این ای ڈی نے اسکالرشپ کیلیے اساتذہ کو اہلخانہ کے ہمراہ بھیج دیا گرانٹ کی رقم ختم

اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی پی ایچ ڈی کیلیے دی گئی گرانٹ قواعدکےبرعکس خرچ کردی گئی،اسکالر اہلخانہ کے ہمراہ بیرون ملک چلے گئے


Safdar Rizvi August 26, 2013
گرانٹ ختم ہونے سے40 سے زائد اسکالر اعلیٰ تعلیم کیلیے نہ جاسکے،معاملہ پرانا ہے پروجیکٹ ڈائریکٹر ہی بہتر بتاسکتے ہیں،وائس چانسلر۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی اسکالر شپ گرانٹ میں بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے.

اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی جانب سے بیرو ن ملک پی ایچ ڈی کے لیے بھیجی گئی کروڑوں روپے کی مالی گرانٹ قواعد کے برعکس خرچ کی گئی ہے، ایچ ای سی نے گرانٹ یونیورسٹی کے فیکلٹی اراکین کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک کی جامعات بھجوانے کیلیے دی تھی جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے فیکلٹی اراکین کو اہل خانہ کے ہمراہ بیرون ملک بھجوادیا ہے، این ای ڈی فیکلٹی اراکین کی اعلیٰ تعلیم کیلیے یہ گرانٹ ڈیولپمنٹ پراجیکٹ کے طور پر بھیجی گئی تھی، اس حوالے سے اساتذہ کو پی ایچ ڈی کیلیے بھجوانے کی ذمے داری پی وی سی ون انجینئر مظفر محمود کی تھی، منصوبے کے تحت 122 اساتذہ کو پی ایچ ڈی کے لیے جانا تھا اس وقت تک 40 سے زائد اساتذہ اعلیٰ تعلیم کیلیے نہیں جاسکے ہیں۔



ذرائع کے مطابق اب منصوبے میں اتنی رقم نہیں بچی ہے کہ اساتذہ کی مطلوبہ تعداد پی ایچ ڈی کرسکے،این ای ڈی نے ایچ ای سی کو بھجوائے گئے پی سی ون میں فی اسکالر70 لاکھ روپے مانگے تھے جس میں ہر اسکالر کے لیے بیرون ملک ماہانہ اخراجات کیلیے مخصوص رقم طے تھی جسے ایچ ای سی نے منظور کیا تھا، بعدازاں این ای ڈی انتظامیہ نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے اسکالرز کو خاندان کے ہمراہ اعلیٰ تعلیم کیلیے جانے پر رقوم کی حد بڑھادی۔

ذرائع کے مطابق بیرون ملک جانے والے اسکالرزکی مجموعی تعدادکے50 فیصدکو گرانٹ کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے اہل خانہ کے ہمراہ بھجوادیا گیا جس کے سبب اسکالرزکی مطلوبہ تعدادکو بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے بھجوانے کا ہدف پورا نہیں ہوسکا، حال ہی میں ایچ ای سی کی مانیٹرنگ ٹیم یونیورسٹی کے ترقیاتی منصوبوں کی جانچ کے لیے آئی تو معاملے کا انکشاف ہوا، جب اس معاملے پریونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر افضل الحق سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ پرانا معاملہ ہے اس بارے میں پروجیکٹ انچارج پی وی سی ون ڈاکٹر مظفر محمود بہتر بتاسکتے ہیں ڈاکٹر مظفر محمود سے رابطے کی کوشش کی گئی تاہم رابطہ ممکن نہیں ہوسکا۔

مقبول خبریں