چاند کا حجم سکڑ رہا ہے ناسا کی نئی تحقیق

چاند پر زلزلے بھی اکثر و بیشتر آتے رہتے ہیں جو چاند کے حجم کو کم کرنے کی وجہ بنتے ہیں۔


Editorial May 16, 2019
چاند پر زلزلے بھی اکثر و بیشتر آتے رہتے ہیں جو چاند کے حجم کو کم کرنے کی وجہ بنتے ہیں۔ فوٹو: فائل

چاند سورج اور ستارے ابتدائے آفرینش سے ہی انسان کے مطالعے میں ہیں۔ ستاروں پر گہری توجہ نے ستاروں سے مسافرت کی رہنمائی معلوم کرنے کے اصول وضع کرائے، جب کہ چاند اپنی بڑھتی، کم ہوتی جسامت کی بنا پر ماہانہ تقویم کی سائنس کی تشکیل کا موجب بنا اور سورج اپنی تیز حدت اور عالم کو بقہ نور بنانے کی وجہ سے کئی اقوام میں دیوتا کا درجہ اختیار کر گیا۔

لیکن چاند کو دیکھ کر آہیں بھرنے والے ہمارے شاعر حضرات اس وقت ورطہ حیرت میں مبتلا ہو گئے جب جان ایف کینیڈی کے دور صدارت میں امریکا نے کالعدم سوویت روس کے تتبع میں چاند پر کمند ڈالنے کے لیے نہ صرف یہ کہ انسان بردار راکٹ چاند پر روانہ کر دیا بلکہ آرم اسٹرانگ نامی اپنے خلانورد کے چاند پر اتر جانے کا دعویٰ بھی کر دیا، حالانکہ اس دعوے کے ابطال کے لیے آج تک مقالے تحریر کیے جا رہے ہیں۔ لیکن چاند کے موضوع پر شاعری آج بھی جاری ہے یعنی ابن انشاء کی مشہور نظم کہ :

کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا تیرا

کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ تیرا

فلکیات کے ماہرین نے تازہ انکشاف یہ کیا ہے کہ گہری نظروں سے جائزہ لینے پر محسوس ہوا ہے کہ چاند کا حجم پہلے کی نسبت سکڑ رہا ہے جس کا ایک ثبوت تو چاند کی سطح پر پڑنے والی جھریاں ہیں اور دوسرا یہ کہ چاند پر زلزلے بھی اکثر و بیشتر آتے رہتے ہیں جو چاند کے حجم کو کم کرنے کی وجہ بنتے ہیں۔

یہ نتائج ناسا کے ذیلی ادارے ایل آر او یا لیونر ری کونسز آربٹر نے بتائے ہیںجو چاند کی سطح کا بغور مطالعہ کرتا رہتا ہے۔ یہ نتیجہ چاند کے بارہ ہزار سے زائد امیجز(تصاویر، نقشوں وغیرہ) کے گہری نگاہوں سے جائزے کے بعد اخذ کیا گیا۔

تحقیق کے مطابق چاند پر ہماری زمین کے برعکس ٹیک ٹونک پلیٹسں(tectonic plates) نہیں ہیں بلکہ اس کی حرارت ویسے ہی خارج ہوتی رہتی ہے جس کی وجہ سے اس کا حجم سکڑتا رہتا ہے۔ سائنسدانوں نے چاند کی پیدائش کا اندازہ 4.5 ارب سال قبل کا لگایا ہے اسی وجہ سے اس کی سطح سکڑتی ہے جس طرح انگور کا دانہ حرارت پہنچانے سے سکڑتا ہے اور اس کی جلد پر جھریاں پڑ جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق خلا نوردوں نے پہلی مرتبہ چاند کے حجم کی پیمائش 1960ء اور 1970ء کے عشرے میں کی تھی۔ چاند پر جانے والے امریکی خلا ئی راکٹ اپالو کے خلا نوردوں نے بھی چاند کی سطح کی پیمائش کی تھی۔اب دیکھنا یہ ہے کہ چاند کے حجم سکڑنے سے نظام کائنات پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

مقبول خبریں