کے پی میں پی ٹی آئی کا ہارنا بہت بری خبر ہے ہارون الرشید

عوام نے تحریک انصاف کا طرزسیاست مستردکردیا،ابصارعالم،عملی سیاست کا فقدان ہے،ایاز اکبر


Monitoring Desk August 24, 2013
لوگوں کا انتخاب ٹھیک نہیں تھا،دھچکا ویک اپ کال ہے،شہزاد پراچہ کی لائیو ود طلعت میں گفتگو۔ فوٹو: فائل

تجزیہ کار ہارون الرشید نے کہا ہے کہ عمران خان کی پالیسی غلط نہیں فیصلے غلط ہوگئے ہیں، خیبرپختونخوا میں ہارنا دھچکا نہیں بہت بری خبر ہے۔

ایکسپریس نیوزکے پروگرام لائیو ود طلعت میں میزبان طلعت حسین سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ عمران خان کوبتا دیا گیا تھاکہ یہ امیدوارنہیں جیتیں گے لیکن چونکہ پرویزخٹک یہ فیصلہ کرچکے تھے اور پارٹی اندرونی طورپراختلافات کا بھی شکارتھی، جہاں تک کارکردگی کی بات ہے تو ن لیگ نے ابھی تک کوئی ایسی کارکردگی نہیں دکھائی جس کواس کی کامیابی سمجھا جائے، اگر پی ٹی آئی اب نہیں جاگے گی تو پھراس کی بساط لپیٹ دی جائیگی، پی ٹی آئی ضرورت سے زیادہ اعتماد کا شکارہوگئی۔



الیکشن کے بعد میں نے عمران خان سے کہاتھا کہ اب سندھ سے راستہ نکلتا ہے لیکن وہ کراچی نہیں گئے، اگرخدانخواستہ ن لیگ معاملات کوسنبھال نہ سکی تو مارشل لا آئے گا ، تجزیہ کارابصارعالم نے کہاکہ کے پی کے میں سیٹ ہارنا پی ٹی آئی کیلیے بڑادھچکا ہے،عوام نے اس کے طرز سیاست کو مستردکردیا ہے، ۔ تجزیہ کارایاز اکبر یوسفزئی نے کہا کہ پی ٹی آئی میں دھڑے بازی اسی روز ہوگئی تھی جب عمران خان نے پرویز خٹک کو وزیراعلیٰ بنایا تھا، پی ٹی آئی میں عملی سیاستکا بہت زیادہ فقدان ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخواکے ترجمان شہزاد پراچہ نے کہاکہ شکست کو تسلیم کرنا چاہیے،لوگوں کا انتخاب ٹھیک نہیں تھا، یہ دھچکا پی ٹی آئی کے لیے ویک اپ کال ہے۔