ٹریفک حادثات اور الم ناک واقعات میں ہلاکتیں

ٹریفک حادثات اور الم ناک واقعات میں افسوسناک اور دردانگیز اموات کا سلسلہ جاری ہے۔


Editorial May 21, 2019
ٹریفک حادثات اور الم ناک واقعات میں افسوسناک اور دردانگیز اموات کا سلسلہ جاری ہے۔ فوٹو : فائل

ٹریفک حادثات اور الم ناک واقعات میں افسوسناک اور دردانگیز اموات کا سلسلہ جاری ہے۔تفصیلات کے مطابق شکارپور میں دو کاروں میں خوفناک تصادم کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد سمیت د وجاں بحق ہوگئے۔ دریں اثنا جامشورو کے قریب کشتی الٹنے کے نتیجہ میں 8 میں سے 3 کی لاشیں نکال لی گئیں جب کہ باقی5 افراد کی لاشوں کی تلاش کا کام اندھیرے کے باعث روک دیا گیا۔

ادھر پشاورمیں واڑی کے علاقہ نہاگ میں پک اپ کھائی میں جا گری جس میں خاتون اور دو بچے جاں بحق جب کہ 6 شدید زخمی ہوئے۔بتایا جاتا ہے کہ شکارپور کے قریب کرن تھانے کی حدود بھیو کینال کے قریب کراچی سے جیکب آباد جانے والی تیز رفتار مہران کار اور شکارپور سے لاڑکانہ جانے والی تیز رفتار کار میں تصادم ہوا جس کے نتیجے میں بھرانی برادری کے ایک ہی خاندان کے افراد جن میں 60 سالہ حاجی گلاب بھرانی، 40 سالہ دل مراد ولد حاجی گلاب بھرانی، 10 سالہ معصوم بچہ فہد ولد دل مراد بھرانی،30 سالہ مسمات زینب زوجہ حوران بھرانی، 8 سالہ معصوم بچی انیلا بنت حوارن بھرانی، 6 سالہ معصوم بچہ شکیل ولد حوران بھرانی، 5 سالہ معصوم بچہ یاسر ولد حوران بھرانی اور 18 سالہ یاسین بھرانی شامل ہیں ، جب کہ لاڑکانہ کی طرف جانے والی دوسری گاڑی جی ایل آئی میں سندھ کی مشہور گلوکارہ لیلا سورٹھ ، نمانو سموں اور دیگر تین افراد سوار تھے۔

تصادم کے نتیجے میں بھرانی برادری کے 5 افراد موقعے پر ہی جاں بحق ہوگئے جب کہ دو افراد نے شکارپور اسپتال اور دو افراد نے لاڑکانہ اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑدیا ، صوبائی وزیر توانائی امتیاز احمد شیخ اور سابق ایم این اے ڈاکٹر محمد ابراہیم جتوئی نے کار حادثے میں فوت ہونے والوں کے لیے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور زخمیوں کی صحت یابی کے لیے دعا مانگی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومتیں اور ٹریفک حکام بڑھتے ہوئے حادثات کی روک تھام کے لیے اقدام کریں۔اتنی ڈھیر ساری ہلاکتیں انتظامیہ اور ٹریفک حکام کی کارکردگی پر سوالیہ نشان جب کہ معصوم شہریوں کی زندگیاں بچانے کے لیے ٹھوس میکنزم کی فراہمی اب ناگزیر ہے۔

مقبول خبریں