پاکستان کا انتہائی خوش نصیب

کوئی دو ایک روز پہلے میں نے پاکستان کا انتہائی خوش نصیب انسان دیکھا اور رشک کے مارے میں بے سدھ سا ہو گیا.


Abdul Qadir Hassan August 27, 2013
[email protected]

PESHAWAR: کوئی دو ایک روز پہلے میں نے پاکستان کا انتہائی خوش نصیب انسان دیکھا اور رشک کے مارے میں بے سدھ سا ہو گیا۔ بابا بلھے شاہ کے عرس کے اختتام پر چند ملنگ بابا کی عقیدت میں والہانہ رقص کر رہے تھے۔ دنیا جہاں سے بے خبر وہ اپنے پیر و مرشد کی رضا جوئی اور یاد میں گم تھے اور مزار کے صحن میں ناچتے ہوئے اپنے بال ہوا میں اچھال رہے تھے اور بالوں کے ساتھ اپنے دونوں ہاتھ بھی بار بار بلند کرتے تھے۔ قونیہ میں مولانا روم کے درویش جسے سماع بصورت رقص کہتے ہیں اسے یہاں قصور میں دھمال کہا جاتا ہے۔ مزاروں پر دھمال پورے برصغیر میں رائج ہے خصوصاً پاکستان کی زمین تو دھمالی قلندروں اور ملنگوں کے پائوں کی دھمک سے گونجتی رہتی ہے۔

پرانے بوسیدہ کپڑے جو ادھر ادھر جھومتے رہتے ہیں، ہاتھوں کی انگلیوں میں بڑے بڑے رنگیں نگوں والی انگوٹھیاں پائوں میں ٹخنوں کے پاس لوہے کے کڑے لیکن پائوں ننگے ،بڑھی ہوئی داڑھی اور ناخن جسم کا رنگ عموماً سیاہ اور چہرے اور پورے جسم پر بے خودی مسلسل طاری اور دنیا جہاں کی آلائشوں لالچوں سے پاک کبھی کبھار ہاتھ کا سہ گدائی لیکن کوئی اس میں کچھ ڈال دے تو اس کا بھلا نہ ڈالے تب بھی خوش رہنے کی دعا، یہ کسی ملنگ کا سرسری سا تعارف ہے اور ہاں جسم کو ایک خاص لہر اور ترنگ میں رکھنے کے لیے کچھ مل جائے تو وہ ملنگوں کے کسی ڈیرے اور تکیے سے بھنگ کا ایک گلاس سبز گھاس کی طرح کی بھنگ کو گھوٹ کر اس سے نشہ بنانا یہ ملنگوں کا ہنر ہے۔

ایران سے نیا نیا آیا ہوا ایک شاعر کسی ملنگ کے ہتھے چڑھ گیا، وہ اسے اپنے تکیے پر لے گیا اور اس کا تعارف کرایا تو پردیسی کی خوب آئو بھگت ہوئی۔ اس کے اعزاز میں خصوصی جام تیار کیا گیا۔ شاعر نے تعجب کے ساتھ دیکھا کہ گھاس کے ان پتوں میں بھلا کیا نشہ ہو گا لیکن جب اس نے پیا تو اس پر چودہ طبق روشن ہو گئے۔ اسے یوں لگا جیسے وہ آسمان کی طرف اچھل رہا ہے، پرواز کر رہا ہے، بڑی عجیب سی ترنگ میں ہے۔ شیراز کی شرابوں میں یہ نشہ کہاں۔ جب نشہ کچھ کم ہوا اور شاعر کے حواس بحال ہوئے تو اس نے بھنگ کی تعریف میں ایک یاد گار شعر کہا

بنگے زدیم و غلغلہ بر آسماں زنیم

مارا ازیں گیاہ ضعیف ایں گماں نہ بُود

یہ شعر اخباروں کے کالموں سے قطعاً نا آشنا ملنگوں کے لیے نہیں بھنگ سے شاید نا آشنا آپ لوگوں کے لیے ہے کہ شاعر نے بھنگ پی کر کہا کہ میں نے بھنگ پی اور آسمان تک غلغلہ برپا کر دیا، مجھے گھاس کے ان کمزور سے پتوں پہ یہ گماں نہ تھا۔

یہ تو ایک بات ہوئی جو آپ کے لیے نئی نہیں کہ ملنگ کس نے نہیں دیکھے اور ان کی دھمال سے کون ناواقف ہے لیکن میں پاکستان یا اس روئے زمین کے ان خوش نصیب ترین انسانوں کا ذکر کر کے لطف اندوز ہونا چاہتا ہوں کہ وہ دنیا کے خرخشوں اور علائق سے محفوظ ہیں۔ لوٹ کھسوٹ جانتے ہی نہیں، پٹرول سونے چاندی اور ڈالر کی قیمت سے قطعاً بے خبر ہیں۔ رات آئی تو کہیں لیٹ گئے یا کوئی ٹھکانہ ہے تو ادھر نکل گئے اور ٹھکانہ بھی کیا اینٹ کا تکیہ اور مٹی کا بستر۔ نہ مکان کی فکر نہ سواری کی طلب۔ کسی بازار سے یوں گزرتے ہیں جیسے دکانوں میں رکھے سامان کا مذاق اڑا رہے ہوں، شعر فارسی کا ہے اس لیے نقل کر کے آپ کے صبر اور تحمل کا امتحان نہیں لیتا، مفہوم کچھ یوں ہے کہ میں دنیا کے سازو سامان سے یوں بے اعتناء اور بے تعلق ہو کر گزرتا ہوں جیسے کوئی سیر چشم سرمہ فروشوں کے سامنے سے بے نیاز ہو کر گزر جاتا ہے۔

ہمارے صوفی لوگوں نے ایسی ہی بے نیاز زندگی گزاری اور اس کی تلقین بھی کی۔ ہمارے علاقے سے ایک صوفی محمد عمر صاحب جو شرق پور والوں کے مرید تھے، اپنے ایک مرید کے اصرار پر لاہور آئے اور جب اس کا نیا گھر دیکھا تو اس سے کہا کہ گھر بنانا ہم لوگوں کا کام نہیں ہے، اس دنیا کے مسافر خانے میں تو بس گزر بسر کرنی ہوتی ہے۔ ایک فقیر تالاب پر پانی پینے گیا اور اپنے تھیلے میں سے پیالہ نکالا تو دیکھا کہ قریب ہی ایک کسان نے ہاتھ سے پانی کو ہلایا خس و خاشاک دور کیے اور ہتھیلیوں میں پانی بھر کر پینے لگا۔ یہ دیکھ کر اس فقیر نے پیالہ دور پھینکا اور دور سے ہی اس کسان کا شکریہ ادا کیا جس نے اسے اس ایک دنیاوی محتاجی سے نکال دیا۔

ہم اپنی زندگی دیکھیں تو کتنی ہی ایسی چیزیں دکھائی دیں گی جو ہم نے بس یونہی سنبھال رکھی ہیں۔ غیر ضروری چیزیں۔ ان کی خریداری اور پھر ان کی حفاظت دونوں فضول کام۔ ایک صحافی کے ہاں ایک بڑے سیاستدان اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ملنے گئے اور جب واپس آئے تو کسی کو بتانے لگے کہ فلاں صحافی کے ہاں گئے تھے، اتنا معمولی سا ڈرائنگ روم پہلی بار دیکھا ہے ورنہ عام سے صحافی بھی ہم سے بہتر آراستہ گھر میں رہتے ہیں۔ یہ سیاستدان حکومت کے اونچے عہدوں پر پہنچے اور جب بھی یہ صحافی اپنے پیشہ ورانہ کاموں سے ان کے ہاں گیا تو وہ اٹھ کر نہایت احترام کے ساتھ ملے۔ احترام شخصیت کا ہوتا ہے ،کردار کا ہوتا ہے، ساز و سامان تو کسی کے گھر میں آپ سے بہت بہتر ہو سکتا ہے۔ آپ ملنگ نہ بنیں ، دھمالیں نہ ڈالیں مگر ہاتھ میں گدائی کاسہ تو نہ رکھیں۔ اگر کسی قسمت میں کسی ملنگ جیسی خوش نصیب مطمئن اور آسودہ زندگی نہیں ہے تو اس کی قسمت۔

میں کتاب معاملات رسولؐ کی دستیابی کا پتہ لکھنا بھول گیا تھا، وہ جہانگیر بکس نے شایع کی ہے قیمت 600 روپے۔

مقبول خبریں