پشاور میں شکست کااندازہ تھا میانوالی میں دھچکا لگا عمران اسماعیل

کھوسہ برادران کے آپس میں مقابلے کی وجہ سے ہم سیٹ ہارے ہیں، ملک شکیل اعوان


Monitoring Desk August 24, 2013
ضمنی الیکشن نے ابہام دور کردیے،عاصمہ ارباب، ثمن جعفری، تکرار میں عمران خان سے گفتگو۔ فوٹو: فائل

تحریک انصاف کے رہنما عمران اسمٰعیل نے کہا ہے کہ این اے ون میں شکست کا اندازہ تھا اس کا دھچکا نہیں لیکن میانوالی کی شکست کا دھچکا ضرور ہے۔

عمران خان نے بڑے دل کے ساتھ غلام احمد بلور کو مبارکباد دی ہے۔ایکسپریس نیو زکے پروگرام تکرار میںمیزبان عمران خان سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ اوور آل پی ٹی آئی نے ضمنی انتخابات میں اچھی پرفارمنس دکھائی ہے۔عوام نے پی ٹی آئی اور ان سیاسی جماعتوں کو ووٹ دیا ہے جن کا اینٹی وار نعرہ تھا اور ہمارا نعرہ آج بھی وہی ہے ہماری پالیسی آج بھی وہی ہے۔اگلے 30 دن میں ہم حیران کن منصوبے لانے والے ہیں جن سے عوام کو فائدہ ہوگا میں تمام سیاستدانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ہمارے منصوبوں کو دیکھیں اور جہاںسمجھیں کہ بہتری کی گنجائش ہے ہمیں بتائیں۔کے پی کے میں ہم نے اپنے مینڈیٹ کے سر پر حکومت بنائی ہے عوام نے ہمیں ووٹ دیئے ہیں اگر ن لیگ وہاں حکومت بنانا چاہتی ہے تو جاکربنالے، پی ٹی آئی آج بھی کراچی کی بڑی سیاسی جماعت ہے ہم ایسا ہرگز نہیں سمجھتے کہ ایم کیو ایم کا کوئی مینڈیٹ نہیں ہے ۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما ملک شکیل اعوان نے کہا کہ سب جانتے ہیں کھوسہ برادری کا ووٹ تقسیم ہوا ہے،کھوسہ برادران کے آپس میں مقابلے کی وجہ سے ہم سیٹ ہارے ہیںہم اس کو تسلیم کرتے ہیں ہم نے کبھی قوم کو گمراہ نہیں کیا ۔دنیا میں کہیں بھی ایسی مثال نہیںملتی کہ صرف سودن میں ہی کسی سیاسی جماعت کا میک اپ اترگیا ہو، میں سمجھتا ہوں کے پی کے کے غیرت مند عوام نے پی ٹی آئی کو مستردکردیا ہے۔آج قوم موازنہ کررہی ہے پی ٹی آئی کے لئے لمحہ فکریہ ہے ان کے قائد کی دوسیٹیں چلی گئیں،اگر چاروں وزرائے اعلیٰ کی کارکردگی کاجائزہ لیا تو شہبازشریف سب سے بہتر پرفارم کررہے ہیں وہ روزانہ کئی گھنٹے کرپشن اور بجلی کی بحالی پر کام کر رہے ہیں۔



میڈیا نے عوام کو باشعور کردیا ہے آج سب کو پی ٹی ائی کی باتیں کھوکھلی لگتی ہیں،اگر ہم چاہتے تو کے پی کے اور بلوچستان میں ہماری حکومت ہوتی۔پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما عاصمہ ارباب عالمگیر نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں بہت سے ابہام دور ہوگئے ہیں کے پی کے کا کنٹرول پی ٹی آئی کے ہاتھ میں نہیںرہا یہ ایک صوبہ کنٹرول نہیں کر سکے تو پورا ملک کسطرح کنٹرول کریں گے، عمران خان بہت بڑی تبدیلی کی بات کرتے تھے تومیں سمجھتی ہوں کہ تبدیلی ڈھائی ماہ میں آگئی ہے عوام نے ان کو مستردکردیا ہے۔

میاں برادران اور عمران خان نے عوام سے جو وعدے کئے تھے ان کو پورانہیں کرسکے اور اس کاہی ردعمل ہے جس کا اظہار عوام نے کیا۔سیاست میں ہمیشہ سچائی کی جیت ہوتی ہے ہم نے پاکستان کی بقا کیلئے دھاندلی زدہ الیکشن کو بھی قبول کرلیا۔ایم کیو ایم کی رہنما ثمن جعفری نے کہا ہمیں پتہ تھا ضمنی انتخابات میں ہم جیت جائیںگے،جن کو ایم کیو ایم کے مینڈیٹ پر تحفظات تھے ان کو سمجھ جاناچاہئے، ایم کیو ایم کا مینڈیٹ ہے،آرمی کی موجودگی میں الیکشن ہوئے انہوں نے ہمارے ووٹرزکو روکا بھی لیکن پھر بھی ہم جیت گئے۔پی ٹی آئی نے جنرل الیکشن کے دوران بہت جارحانہ رویہ اپنائے رکھا اب ان کی ٹون میں خوشگوارتبدیلی آگئی ہے، شائد الیکشن کے نتائج اس کی وجہ ہیں۔