بدعنوانی یہ بھی ہے
2013ء کے انتخابات میں مختلف سیاسی جماعتوں نے دھونس اور دھاندلی کے الزامات لگائے۔
زندگی یہی خواب دیکھتے گزری کہ ایک دن ایسا آئے گا جب ہمارے پچھڑے ہوئے طبقات اور بطور خاص ہماری عورت جو سماج میں بہت پسماندہ اور پسی ہوئی ہے، اس کے نصیب جاگیں گے اور وہ بھی انسان سمجھی جائے گی۔
2013ء کے انتخابات میں مختلف سیاسی جماعتوں نے دھونس اور دھاندلی کے الزامات لگائے۔ کئی حلقوں میں دوبارہ انتخابات کرانے کا پُرزور مطالبہ بھی کیا گیا لیکن ملک کے دور افتادہ شمالی علاقوں میں جہاں جہاں عورتوں کو ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم رکھا گیا، وہاں سے الیکشن میں حصہ لینے والی اہم قومی جماعتوں نے انتہا پسندوں کے اس رویے کے بارے میں آواز اٹھانے کی زحمت نہیں کی۔ یہ خبریں بھی آئیں کہ وہ قومی سیاسی جماعتوں جو شہروں میں عورتوں کے حقوق کی بات کرتی ہیں، انھوں نے شمالی علاقہ جات میں وہاں کے روایت پرست بااثر افراد اور مذہب کے نام پر عورتوں کے حقوق کا استحصال کرنے والوں سے یہ غیر تحریری معاہدہ کیا کہ ان علاقوں میں عورتوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
یہ ایک افسوس ناک رویہ تھا اور اس بارے میں 2013ء کے انتخابات سے پہلے اور نتائج آنے کے بعد حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں، عورتوں کی انجمنوں اور انفرادی سطح پر متعدد خواتین نے سخت احتجاج کیا۔ اس غیر جمہوری رویے کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کا خیال تھا کہ ضمنی انتخابات میں الیکشن کمیشن آف پاکستان اور سیاسی جماعتیں سب ہی اس بارے میں سخت موقف اختیار کریں گی لیکن یہ آرزو دل کی دل میں رہی۔
پاکستانی ریاست کے قیام کی تحریک میں عورتوں کو بھی شریک کیا گیا تھا۔ اس بارے میں مسلم لیگ کے بیشتر رہنمائوں نے ان کے سیاسی اور سماجی حقوق کے بارے میں بہت سی خوش آئند تقریریں کی تھیں۔ محترمہ فاطمہ جناح، بیگم رعنا لیاقت علی، محترمہ شائستہ اکرام اﷲ سہروردی اور متعدد خواتین تحریک آزادی میں پیش پیش تھیں لیکن پاکستان بن جانے کے بعد عورتوں کی آزادی اور برابری کے خواب، سراب ثابت ہوئے۔ فوجی آمریتوں کا آغاز ہوا تو عورتوں کی سیاسی جدوجہد پس پشت چلی گئی اور جنرل ضیاء الحق نے اسلام کے نام پر عورتوں کا جس طرح استحصال کیا اس نے انھیں تعلیم اور سماجی ترقی کی جدوجہد میں بہت پیچھے دھکیل دیا۔
آج انتہا پسند عناصر اگر پاکستانی عورت کی جدوجہد کو بغاوت، سرکشی اور بے باکی سے تعبیر کرتے ہیں اور محترمہ فاطمہ جناح سے محترمہ بینظیر بھٹو تک کبھی خاتون سربراہ مملکت کے مسئلہ کو ' اسلام خطرے میں ہے' کے نعرے سے جوڑتے ہیں تو اس لیے کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوری جدوجہد سے اور انسانی حقوق کی جنگ سے پاکستان کی نصف سے زیادہ آبادی کو علیحدہ رکھا جا سکے۔ وہ پاکستانی عورت کی طاقت سے آگاہ ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ فوجی آمریت کے زمانے میں یہاں کی عورت جمہوری تحریک کا ہراول دستہ ثابت ہوئی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ پاکستانی عورتوں نے فوجی آمریت سے اور رجعت پرستوں سے ہر سطح پر وہ لڑائی لڑی ہے جسے زندگی اور موت کی لڑائی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
آج کی پاکستانی عورت کی جدوجہد مرد کی روایتی بالادستی کے خلاف احتجاج نہیں۔ یہ محض اپنے لیے چند مراعات کے حصول کی جنگ بھی نہیں۔ اس کی حقیقی جدوجہد طبقاتی سماج کے خلاف ہے اور پاکستانی عوام کی عمومی جدوجہد سے جڑی ہوئی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ جب تک طبقاتی کشمکش سے نجات اور معاشی آزادی کو انسان کے وجود کی بنیاد نہیں بنایا جاتا اس وقت تک ذہنی یا سیاسی بیداری محض خواب کی باتیں ہیں اور وہ یہ بھی جانتی ہے کہ کسی بھی مستحکم اور مضبوط جمہوریت کی گفتگو کرنا اس وقت تک بے معنی ہے جب تک کہ سیاسی اور سماجی زندگی میں عورت اور مرد مساوی سطح پر شریک نہ ہوں۔
ضمنی انتخابات کے نتائج کے فوراً بعد مولانا فضل الرحمٰن نے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا کہ این اے 27 اور این اے 5 کے نتائج روک لیے جائیں۔ مولانا صاحب کا کہنا تھا کہ صرف ان پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج روکے جائیں جہاں سرے سے ووٹ نہیں ڈالے گئے۔ انھوں نے کہا کہ مقامی روایات، اسلام کے اصولوں سے متصادم ہیں اس لیے مذہبی جماعتوں پر عورتوں کے حقوق سلب کرنے کا الزام محض اسلام کو بدنام کرنا ہے۔ ادھر الیکشن کمیشن نے نوشہرہ اور میانوالی میں خواتین پر ووٹ ڈالنے کی غیر اعلانیہ پابندی کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ تمام پولنگ افسر خواتین کا الگ ریکارڈ مرتب کریں، خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے والے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
18 پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ ووٹ ڈالے جائیں گے۔ خیبرپختونخوا اور میانوالی کے بعض علاقوں میں مقامی عمائدین کی طرف سے تمام جماعتوں کے اتفاق رائے سے خواتین کے ووٹ ڈالنے پر غیر اعلانیہ پابندی لگا دی گئی تھی جس کا الیکشن کمیشن نے نوٹس لیتے ہوئے تمام پولنگ آفیسر کو خواتین کا الگ ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت کر دی ہے اور کہا ہے کہ خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم رکھنا غیر آئینی ہے، پریذائیڈنگ افسر خواتین کے ووٹوں کی علیحدہ گنتی کریں گے جس سے پتہ چل جائے گا کہ کتنی خواتین نے ووٹ ڈالا ہے۔
اس سے قبل نوشہرہ کے بعض علاقوں میں علما اور مقامی قبائلی مشیروں اور سیاسی جماعتوں کے مقامی رہنمائوں کے درمیان معاہدہ ہوا تھا کہ خواتین ووٹ نہیں ڈالیں گی۔ دوسری جانب میانوالی این اے 71 کے مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر بھی خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا۔ الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ این اے 5 اور این اے 27 کے اُن 9 پولنگ اسٹیشنوں پر جہاں خواتین کو ووٹ نہیں ڈالنے دیے گئے وہاں دوبارہ پولنگ ہو گی۔ ادھر چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس دوست محمد خان نے لکی مروت نوشہرہ اور مردان میں خواتین کو پولنگ سے روکنے پر نوٹس لے لیا اور الیکشن کمیشن اور ڈسٹرکٹ ریٹرنگ افسروں کو خواتین کے لیے پولنگ یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
ہمیں انتہاپسندوں کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ انھوں نے ضمنی انتخابات کے انعقاد سے پہلے ہی اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کر دیا تھا۔ انھوں نے یہ بات کسی ہچکچاہٹ کے بغیر کہی تھی کہ جمہوریت ایک کافرانہ نظام ہے۔ ہم اسے تسلیم نہیں کرتے۔ ہنگو اور آس پاس کے علاقوں میں یہ پمفلٹ آزادانہ تقسیم کیے گئے کہ انتخابی عمل میں حصہ لینے والے مردوں کو گولی مار دی جائے گی اور عورتوں کو اغوا کرنے کے بعد انھیں ذبح کر دیا جائے گا۔ ان علاقوں میں مردوں نے انتخابات میں حصہ لیا، انھیں گولی نہیں ماری گئی لیکن عورتوں کو اس روز گھر سے باہر آنے کی اجازت نہیں تھی۔
اس غیر جمہوری رویے کے خلاف انسانی حقوق کی انجمنوں، صحافیوں اور بعض خواتین نے آواز بلند کی تو ان کے ساتھ ہی مذہبی و سیاسی رہنمائوں اور خواتین حقوق کی تنظیموں نے کئی علاقوں میں خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کے عمل کی شدید مذمت کی ۔
الیکشن کمیشن کے یہ اقدامات خوش آئند ہیں لیکن یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب عورتوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کی خبریں اخباروں میں شائع ہو رہی تھیں تو اس وقت الیکشن کمیشن نے عورتوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والے اشتعال انگیز بیانات کا نوٹس کیوں نہیں لیا اور ان علاقوں میں سول انتظامیہ کو اس بات کا پابند کیوں نہیں کیا کہ وہ ان لوگوں کی روک تھام کریں جو اس نوعیت کے بیانات دینے کے لیے آزاد ہیں۔
دوسرا سوال قومی سیاسی جماعتوں سے کیا جانا چاہیے کہ ان کے دو چہرے کیوں ہیں؟ میانوالی جو تحریک انصاف کے سربراہ کا آبائی حلقہ کہلاتا ہے اور نوشہرہ اور دوسرے علاقے جہاں انصاف اور جمہوریت کا سونامی آنے کی باتیں ہورہی تھیں، وہاں خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے والوں کو اپنی عورتوں اور ان کے سیاسی اور جمہوری حقوق کا خیال کیوں نہیں آیا؟ اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ان علاقوں میں انتخابات لڑنے والے اپنے سیاسی رہنمائوں اور کارکنوں کی یہ تربیت کیوں نہیں کی کہ وہ مقامی روایات اور غیرت کے نام پر اپنی عورتوں کا استحصال کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔
اس وقت وہ تمام سیاسی جماعتوں جنھوں نے انتخابات جیتے، قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پہنچیں، ان پر آنے والے دنوں میں دبائو بنانے کی ضرورت ہے کہ وہ اگر جمہوریت کا نام لے کر اقتدار میں آتی ہیں تو یہ ان کا فرض ہے کہ وہ اس اقتدار میں شراکت اور شمولیت کے لیے عورتوں اور پچھڑے ہوئے تمام طبقات کو جمہوری جدوجہد کے مرکزی دھارے میں لائیں۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کو اس بارے میں غور کرنا چاہیے کہ بدعنوانی صرف یہی نہیں کہ رشوتیں لی جائیں اور مالیاتی ہیر پھیر کیا جائے۔ بدعنوانی یہ بھی ہے کہ عورتوں کو اور غیر مسلم پاکستانیوں کو ان کے بنیادی انسانی اور جمہوری حقوق سے محروم رکھا جائے۔