چین ہندوستان اور پاکستان نواز شریف کا وژن

چین اور ہندوستان کی فوجیں ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر دہشت گردی کے خلاف مشترک فوجی مشقیں کریں گی۔


Zahida Hina August 27, 2013
[email protected]

چند دنوں پہلے ایک چھوٹی سی خبر ہوئی جسے اردو اخبارات میں ایک کالم میں چند سینٹی میٹر کی جگہ بھی نہ مل سکی۔ میں نے جب یہ خبر پڑھی تو غم اور خوشی کی ملی جلی کیفیت محسوس ہوئی۔

خوشی اس بات کی ہوئی کہ ہمارے خطے میں واقع دنیا کے دو سب سے بڑے ملک، فہم و دانش اور حکمت و تدبر کی ایک ایسی تاریخ رقم کررہے ہیں جس میں ایشیا ، افریقا اور لاطینی امریکا کے کئی ملکوں بالخصوص پاکستان کے لیے غور و فکر کے کئی پہلو پنہاں ہیں۔ جس طرح چین اور ہندوستان پڑوسی ملک ہیں بالکل اُسی طرح پاکستان اور ہندوستان بھی ایک دوسرے کے ہمسائے ہیں۔ دونوں ملکوں کو آزاد ہوئے 65 برس بیت چکے ہیں لیکن یہ دونوں ہمسائے، اب تک دوست نہیں بن سکے ہیں۔ جس خبر کے ذکر سے گفتگو شروع ہوئی تھی وہ کچھ یوں ہے کہ چین اور ہندوستان کی فوجیں ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر دہشت گردی کے خلاف مشترک فوجی مشقیں کریں گی۔

یہ ان دونوں ممالک کی تیسری مشترک مشق ہوگی۔ مذکورہ مشق دس روز پر مشتمل ہوگی جو 4 نومبر سے شروع ہوکر 14 نومبر کو اختتام پذیر ہوگی۔ ایک اہم ترین بات یہ ہے کہ دونوں ملک یہ مشقیں اس متنازعہ سرحد پر کریں گے جسے ایل اے سی (لائن آف ایکچول کنٹرول) کہا جاتاہے۔ یہ سیاسی دانش کا ایک عظیم مظاہرہ ہے۔ دونوں پڑوسی ملک اس سرحد پر مل جل کر فوجی مشقیں کریں گے جو متنازعہ ہے اور جس کے آر پار کے علاقوں پر دونوں ملک ملکیت کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ یہ خبریں بھی آئی ہیں کہ ہندوستان اور چین ایک نہایت اہم معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں جسے سرحد کی حفاظت کے لیے تعاون کا سمجھوتہ کہا جائے گا۔

جس دن کسی انگریزی اخبار میں یہ خبر شایع ہوئی تھی اُسی روز پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے غیر معمولی سیاسی عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک انٹرویو میں یہ بات واضح الفاظ میں کہی کہ انھیں پاکستان کے عوام نے خطے کے ممالک سے دوستی قائم کرنے کا مینڈیٹ دیا ہے اور وہ ''کرش انڈیا'' یعنی انڈیا کو کچل دو جیسے نعروں پر یقین نہیں رکھتے ہیں اور وہ اپنی انتخابی فتح کو ہندوستان کے ساتھ امن کے مینڈیٹ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ معاشی ترقی کے لیے علاقائی کشیدگی کے خاتمے کی ضرورت ہے۔ امن قائم ہوگا تب ہی معاشی ترقی کا عمل شروع ہوگا۔ نواز شریف نے ہندوستان کی حکومت سے تعاون کی اپیل کی اور کہا کہ دونوں ملک کے عوام غربت سمیت بہت سے مسائل کا شکار ہیں لہٰذا ہمیں اسلحے کی دوڑ ختم کرکے اپنے وسائل کو عوام کی خوشحالی کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ آپس کے تعلقات کو بہتر بنائیں اور وقت آنے پر غیر پیداواری اخراجات میں کمی کریں۔ وزیراعظم نے کھل کر کہا کہ دونوں پڑوسی ملک پہلے ہی دفاعی ساز و سامان پر کھربوں روپے خرچ کرچکے ہیں۔ اس وقت بھی جنگی طیاروں اور آبدوزوں سمیت مہنگے اسلحے کی خریداری کی ایک دوڑ جاری ہے جسے روک کر یہ رقم دونوں ملکوں کے مفلوک الحال عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جانی چاہیے۔

یہ دونوں خبریں اس اعتبار سے نہایت اہم ہیں کہ دونوں کا تعلق خطے کے تین سب سے بڑے اور اہم ملکوں، یعنی چین، ہندوستان اور پاکستان سے ہے۔ چین اور ہندوستان نے 21 ویں صدی کے تقاضوں کو سمجھ لیا ہے، اور اپنا وقت ضایع کیے بغیر انھوں نے جرات مندانہ فیصلے کرلیے ہیں اور ان فیصلوں کے شاندار ثمرات سے فیض یاب ہورہے ہیں۔ دانش مند اقوام کی نظریں مستقبل پر ہوتی ہیں۔ وہ ماضی کی قیدی بن کر زندہ نہیں رہتیں۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پہلی بڑی جنگ 1965 میں ہوئی تھی جب کہ چین اور ہندوستان اس سے 3 سال قبل یعنی 1962 میں ایک بڑی جنگ لڑچکے تھے۔ اس جنگ کے بعد سے ہندوستان اور چین کی سرحدوں پر کشیدگی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ لیکن بالآخر 24 برس بعد دونوں ملکوں نے اس حقیقت کو سمجھ لیا کہ دونوں ملکوں نے محاذ آرائی کا سلسلہ اگر جاری رکھا تو اس کا نقصان کسی اور کو نہیں بلکہ خود ان دونوں ملکوں کو اٹھانا پڑے گا۔ اسی تناظر میں دونوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اب ان کو معاشی میدان میں آگے بڑھنا اور دنیا کی عظیم معاشی طاقت بننا ہے۔ جب یہ فیصلہ کرلیا گیا تو معاملات اور مسائل کو دیکھنے اور سمجھنے کے زاویے اور اندازبھی بدل گئے۔

چینی اور ہندوستانی دونوں یہ سمجھ گئے کہ دشمنی گھاٹے کا سودا ہے جب کہ دوستی میں سراسر منافع ہے۔ معاشی ترقی کے لیے دشمنی کا خاتمہ ضروری تھا لہٰذا اس وقت کے ہندوستانی وزیراعظم راجیوگاندھی 1988میں چین گئے اور دونوں ملکوں کے درمیان بداعتمادی کی خلیج تیزی سے کم ہونے لگی۔ اس حوالے سے چین کی دانشمندی ملاحظہ فرمائیں کہ ہندوستانی وزیراعظم کے دورہ چین کے چند برسوں کے اندر ہی چین نے 1993 میں اپنا ایک اعلیٰ سطحی فوجی وفد ہندوستان روانہ کیا۔ چین، ہندوستان کی کئی ریاستوں پر اپنا دعویٰ رکھتا ہے۔ اس تناظر میں فوجی وفد کو ہندوستان بھیجنے کا مطلب دراصل یہ اعلان کرنا تھا کہ اب ہم فوجی محاذ آرائی نہیں چاہتے۔ ہندوستان نے بھی اپنے بہتر مستقبل کو سامنے رکھا اور اس وفد کی آمد کے جواب میں اپنے آرمی چیف بی سی جوشی کو چین کے د ورے پر روانہ کیا۔ میری معلومات کے مطابق ہندوستان اور پاکستان کی عسکری قیادت کے درمیان اتنا اعلیٰ سطح رابطہ پچھلی چند دہائیوں میں نہیں ہوا ہے۔

چین اور ہندوستان نے ماضی سے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا اور یہ طے ہوا کہ سرحدی تنازعات اور ایک دوسرے کے علاقوں اور ریاستوں پر دعوئوں کو پس پشت ڈال کر معاشی تعاون اور باہمی تجارت کی شاہراہ پر تیزی سے سفر کیا جائے۔ اس سفر کا ایسا آغاز ہوا کہ دنیا حیران رہ گئی۔ 25 سال پہلے چند کروڑ کی تجارت کرنے والے دونوں ملکوں کا تجارتی حجم اگلے دو برسوں میں 100، ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ پانچ سال ہوئے کہ چین ہندوستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر بن چکا ہیے۔ 8 سال قبل اس وقت کے چینی وزیراعظم نے ہندوستان میں آئی ٹی کے مرکز بنگلور کا دورہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ چین کمپیوٹر ہارڈویئر جب کہ ہندوستان کمپیوٹر سافٹ ویئر میں بہت آگے ہے۔ دونوں مل جائیں تو دنیا میں آئی ٹی کے قائد بن سکتے ہیں۔ چین کی نئی قیادت بھی دونوں ملکوں کے تعلقات کو تیزی سے بہتر بناتے ہوئے باہمی تجارت کو فروغ دے رہی ہے۔ موجودہ چینی وزیراعظم نے حال میں ہندوستان کے د ورے کے موقعے پر اپنا وژن یہ کہہ کر بیان کیا کہ ''چین علاقائی بالادستی حاصل کرنے کے تباہ کن راستے پر نہیں چلے گا۔ دونوں ملکوں کی دوستی خطے کا مقدر بن چکی ہے۔''

یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ جب قوموں کی قیادتیں اپنے عوام کی فلاح اور بہبود کو مرکز نگاہ بناتی ہیں تو وہ معاشی ترقی کے عمل کو تیز سے تیز تر کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہیں ۔ نواز شریف نے بھی یہی انداز فکر اختیار کیا ہے۔ وہ آگے بڑھ کر امن کی بات کررہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ 21 ویں صدی میں ملکوں اور قوموں کا عروج معاشی ترقی میں مضمر ہے۔ کوئی بھی ملک جنگ، کشیدگی اور محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ یہ راہ اختیار کرنے والے ملکوں کا مقدر تباہی کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔ یہ 21 ویں صدی کا وژن ہے۔

ہندوستان اور پاکستان کو بھی بالآخر امن کی راہ پر ہی چلنا ہوگا۔ ایسا کرکے پاکستان اگر معاشی بحرانوں سے نکل سکتا ہے تو ہندوستان کو بھی ترقی کے پائیدار اور تیز رفتار عمل کو جاری رکھنے کے لیے پاکستان سے دوستی اور تعاون کی ضرورت ہے۔ 21 ویں صدی میں ان لوگوں اور گروہوں کے دن گنے جاچکے جنہوں نے دوسری جنگ عظیم اور سرد جنگ کے دوران یا اس کے بعد جنگ جوئی اور محاذ آرائی سے فائدہ اٹھانے کو ''حبِ وطن'' اور ''قومی سلامتی'' کا نام دیا۔ آنے والا زمانہ امن کی کاشت اور اس کے ثمرات سے فیض اٹھانے کا ہے۔ یہ پاکستان کی خوش نصیبی ہے کہ اس وقت یہاں ایک ایسی حکومت ہے جس کی سربراہی میاں نواز شریف کررہے ہیں۔ وہ یہ بات درست کہتے ہیں کہ 2013 میں پاکستانیوں نے انھیں امن قائم کرنے اور اس کے ثمرات سمیٹنے کا مینڈیٹ دیا ہے۔

یہ بات انھوں نے واضح الفاظ میں کہی کہ اگر خوشحالی چاہیے تو ہمیں اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات میں پیش رفت کرنی چاہیے۔ ان کی خواہش ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امن قائم ہو اور دونوں کو کشمیر کے مسئلے کا پُرامن حل نکالنا چاہیے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انھوں نے انتخابات سے قبل اور انتخابات کے بعد ہندوستان کے خلاف کوئی نعرہ نہیں لگایا اور آج نہایت مشکل اور اشتعال انگیزحالات ہونے کے باوجود وہ دونوں ملکوں کے درمیان پائیدار امن کے خواہاں ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ دشمنی پاکستان اور ہندوستان دونوں کے لیے گھاٹے کا سودا ہے۔

مقبول خبریں