وین میں سوار 9مسافر جھلس کرجاںبحق، پانچ زخمی جب کہ تین معجزانہ طور پر بچ گئے ، اندھیرے کی وجہ سے ریسکیو اہلکاروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ریسکیو1122کے انچارج ڈاکٹر فیصل کے مطابق جھلس کر جاں بحق ہونے والے مسافروں کی شناخت بہت مشکل ہے، بتایا گیا ہے کہ گاڑی گوجرانولہ سے ٹیکسلا جا رہی تھی.

گاڑی میں 16 مسافر تھے جن میں آٹھ زخمی اور نوجاں بحق ہوئے، ڈپٹی کمشنر جہلم نے بتایا کہ تمام جاں بحق افراد کی شناخت ممکن نہیں رہی، گاڑی مکمل طور پر آگ کی لپیٹ میں آنے کی وجہ سے مسافروں کو گاڑی سے نکالنے میں دشواری پیش آئی، گاڑی کو آگ لگنے سے ہلاکتوں کی تعداد پہلے آٹھ تھی، ایک اور ہلاکت کی اطلاع ملنے پر تعداد 9 ہو گئی، جب کہ حادثے میں وین مکمل جل کر راکھ ہوگئی۔

ادھرکوئٹہ کے علاقے مغربی بائی پاس پر کوچ اور گاڑی میں تصادم کے نتیجے میں 3افراد جاں بحق ہوگئے۔ ارباب اختیار صورتحال کا نوٹس لیں ،انسانی جانوں کا ضیاع ہر قیمت پر رکنا چاہیے اور اندرون شہر یا بین الصوبائی سفر محفوظ سے محفوظ تر ہونا چاہیے۔

مقبول خبریں