میاں صاحب کا خطاب
تقریباً تین ماہ کے انتظار کے بعد ہمارے وزیراعظم نے قوم سے خطاب کیا۔
تقریباً تین ماہ کے انتظار کے بعد ہمارے وزیراعظم نے قوم سے خطاب کیا۔ اس خطاب کا عوام اور خواص بے چینی سے اس لیے انتظار کررہے تھے کہ عوام مہنگائی، بے روزگاری، گیس، بجلی کی لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی کے حوالے سے کچھ نیک توقعات لیے بیٹھے تھے اور خواص ملک کی خارجہ اور داخلہ پالیسیوں خاص طور پر دہشت گردی کے مسئلے پر نئی منتخب حکومت کی پالیسی جاننا چاہتے تھے۔
اس دوران میڈیا میں یہ خبریں بھی آتی رہیں کہ میاں صاحب قوم سے خطاب اس لیے نہیں کررہے ہیں کہ ان کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں! میاں صاحب کے ارشاد کے مطابق وہ دو ماہ میں یہ بھی نہیں سمجھ سکے کہ اس ملک کے مسائل کیا ہیں؟ آخرکار جب میڈیا کے ذریعے پتہ چلا کہ میاں صاحب 19 اگست کو قوم سے خطاب کریںگے تو فطری طور پر یہ سمجھا گیا کہ میاں صاحب نے قوم و ملک کے مسائل سے آگاہی حاصل کرلی ہے اور اب ان حوالوں سے وہ قوم کے سامنے ان مسائل کا حل اور حل کے لیے ایک واضح روڈ میپ کا اعلان کریںگے۔ لیکن ''اے بسا آرزو کہ خاک شد'' میاں صاحب کا خطاب سننے کے بعد عوام اور خواص کے چہرے لٹک گئے اور ان چہروں سے عدم اطمینان اور مایوسی ٹپکنے لگی، جس کا اظہار عالمان سیاست ٹاک شوز میں کررہے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ عوام اور خواص میں یہ عدم اطمینان اور مایوسی کیوں پیدا ہوئی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ میاں برادران نے اپنی انتخابی مہم کے دوران گیس، بجلی کی لوڈشیڈنگ، مہنگائی، بے روزگاری، اٹھارہ کروڑ عوام کے سروں پر لٹکتی دہشت گردی اور اپنی خارجہ پالیسی کے حوالے سے جو وعدے کیے تھے وہ پورے نہ ہوئے۔ جہاں تک گیس بجلی کی لوڈشیڈنگ کی بات ہے اہل علم، اہل خرد یہ بات پہلے ہی سے جانتے تھے کہ ان دونوں مسائل کا کوئی فوری یا کم مدتی حل موجود نہیں، انھیں حل کرنے کے لیے ایک طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے لیکن انتخابی مہم کے دوران میاں برادران نے عوام کو خوش کرنے کے لیے اس حوالے سے جو جذباتی وعدے کیے وہ ان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ہی غلط ثابت ہونے لگے اور آہستہ آہستہ میاں صاحب نے عوام پر یہ واضح کرنا شروع کیا کہ ان کے پاس الہ دین کا چراغ نہیں کہ پلک جھپکتے ان مسئلوں کو حل کردیں، اس کے لیے چار پانچ سال لگ سکتے ہیں۔
مشکل یہ ہے کہ پس ماندہ ملکوں کی سیاست جھوٹ کے سینگ پر کھڑی رہتی ہے اور اسی وجہ سے عوام جلد مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں اور حکومتیں جلد غیر مقبول ہونے لگتی ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ ماضی کی پیپلزپارٹی کی حکومت نے ان مسائل کو حل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی نہ کوئی منصوبہ بندی کی لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہ مسئلے اس وقت سے نظر انداز کیے جاتے رہے ہیں جب میاں برادران دو بار حکومت میں رہے تھے اور مسلم لیگ نواز بھی اس غیر ذمے داری کی اتنی ہی ذمے دار ہے جتنی پیپلزپارٹی، اب اس غیر ذمے داری کا خمیازہ میاں صاحب کو بھگتنا پڑرہا ہے، لیکن اس حوالے سے جو مزید سوالات ابھر رہے ہیں وہ یہ ہیں کہ بعض پڑوسی ملکوں نے ہنگامی بنیادوں پر چھوٹے پیمانے پر بجلی کی فراہمی کی پیشکش کی تھیں، ان سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا گیا؟
اسی طرح گیس کی قلت پر قابو پانے کے لیے ایران سے جو معاہدہ پی پی پی حکومت نے کیا تھا میاں صاحب اس پر تیزی سے عمل درآمد کرنے سے کیوں گریزاں ہیں؟ اس حوالے سے میاں صاحب نے جو بیان دیا تھا کہ ''ایران سے گیس کے معاہدے پر عمل درآمد سے امریکا پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگا سکتا ہے'' اس بات کا اعتراف ہے کہ میاں صاحب امریکا کے دبائو میں آگئے ہیں۔ قوم سے خطاب میں اس اہم مسئلے کا ذکر نہ کرنے سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ میاں صاحب اپنے وعدوں کے برخلاف امریکی اطاعت سے باہر نہیں نکل سکے۔
مہنگائی عوام کا ایک بہت بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ایک مہنگائی وہ ہے جو سرمایہ دارانہ نظام سے جڑی ہوئی ہے لیکن ہمارے ملک کی تاجر برادری اور صنعت کاروں نے جو مصنوعی مہنگائی عوام کے سروں پر مسلط کی ہے اس پر سخت انتظامی اقدامات کے ذریعے قابو پایا جاسکتا ہے لیکن کرپٹ انتظامیہ نے منافع خوروں کو کھلی چھوٹ دیدی ہے، رمضان میں یہ منافع خوری اپنی انتہا کو پہنچ گئی تھی، اسے روکنے کے لیے متعلقہ عہدیداروں نے ٹی وی کیمروں کی جھرمٹ میں جو نمائشی اقدامات کیے انھیں عوام نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے دیکھا بلکہ حکومت کی نااہلی پر مشتعل بھی ہوئے، اگر حکومت خلوص نیت سے مصنوعی مہنگائی کو روکتی تو اسے عوام کی حمایت ملتی۔ میاں صاحب نے لاکھوں غریبوں اور بے روزگار لوگوں کو مکانوں کا مالک بنانے کا اعلان کیا ہے۔
یہ اعلان بڑا دلکش ہے اس لیے کہ ملک میں 65 سال گزرنے کے بعد بھی لاکھوں خاندان بے گھر ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بے گھری اور بے روزگاری میں ترجیح کس کو حاصل ہے؟ میاں صاحب بے روزگاروں کو گھر فراہم کرنا چاہتے ہیں اور لاکھوں بے روزگاروں کو گھر فراہم کرنا آسان نہیں، اس پر اربوں روپوں کا خرچ آئے گا۔ اس نیک لیکن صبر طلب کام کے بجائے اگر میاں صاحب ملک میں زیادہ سے زیادہ صنعتیں لگا کر بے روزگاروں کو روزگار فراہم کرنے کا کوئی منصوبہ پیش کرتے تو وہ زیادہ موثر ہوتا، کیوںکہ ایک بے روزگار گھر حاصل کرکے بھی بھوکا ہی رہتا ہے اور یہ بھی ممکن نہیں کہ حکومت لاکھوں گھر بے گھروں کو بالکل مفت فراہم کرے۔ میاں صاحب نے نوجوانوں کو روزگار یا کاروبار کے لیے قرضے فراہم کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے، ماضی کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس قسم کی اسکیمیں ناکام ہوتی رہی ہیں، پیلی ٹیکسیوں کی اسکیم کا حشر ہمارے سامنے ہے۔
میاں صاحب نے اپنے خطاب میں کراچی میں زیر زمین ٹرین سروس اور کراچی تا لاہور موٹر وے بنانے کی خوشخبری کا اعادہ کیا ہے، ہم نے کراچی کے حوالے سے حکومت کو احساس دلایا تھا کہ زیر زمین ریلوے جیسے طویل المدتی منصوبوں کو دوسرے مرحلے میں رکھ کر کراچی میں فوری طورپر پانچ سو بڑی بسوں کی فراہمی کا انتظام ہونا چاہیے تاکہ بسوں کی چھتوں اور دروازوں پر مکھیوں کی طرح سفر کرنے والے اس خطرناک سفر سے نجات حاصل کرسکیں۔
موٹروے یقیناً بڑا اچھا منصوبہ ہے لیکن اس سے زیادہ اہم مسئلہ ریلوے کے تباہ حال نظام کی بحالی کا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میاں صاحب کے مشیر نمائشی اور پروپیگنڈا منصوبوں کو اہمیت دے رہے ہیں، عوام کو ان کے بدترین مسائل سے نجات دلانے کے لیے کم مدتی منصوبوں کو بوجوہ نظر انداز کررہے ہیں، زیر زمین ریلوے اور موٹروے اربوں کھربوں کے منصوبے ہیں اور لوٹ مار کے منصوبے رکھنے والی طاقتیں ایسے منصوبوں کو اس لیے اولیت دیتی ہیں کہ ایسے منصوبوں میں ان کے لیے ''بڑی گنجائش'' رہتی ہے، میاں صاحب کو ان حقائق کا علم ہونا چاہیے۔
خارجہ پالیسی کے حوالے سے ایران گیس منصوبے سے ہماری حکومت کی گریزاں پالیسی سے ہماری خارجہ پالیسی کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ بھارت سے تعلقات کی بہتری کے موقع پر اچانک جو حادثات رونما ہوتے ہیں کیا یہ اتفاقی ہوتے ہیں یا منصوبہ بند؟ اس کا میاں صاحب کو جائزہ لینا چاہیے۔ چین یقیناً ہمارا ایک قابل اعتبار دوست ہے، اس سے زیر زمین ریلوے جیسے منصوبوں کے علاوہ ان اقتصادی پالیسیوں پر بات کرنا چاہیے اور فائدہ اٹھانا چاہیے جن کی وجہ سے آج چین دنیا بھر کی منڈیوں پر قابض ہے۔
سب سے اہم مسئلہ دہشت گردی کا ہے جس کی وجہ سے ہمارے ملک میں اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری ہی نہیں رکی ہوئی ہے بلکہ پورے ملک میں ایک سخت خوف و دہشت کی فضا موجود ہے۔ دہشت گردوں کی طاقت اور کامیاب منصوبہ بندی کا اندازہ مہران بیس، کامرہ بیس، جی ایچ کیو، پشاور ایئرپورٹ پر حملوں کے علاوہ ملک بھر میں اس کے پھیلتے اور مستحکم ہوتے ہوئے نیٹ ورک سے ہوسکتا ہے۔ بنوں جیل کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان جیل کے واقعے کے بعد کراچی جیل پر حملے کے خوف سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری بے بسی کا کیا عالم ہے۔
میاں صاحب نے اپنے خطاب میں بجا طورپر کہا ہے کہ ہمارے انتظامی اداروں، ایجنسیوں اور عدالتی نظام نے خود کو دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کا اہل ثابت نہیں کیا۔ بے شک میاں صاحب کی بات درست ہے لیکن اس کا حل کیا ہے اور اب تک اس حوالے سے ایک قومی پالیسی کیوں نہیں بن سکی؟ فوج اور حکومت کی اس حوالے سے رائے مختلف کیوں ہے؟ دو مجرموں کی سزائے موت پر عمل درآمد کو روکنے کے لیے نوٹیفکیشن کی ضرورت کیوں پیدا ہوئی اور سزائے موت پانے والے وہ دو افراد کون ہیں جن کی سزائوں پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔ یہ ایسے سوالات ہیں جس کا تعلق براہ راست دہشت گردی سے ہے اور میاں صاحب کا کہنا ہے کہ ''اس دہشت گردی کا خاتمہ چاہتا ہوں، مذاکرات سے ہو یا طاقت سے؟''