معاشی ستم ظریفیوں کا موسم

معاشی ناخداؤں کی صائب اور درست اقتصادی حکت عملی ہی ملک کو معاشی تباہی سے بچا سکتی ہے۔


Editorial May 19, 2019
معاشی ناخداؤں کی صائب اور درست اقتصادی حکت عملی ہی ملک کو معاشی تباہی سے بچا سکتی ہے۔ فوٹو: فائل

یہ بلاشبہ ایک حیران کن معمہ ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ کے ساتھ ہی ملکی معاشی صورتحال کو نئے دھچکوں کا سامنا ہے، بہتری اور استحکام کے آثار نمایاں ہونے اور عوامی ریلیف کے بجائے بے یقینی کے سائے بڑھتے جا رہے ہیں جب کہ معاشی مبصرین اور اپوزیشن کے تنقید میں بھی شدت کا عنصر غیر معمولی ہوتا جا رہا ہے، ادھر حکومت کی اقتصادی گرداب سے نکلنے کی تدبیریں بھی کچھ کام نہیں آ رہیں، الٹا پالیسیاں بیک فائر کرنے کا ہر امکان دوچند کر رہی ہیں۔

ماہرین اقتصادیات نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ بگڑتی صورتحال کا دانشمندی، معاشی وژن سے حل نہ نکالا گیا ، سیاسی کشیدگی اور مہنگائی نہ روکی گئی تو معیشت کی چاک گریبانی حکومت کے گلے پڑ جائے گی۔

ان خطرات و اندیشوں کی بنیاد آئے دن مارکیٹ میں گردش کرنے والی افواہیں اور نئے معاشی مشیران اور اقتصادی معاونین کے اقدامات کا تسلسل ہے جس کو کنٹرول کرنے کے بجائے عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کی حکمت عملی تشویش کی حدوں کو چھو رہی ہے، جس کی ایک مثال یہ ہے کہ انٹربینک اور اوپن کرنسی مارکیٹ میں جمعہ کو بھی ڈالر کی اونچی اڑان برقرار رہی ہے اوراوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 4 روپے کے اضافے سے151روپے کے ساتھ تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر بند ہوئی۔

یعنی حکومتی معاشی ماہرین کوئی ہنگامی بند نہ باندھ سکے دوسری جانب انٹر بینک مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیوں کے آغاز کے ساتھ ڈالر کی قدر 2 روپے98 پیسے کے اضافے سے 149روپے50 پیسے کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی۔ تاہم کاروبار کے اختتام پرڈالر کے انٹربینک ریٹ ایک روپے35 پیسے کے اضافے سے147 روپے87 پیسے پر بند ہوئے ۔سونے کی قیمت عالمی مارکیٹ میں فی اونس 10 ڈالر کم ہونیکے باوجود مقامی مارکیٹ میں 400 روپے فی تولہ بڑھ کر ملکی تاریخ میں 72 ہزار 100روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

ڈالر کی قدر میں کمی، اسٹیٹ بینک کی جانب سے مقررہ تاریخ سے10 روز قبل ہی نئی مانیٹری پالیسی کے اعلان اور بروکریج ہاؤسز کی جانب سے نئی مانیٹری پالیسی کے تحت ڈسکاؤنٹ ریٹ میں100 تا 200 بیسز پوائنٹس اضافے کی پیشگوئی نے پاکستان اسٹاک ایکس چینج کی سرگرمیوں پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب کیے۔ جمعہ کو مارکیٹ بدترین مندی سے دوچار ہوئی جس سے 100 انڈیکس کی9 حدیں بیک وقت گرگئیں۔

مندی کے سبب87 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جب کہ سرمایہ کاروں کو مزید ایک کھرب33 ارب 67 کروڑ 54 لاکھ 89 ہزار152 روپے کا نقصان ہوا۔ روپے کی قدر میں کمی نے سرمایہ کاروں کی غیریقینی کیفیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ سرمایہ کار روپے کی تسلسل سے گراوٹ سے خائف ہیں کیونکہ ڈالر کی قدر میں اضافے سے اسٹاک مارکیٹ میں لسٹڈ کمپنیوں کی پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے جس سے آنے والے دنوں میں ان کا منافع بری طرح متاثر ہو گا اور سرمایہ کاروں کی اسٹاک مارکیٹ میں دلچسپی گھٹ جائے گی اور کاروباری حجم بھی انتہائی محدود ہو سکتا ہے۔

ملک کے متوشش معاشی اور تجارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت ٹھوس اقتصادی ماسٹر پلان اور کسی واضح اور کرسٹل کلیئر روڈ میپ کے بغیر کیسے صورتحال پر قابو پا سکے گی جب کہ اداروں کے مابین رابطہ کا فقدان ہے، وزرا کو بیان بازی سے فرصت نہیں ، وزیراعظم عمران خان پر دباؤ غیر معمولی ہے، وہ اس بحران سے نکلنے کے لیے اجلاسوں ، کمیٹیوں کی کارکردگی رپورٹوں کے جائزے اور نئے منصوبوں کے افتتاح یا ان کی نقاب کشائی اور جلسوں کے تسلسل میں مصروف ہیں لیکن معاشی عوامل پر توجہ کم نظر آ رہی ہے، مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ تبدیلی کے مثبت اثرات یا آئی ایم ایف ڈیل کے ٹریکل ڈاؤن ثمرات کا دور دور تک پتا نہیں، ان میں مایوسی بڑھ رہی ہے، ملک بھر میں روزہ داروں کے تاثرات اور احساسات پر مبنی ٹی وی نیوز آتی ہیں، اپوزیشن پر پی ٹی آئی رہنماؤں کے کثیر جہتی الزامات کا شور بپا ہے، عدالتی کارروائیوں اور نیپ کے ریفرنسز میں تیزی آئی ہے، اپوزیشن معتوب ہے کہ اسے ملکی معیشت کے سدھار سے کوئی دلچسپی نہیں، پی پی اور ن لیگ رہنما جیل یاترا سے بچنے اور اپنے مقدمات سے نجات پانے کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

ادھر حکومت کی طرف سے زمینی حقائق اور عوام کے جذبات اور ان کی بے بسی کو محسوس کرنے میں سیاسی بصیرت کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا ، ہاں البتہ وزراء اور مشیران کے رعونت بھرے تبصرے جاری، مگر غربت زدہ نچلے طبقات کی معاشی بدحالی کے بنیادی اسباب اور اپنے غلط تاثرات و افکار پر نظر ثانی پر کوئی بھی آمادہ نہیں، ایک بنیادی مغالطہ جس نے حکومتی اقتصادی مشینری کو بے سمتی کی نذر کر دیا ہے یہ perception ہے کہ عوام کا حافظہ کمزور ہے، اسے ملکی معاشی مسائل کا کوئی ادراک نہیں ، انھیں تو ریلیف اور سہولتیں درکار ہیں۔

مگر سچ تو یہ ہے کہ پی ٹی آئی حکومت اور اس کے بزرجمہروں نے ان آٹھ نو مہینوں میں وقت اور حکومتی اقدامات اور مثبت معاشی نتائج کا جو اعمال نامہ قوم کے سامنے پیش کیا ہے وہ خود ملکی اقتصادی سفینہ کے بیچ منجھدار میں جانے کی پھرپور عکاسی کر رہا ہے، اس کی کسی کو وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام تو آج بھی منتظر ہیں کہ حکومت کی معاشیٹیم کچھ کر کے دکھائے، یہ الگ بات ہے کہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے سامنے لیٹ گیا، جب کہ حکومت کہتی ہے ڈالر کے اتار چڑھاؤ پر تبصرہ کرنے والوں نے ہی معیشت لہو لہان کی؎

خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا لکھئے

ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہئے

مگر پھر بھی حالات کے سنورنے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ بہر حال وقت آگیا ہے کہ حزب اقتدار اس حقیقت کا جلد ادراک کرے کہ معاشی ناخداؤں کی صائب اور درست اقتصادی حکت عملی ہی ملک کو معاشی تباہی سے بچا سکتی ہے، اس کے ساتھ اس انداز نظر کو بھی دفن کرنا چاہیے کہ 22 کروڑ عوام سوچنے اور قوم کو درپیش مشکل صورتحال کا کوئی حل تلاش کرنے سے دلچسپی نہیں رکھتے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ وطن عزیز میں ہزاروں جوہر قابل اور اقتصادی وژن رکھنے والے انتہائی اعلیٰ تعلیمی اہلیت رکھنے والے حالات کی ستم ظریفیوں پر آنسو بہاتے ہیں اور پاور پالیٹکس کی دشور گزار راہوں پر انھیں چلنے کی سہولت دینے کا کوئی نظام نہیں۔

سیاست میں فرد کا کرادر ہمارے نظام فکر میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا، کیونکہ اجارہ داری کے افسوس ناک نظام نے عام شہری کو ریاستی امور میں شرکت کے حق سے محروم کر رکھا ہے، وہ بس ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم جیسی صورتحال سے دوچار ہے۔

سوال یہ ہے کہ اوگرا نے گیس کی قیمتیں 47 فیصد بڑھانے کی سفارش قوم کے معاشی نجات دہندہ کے طور پر کی ہے، کیا کابینہ اس فیصلہ کو ردکرے یا اس کی مننطوری دے ، آخر عوام کا کیا بنے گا جو پہلے ہی گیس اور بجلی بموں کے گرائے جانے سے نڈھال ہیں، ٹھیک ہے وزیراعظم کو بریفنگ ملی کہ تھر کوئلے سے توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی مگر اس وقت معاشی افق پر مطلع ابر آلود ہے، معیشت کی کوئی کل سیدھی نہیں، ملک کا کاروباری طبقہ شدید اضطراب میں مبتلا ہے، سرمایہ کار سہمے ہوئے ہیں، حکومت اربوں کی لوٹی دولت کے ڈھول بجا بجا کر ایک سماں تو باندھ چکی مگر وہ ''گمشدہ دولت'' ہے کہاں۔

حقیقت اتنی تلخ ہے کہ عوام آدمی تبدیلی کے لفظ سے بدکتا ہے، اس کے چہرے کا رنگ بدلتا ہے، لفظ تبدیلی مذاق کا استعارہ بن چکا ہے۔ کیا اس کا ادراک کرنے کی پی ٹی آئی کے پارلیمنٹیرینز کی ذمے داری نہیں۔ کب الزام تراشی، بہتان طرازی اور کردار کشی کا کھیل اپنے اختتام کو پہنچے گا۔ کوئی جواب تو دے۔

 

مقبول خبریں