بچوں میں کھلونا ہتھیاروں کا استعمال خطرناک رجحان ہے ماہرین

کھلونا ہتھیار اور پر تشدوڈیو گیمز بچوں میں تشدد ابھارتے اورذہنوں پرمضراثرات ڈالتے ہیں


APP August 26, 2013
بچوں کو ایسی چیزوں سے دور رکھا جائے تو آئندہ نسلوں کو ہتھیاروں کی لعنت سے بچایا جاسکتا ہے. فوٹو: فائل

ISLAMABAD: ہمارے ہاں بچوں کے ہاتھوں میں بڑی تیزی سے کلاشنکوف اورآٹومیٹک پستول نماکھلونے کا استعمال بڑھ رہاہے جوخطرناک رجحان ہے۔

عیدالفطر پر لاہور کے شاہ عالم مارکیٹ کے باڑہ مارکیٹ اورپشاور کے دکانداروں نے پنجاب سمیت ملک کے دیگر حصوں میں کروڑوں روپے کے اسلحہ نماکھلونو ں کی تجارت کی جبکہ چین سے بھی بڑے پیمانے پر کلاشنکوف او رآٹو میٹک پستول نماکھلونے اور پرتشدد وڈیو گیم کی سی ڈیزدرآمد ہوتی ہیں۔



ماہرین نفسیات کے مطابق اسلحے سے مشابہت کے کھلونے اور توڑ پھوڑقتل و غارت گری پرمبنی وڈیو گیم بچوں میں تشدد کا عنصر اُبھارتے ہیں،یہ بچوں کے ذہنوں پرانتہائی مضر اثرات مرتب کرتے ہیں ۔ماہرین نفسیات کا کہناہے کہ غیرسرکاری تنظیموں کو چا ہیے کہ وہ عام گلی محلوں میں بچوں میں بڑی تیزی سے کلاشنکوف اور پستول نما کھلونے کے بڑھتے ہوئے استعمال کے خلاف مہم شروع کریں۔