جاوید فاضل نے پہلی فلم 1977ء میں ڈائریکٹ کی

محمد جاوید نے پہلے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر کام کیا ،35سالہ کیرئیر میں 25فلمیں بنائیں


Cultural Reporter August 25, 2013
محمد جاوید فاضل کا شمار فلم انڈسٹری کے تعلیم یافتہ اور باصلاحیت ڈائریکٹرز میں ہوتا ہے۔ فوٹو: فائل

محمد جاوید فاضل کا شمار فلم انڈسٹری کے تعلیم یافتہ اور باصلاحیت ڈائریکٹرز میں ہوتا ہے۔ جس دور میں انھوں نے فلم انڈسٹری میں قدم رکھا ، وہ فلم انڈسٹری کے عروج کا دور تھا۔

اس زمانے میں چوٹی کے ہدایتکار کام کر رہے تھے۔محمد جاوید فاضل کو اس وقت کے نامور ہدایتکار قدیر غوری کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جن کے ساتھ1962ء میں ان کی فلم ''دامن'' سے بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔ ان کے ساتھ دوسال کے عرصہ میں 5فلمیں اسسٹنٹ کیں اور پھر ایس سلیمان کے ساتھ کام شروع کردیا ۔ہدایتکار ایس سلیمان کے ساتھ انھوں نے 12سے زیادہ فلموں میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کام کیا ۔ 1977ء میں انھوں نے بطور ہدایت کا ر پہلی فلم''میرے جیون ساتھی'' کا آغاز کیا جسکی پروڈیوسر اداکارہ دیبا تھیں جس میں وحید مراد ہیرو کا کردار کر رہے تھے ،یہ فلم بعض ناگزیر وجوہات کی بناء پر ریلیز نہ ہوسکی البتہ بطور ڈائریکٹر فلم ''گونج'' ریلیز ہونے والی پہلی فلم تھی،گو کہ اسے بہت زیادہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی،لیکن جاوید فاضل ایک مستند ڈائریکٹر کی حیثیت سے فلم انڈسٹری میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے ۔

اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی تھی کہ جاوید فاضل ایک اصول پسند انسان تھے اگر کوئی بات ان کے مزاج کے خلاف ہوتی تو وہ اسے مسترد کردیتے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ میںاپنی مرضی سے کام کرنا چاہتا ہوں کیونکہ میں ہی اس کا جواب دہ بھی ہوں گا،یہی وجہ تھی کہ کوئی بھی فلم پروڈیوسر جب انھیں اپنی فلم کے لیے سائن کرتا تھا تو اسے اس بات کا اندازہ ضرور ہوتا کہ جاوید فاضل کام میں کوئی مداخلت برداشت نہیں کرتے۔جاوید فاضل نے اپنی35سالہ فلمی کیرئیر میں صرف25فلمیں بنائیں،اور ان میں بیشتر وہ فلمیں ہیں جنھوں نے باکس آفس پر کامیابی حاصل کی۔ ان میں ''صائمہ''، ''لازوال''، ''ناراض''، ''حساب''، ''فیصلہ''، ''ہم سے ہے زمانہ''، ،''کندن''،''دھند''،'' آگ ہی آگ''،''آہٹ''، ''دشمنوں کے دشمن''،''دنیا دس نمبری''،'' زمانہ''، ''الزام''، ''مس قلو پطرہ''، ''بازار حسن''، ''بلندی''، ''دہلیز''، ''استادوں کے استاد''،''ضد'' اور ان کی آخری فلم''ایک دن کے لوٹ کے آئوں گا'' قابل ذکر ہیں۔ انھیں یہ بھی منفرد اعزاز حاصل تھا کہ ان کی ''دہلیز''، ''فیصلہ'' ،''بازار حسن'' ،''لازوال'' ، ''ضد'' اور ''آہٹ '' فلمیں بھارت میں کاپی کی گئیں۔



جن میں ''دہلیز'' کو بھارت میں ''اونچے لوگ''کے نام سے بنائی گئی تھی جس میں اداکار ندیم اور شبنم کے کردار بھارتی اداکار راجیش کھنہ اور سلمیٰ آغا نے نبھائے تھے۔1998ء میں انھوں نے یہ کہہ کر فلم انڈسٹری سے کنارہ کشی اختیار کرلی کہ میں جاہلوں اور منافقوں کے ساتھ کام نہیں کرسکتا۔ اس کے بعد انھوں نے پروڈیوسر محمد نفیس کے لیے ''گھر ، گلیاں ، راستے'' جیسا کامیاب ٹی وی سیریل بنایا۔ اس کے بعد انھوں نے آفرین بیگ کے لیے ''چاندنی راتیں'' کیا۔ جس کے بعد ان کا شمار ٹی وی کے مستند ڈائریکٹرز میں ہونے لگا۔2007ء میں پروڈیوسر شعیب عالم کی فلم ''میں اک دن لوٹ کر آئوں گا'' کی ڈائریکشن دینے پر رضامند ہوگئے جس میں انھوں نے دوبھارتی ٹی وی اداکارائوں کے مقابل اداکار ہمایوں سعید کو بطور ہیرو سائن کیا۔ اس فلم کی پروسیسنگ اور عکسبندی بھارت میں کی گئی، جو پہلی پاکستانی فلم ہے جس کی عکسبندی اورپروسیسنگ بھارت میں کی گئی۔

یہ فلم باکس آفس پر کامیابی حاصل نہ کرسکی اس کے بعد دوبارہ سے انھوں نے ٹی وی ڈرامہ سیریلز ہی کرنے لگے۔ انھوں نے زیادہ تر ایورنیو انٹریٹمنٹ ادارے کے لیے کام کیا جب کہ آخری دنوں میں وہ ہمایوں سعید کی پروڈکشن کے لیے کام کر رہے تھے۔ وہ نیشنل ایوارڈ ، گریجوایٹ ایوارڈ،بولان سمیت دیگر ایوارڈ جیت چکے ہیں، لیکن ان کی گراں قدر فنی خدمات پر پرائیڈ آف پرفارمنس نہ مل سکا، جس کے وہ صحیح معنوں میں حق دار بھی تھے۔ انھوںنے اپنے 73سالہ کیرئیر کے دوران کبھی بھی اپنے کام سے کمپرومائز نہیں کیا۔ وہ اداکارہ وہدایتکار شمیم آراء کے بہنوئی تھے جن کی چھوٹی بہن ان کی بیوی تھیں جن سے ان کے تین بیٹے عدنان ، شان ، نومی اور ایک بیٹی ہے۔29دسمبر 2010ء کو ہمیں چھوڑ کر چلے گئے اور اپنی پیچھے بے شمار یادیں چھوڑ گئے ۔

مقبول خبریں