جب میں وزیراعظم کی تقریر نویسی سے بچ گیا
جناب وزیر اعظم کی مشہور تقریر کے بعد یہ بحث چل نکلی ہے کہ یہ تقریر کس نے یا کن افراد نے مل کر لکھی۔
ISLAMABAD:
جناب وزیر اعظم کی مشہور تقریر کے بعد یہ بحث چل نکلی ہے کہ یہ تقریر کس نے یا کن افراد نے مل کر لکھی۔ تقریر نویسی کی اس صورت حال سے میری بھی کچھ یادیں تازہ ہوئی ہیں، ویسے اس وقت میاں صاحب کے وہ تیز مزاج کارکن بھی سامنے آ رہے ہیں جو پوچھتے پھر تے ہیں کہ ایسی تقریر لکھنے والے کہاں ہیں۔ خود ان سے ملاقات ہی ہو جائے۔ اب یادوں کی طرف۔
جناب محمد خان جونیجو دیانت و امانت میں ہمارے بہترین وزیر اعظم تھے۔ انھوں نے اپنے سیکریٹری جناب سلمان فاروقی اور وزارت اطلاعات کے ایک سینئر افسر جناب انور محمود کے ذریعے جو ان کے ساتھ ان دنوں کام کر رہے ہیں، مجھے یاد فرمایا۔ مقصد یہ تھا کہ انھیں اپنے لیے ایک تقریر نویس کی تلاش تھی اور انھوں نے صدر ضیاء الحق کی ایماء پر اس تلاش کا آغاز مجھ سے کیا۔ جناب فاروقی لاہور تشریف لائے یہاں چمبہ ہائوس میں ان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے انکشاف کیا کہ وہ مجھے وزیر اعظم کے تقریر نویس کے طور پر ساتھ رکھنا چاہتے ہیں اور اسی مقصد کے لیے لاہور تشریف لائے ہیں کہ مجھے ساتھ لے جائیں۔ میں ایک اخبار نویس ضرور ہوں لیکن کسی کے اندر کی دل و دماغ کی باتیں جاننا اور لکھنا میرے لیے ممکن نہیں تھا۔ اگرچہ مجھے معلوم تھا کہ ہمارے بعض دوست حکمرانوں کے تقریر نویس رہے ہیں اور جناب الطاف گوہر کی طرح بڑی شہرت بھی پائی ہے لیکن انھوں نے جن خاص حالات میں کام کیا وہ بالکل مختلف تھے۔
وہ تقریروں کی حد تک سب کچھ خود ہی تھے جب کہ یہاں صورت حال مختلف تھی، سادہ مزاج جناب جونیجو صاحب کی خواہش تھی کہ جو بات انھیں پسند ہو اور ان کے ذہن میں ہو وہ مناسب الفاظ میں بیان کی جائے اور اسے ان کی تقریر کا حصہ بنایا جائے۔ میں نے اپنے لیے میری حد تک اس نا ممکن کام سے معذرت کر لی لیکن فاروقی صاحب نے برادرانہ حکم دیا کہ میں پنڈی ضرور آئوں اور وزیر اعظم صاحب سے ملوں۔ ان دنوں وزیر اعظم کا دفتر اور رہائش راولپنڈی میں ہوا کرتی تھی۔ چنانچہ میں حاضر ہو گیا۔ مجھے تفصیل کے ساتھ بتایا گیا کہ میرا مجوزہ کام کیا ہو گا اور پھر میرے دونوں دوستوں نے مجھے قائل کرنے کی کوشش کی کہ مدد کے لیے وہ موجود ہوں گے اور یہ کام مشکل نہیں بلکہ دلچسپ ہو گا۔
چند دن تم بھی عیش کر لو اور ایک نیا دلچسپ تجربہ بھی۔ مراعات بہت ہیں۔ میرے لیے پر تکلف لنچ تیار ہوا اور فاروقی صاحب نے ہنستے ہوئے کہا کہ ہم تو وزیر اعظم صاحب کی جزرسی میں مارے گئے ہیں ہر روز بس سبزی دال یا کچھ برائے نام گوشت وہ خود بھی یہی کھاتے ہیں۔ تمہاری وجہ سے آج ڈٹ کر کھائیں گے کہ تم مہمان ہو اور مہمانوں کو یہ رعایت حاصل ہے۔ جناب جونیجو صاحب سے بھی مختصر سی ملاقات ہوئی اور انھوں نے کہا کہ فاروقی صاحب نے بات تو کر لی ہوگی۔ مجھ سے صدر صاحب نے کہا ہے کہ تم کم از کم اس صحافی پر بھروسہ کر سکتے ہو۔
میں نے صدر صاحب کا اور ان کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی کچھ ذہنی مشکلات کا ذکر بھی کیا لیکن انھوں نے جواب دیا کہ فاروقی صاحب سے بات کر لیں۔ یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آ رہی تھی کہ میں ان کے دل و دماغ کی اور ان کی اندر کی پسند کی باتیں تقریر میں کیوں نہیں لکھ سکتا۔ میں نے فاروقی صاحب اور انور صاحب سے بہت کہا کہ آپ خود اندازہ کریں کہ میں جونیجو صاحب کے دل و دماغ اور پسند نا پسند کی ترجمانی کیسے کر سکتا ہوں، پھر وہ قطعاً مختلف ماحول کے جم پل ہیں اور میں سندھی' جاگیرداری ذہن کو پوری طرح نہیں سمجھتا۔ مجھے مزید سوچنے کے لیے ایک پر تکلف آرام دہ ریسٹ ہائوس میں ٹھہرایا گیا اور میرے کئی دوستوں کو میری اطلاع بھی کی گئی جن کے ساتھ رات گئے تک محفل جاری رہی۔
کئی دوستوں کا خیال تھا کہ کیا درویشانہ زندگی میرا کوئی مقدر ہے یا یہ کوئی اعزاز ہے۔ ایک باعزت موقع مل رہا ہے اور کوئی اور نہیں ملک کا وزیراعظم تمہارے تعاون اور رفاقت کی خواہش رکھتا ہے، اوپر سے صدر صاحب بھی یہی چاہتے ہیں۔ تمہاری اپنی صحافی برادری میں بھی ٹُہر بن جائے گی اور کسی کے کام بھی آ سکو گے۔ محض ایک مزدور اور کارکن صحافی ہی نہیں رہو گے۔ دوستوں نے بتایا کہ یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے بلکہ تمہارے لیے تو یہ کوئی کام ہی نہیں ہے۔ محفل برخواست ہونے کے بعد میں نے بہت سوچا اور بقول والتئر سوچنے والا دنیا کا مشکل ترین کام کیا۔ اسے آپ کچھ بھی سمجھیں میں اس کام پر اپنے آپ کو آمادہ نہ کر سکا۔ میرے دونوں دوستوں سلمان فاروقی اور انور محمود نے صدق دل سے افسوس کیا، وہ میرے لیے اس کام کو بہت موزوں مفید اور مناسب تصور کر رہے تھے۔ بہر کیف میں سرکار دربار میں شامل ہونے سے بال بال بچ گیا۔ مجھے جناب صدر اور وزیراعظم سے کوئی ذہنی اور نظریاتی اختلاف نہیں تھا۔ میری تنخواہ بھی اتنی معقول نہیں تھی کہ اس سرکاری نوکری کے بغیر ہی میں آسودہ زندگی بسر کر رہا ہوتا۔ گاڑی بنگلہ سب کچھ اس نئی نوکری میں موجود تھا مگر
جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد
پر طبیعت ادھر نہیں آتی
آج جب میں مناسب زندگی بسر کر رہا ہوں اور صرف اپنی محنت اور صلاحیت پر کسی کے احسان پر نہیں تو اس ذہنی آزادی اور عزت نفس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ اگر میں ان پرانے حالات میں سرکاری کارندہ بن جاتا تو مجھے اس سے زیادہ اور کیا مل جاتا جواب حاصل ہے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا تھا کہ اس کا مفہوم یہ کہ دولت مندی دل کی ہوتی ہے جیب اور مال کی نہیں۔ میں اپنے حالات پر جتنا بھی شکر کروں کم ہے کہ کوئی اس دور میں بھی مجھ پر کرپشن کی انگلی نہیں اٹھاتا، اس میں سے سوائے الزامات کے میرے حصے میں اور کچھ نہیں اور یہ ضروری ہے کیونکہ اگر دامن میلا اور بھیگا نہیں تو زندگی کا کیا مزا۔ رسوائیاں زندگی میں رنگ بھرتی ہیں۔ آخر میں بلا اجازت فارسی کا ایک شعر اگرچہ آپ میری اس فارسی سے بہت تنگ ہیں۔
ما ئو مجنوں ہم سبق بودیم در دیوان عشق
او بصحرا رفت و ما در کوچہ ہا رسوا شدیم
یعنی میں اور مجنوں دونوں دیوان عشق کے مدرسے میں ہم سبق ہی تھے لیکن وہ تو صحرا میں نکل گیا اور میں اس کے گلی کوچوں میں رسوا ہو گیا تو حضرات پاکستان کے عوام غیرسرکاری گلی کوچوں میں ہی رسوا ہو گئے اور اسی پر فخر ہے۔ جو حکمرانی میں رسوا ہوئے ان کا حال آپ جانتے ہیں۔