معیشت کو درپیش مالیاتی چیلنجز

ملکی معیشت کو درپیش سنگین بحران سے نکالنے کی تدابیر کے تحت اسٹیٹ بینک نے اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔


Editorial May 22, 2019
ملکی معیشت کو درپیش سنگین بحران سے نکالنے کی تدابیر کے تحت اسٹیٹ بینک نے اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ فوٹو: فائل

اسٹیٹ بینک نے دو ماہ کے لیے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا ہے جس میں شرح سود 1.5 فیصد بڑھا کر 12.25 فیصد مقرر کی گئی ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی سربراہی میں گزشتہ روز بورڈ آف گورنرز کا اجلاس ہوا جس میں شرح سود میں 150 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا گیا۔

پالیسی ریٹ 10.75 فیصد سے بڑھا کر 12.25 فیصد کر دیا گیا جو اکتوبر 2010 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ مانیٹری پالیسی بیان میں اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ عوام کو نہ صرف اس سال بلکہ آیندہ مالی سال اس سے بھی زیادہ مہنگائی کو جھیلنا ہو گا، معاشی نمو سست اور مالیاتی خسارہ بھی قابو سے باہر رہے گا۔

بیان کے مطابق پٹرول، کھانے پینے کی اشیاء اور خام مال کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کے بنیادی عوامل ہیں جس پر روپے کی بے قدری نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ آمدن کم اور اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے حکومت کا قرضوں پر انحصار بڑھ گیا جس نے مہنگائی کو مزید بے لگام کر دیا۔ میڈیا کے مطابق قرضوں کا مجموعی حجم 35.1 ٹریلین ہو گیا ہے۔ عوام کو یہ خوف دامن گیرہے کہ ان کی تقدیر بدلنے کے دعوے کرنے والے معاشی ریلیف سے گریزاں کیوں ہیں۔

ملکی معیشت کو درپیش سنگین بحران سے نکالنے کی تدابیر کے تحت اسٹیٹ بینک نے اقدامات کا آغاز کر دیا ہے اور اس ضمن میں مالیاتی اقدامات کی نئی سمت کا تعین بھی کر دیا ہے ۔ اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی جاری کی ہے جو معیشت کی گمبھیرتا کا حوالہ دیتے ہوئے عوام کو آنے والے دنوں کے لیے کمر کسنے کی پیشگی وارننگ بھی دی ہے، زیر نظر مانیٹری پالیسی کے بین السطور میں خدشات اور خطرات کی صورتحال بھی بلا کم و کاست بیان کی گئی ہے، بینک کے مطابق مہنگائی بے قابو ہوئی، مالیاتی خسارہ بھی کنٹرول سے باہر ہو گا، تاہم آئی ایم ایف پیکیج سے معاشی سرگرمیاں بھال ہونے کی خوشخبری بھی دی گئی ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ شرح سود میں اضافہ تباہ حال معیشت پر ایک اور حملہ ہے۔ انھوں نے مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں150 بیسس اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلہ سے خود حکومت زیادہ متاثر ہو گی، اور مقامی قرضوں پر سود کی مد میں 300ارب کا فرق پڑ جائے گا، بینکوں سے قرض لے کر کی جانے والی سرماہ کاری کے رجحان میں کمی ہو گی جس کے نتیجہ میں معیشت سست روی کا مزید شکار ہو گی، ماہر اقتصادیات مزمل اسلم نے کہا کہ خود حکومت مقامی سطح پر بڑے پیمانہ پر قرضے لیتی ہے۔

معاشی تجزیہ کار اکبر زیدی کے مطابق یہ طے تھا کہ مانیٹری پالیسی میں 100 سے200 بیسس کے درمیان اضافہ ہو گا جو معیشت پر ضرب کاری کے مترادف ہے، دوسری طرف یہ حقیقت بھی بیان کی جا رہی ہے کہ بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک پر حکومتی قرضوں کا انحصار بھی مہنگائی کا سبب بن رہا ہے ۔ وہ مثبت تبدیلی کی آرزو میں غربت اور مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، یہ کہاں کا انصاف ہے۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے نے متوسط طبقے کی چیخیں نکال دی ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مہنگائی کی شرح رواں مالی سال7.5 فیصد تک پہنچ گئی ہے جب کہ آیندہ مالی سال اس سے بھی زائد رہے گی، بجٹ میں لگائے گئے ٹیکس ، بجلی اور گیس کے نرخ میں اضافہ اور تیل کی بین الاقوامی قیمتیں مہنگائی میں مزید اضافہ کر سکتی ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر تین ماہ کے درآمدی بل کے لیے ناکافی ہیں، طلب و رسد کے فرق کی وجہ سے شرح مبادلہ دباؤ کا شکار ہے۔ زراعت اور صنعت کی پست نمو جیسے عوامل معاشی ترقی کی رفتار کم کر رہے ہیں تاہم آئی ایم ایف پروگرام، زراعت کی بہتری اور برآمدی ترغیبات سے معاشی سرگرمیاں بتدریج بحال ہونے کی توقع ہے۔ اسٹیٹ بینک نے کہا حکومت ِپاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ 39 ماہ پر محیط توسیعی فنڈ سہولت کے تحت تقریباً 6 ارب ڈالر کے لیے اتفاق ہو گیا ہے۔

پروگرام کا مقصد معاشی استحکام بحال کرنا اور پائیدار معاشی نمو میں معاونت کرنا ہے اور توقع ہے کہ اس کے نتیجے میں خاصی بیرونی فنانسنگ آئے گی۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق مارچ 2019ء میں افراط زر کی شرح9.4 فیصد اور اپریل میں 8.8 فیصد رہی۔ رواں مالی سال میں جولائی تا اپریل تک مہنگائی کی اوسط شرح گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دو گنا ہو کر 7.0 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے سال کی اسی مدت میں یہ شرح 3.8 فیصد تھی۔ ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور غذائی اشیا کے بڑھتے ہوئے نرخوں اور خام مال کی اضافی لاگت کی بنا پر گزشتہ تین ماہ میں سالانہ بنیاد پر ماہ بہ ماہ عمومی مہنگائی خاصی بڑھی ہے۔ اس طرح مہنگائی کا دباؤ کچھ عرصے تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔

مرکزی بینک نے کہا کہ بجٹ میں ٹیکسوں میں ردّوبدل، بجلی اور گیس کے نرخوں میں ممکنہ تبدیلیوں اور تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں تغیر سے ابھرنے والے کئی خطرات سے مہنگائی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ برآمدی حجم بڑھنا شروع ہو گیا ہے، تاہم ناسازگار نرخوں کی بنا پر مجموعی برآمدی وصولیوں میں اضافہ نہیں ہو سکا۔ کرنٹ اکاؤنٹ میں بہتری اور سرکاری دو طرفہ رقوم کی آمد میں قابل ذکر اضافے کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی مالکاری میں دشواریاں درپیش رہیں۔

یہ تمام اشاریئے ارباب اختیار کے لیے چشم کشا ہیں ، لہذا معیشت کے ناخدا تدبر اور دور اندیشی سے کام لیں۔ حکمران اولین فرصت میں قوم کو حقیقی معاشی صورتحال سے آگاہ کریں اور عوام کو بے یقینی اور مہنگائی کی اذیت سے نجات دلائیں۔

مقبول خبریں