ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

امریکا نے ایران کے ساتھ جوہری ڈیل کا معاہدہ منسوخ کر دیا ہے جس سے دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔


Editorial May 09, 2019
امریکا نے ایران کے ساتھ جوہری ڈیل کا معاہدہ منسوخ کر دیا ہے جس سے دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ فوٹو:فائل

امریکا نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایک حملہ آور بحری جہاز اور بمبار طیارے مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کر دیے ہیں تا کہ ایران کو سبق سکھایا جا سکے۔ ادھر ایران نے امریکی اقدام کو نفسیاتی جنگ قرار دے رہا ہے اور ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران اس قسم کی نفسیاتی جنگ سے مرعوب نہیں ہو گا۔ یاد رہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ جوہری ڈیل کا معاہدہ منسوخ کر دیا ہے جس سے دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

تاہم ایران اپنے طور پر اس معاہدے سے باہر نہیں نکلنا چاہتا۔ امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا ہے کہ امریکا ابراہام لنکن طیارہ بردار بحری جہاز اور بمبار طیارے مشرق وسطیٰ بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے جس کا مقصد ایران کی طرف سے کسی ممکنہ خطرے کے پیش نظر تہران کو وارننگ دینا ہے تاہم ایران کی طرف سے امریکا کی اس ''سائکلوجیکل وار فیئر'' کو سختی کے ساتھ مسترد کر دیا گیا ہے۔

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ترجمان کیوان خسروی نے کہا ہے کہ امریکا کا طیارہ بردار جہاز بحیرہ روم میں کئی ہفتے پہلے کا پہنچ چکا ہے۔ امریکا کے قائم مقام وزیر دفاع پیٹرک شنہان نے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کی طرف سے ممکنہ خطرے کے پیش نظر امریکی جہازوں کو مناسب کارروائی کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں ۔

تاہم انھوں نے انٹیلی جنس کے ذرایع سے حاصل شدہ معلومات پر کوئی روشنی نہیں ڈالی۔ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ اگر امریکا خود کو اس علاقے میں محفوظ محسوس نہیں کرتا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ علاقے کے ممالک اسے پسند نہیں کرتے لیکن اگر امریکا ایران پر الزام تراشیاں کرتا رہا تو اس سے اس کی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ دریں اثناء سپریم ایرانی لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایک فوجی مشیر کے حوالے سے میڈیا نے خبر دی کہ امریکا نہ تو چاہتا ہے اور نہ ہی اہلیت رکھتا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر سکے۔

ایرانی بریگیڈئیر جنرل حسین دہقان نے کہا ہے کہ امریکا کے لیے ایران پر حملہ کے حوالے سے دنیا کو منانے کے لیے بہت زیادہ مشکل درپیش آئے گی اور اس کے لیے اس مقصد کی خاطر وسائل جمع کرنا ممکن نہ ہو گا۔ ایرانی اخبارات اور مبصرین نے امریکا کے اس اعلان کو ''بلف'' bluff قرار دیدیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ امریکا کی اس قسم کی دھمکیوں کے نتیجے میں ایرانی کرنسی کی قیمت ڈالر کے مقابلے میں بہت زیادہ گر گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اعلان کیا ہے کہ جو ملک ایرانی کرنسی کے ساتھ تجارت کرے گا اسے کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔

مقبول خبریں