اسلامی مالیاتی صنعت پر مائیکرو فنانسنگ کوفروغ دینے پرزور

زرعی شعبے اور ایس ایم ایز سے استفادے کیلیے استعداد کو ترقی دی جائے، یاسین انور


Business Reporter August 28, 2013
یاسین انورنے صنعت پر زور دیا کہ وہ اسٹریٹجک لحاظ سے اہمیت کے حامل زراعت اور ایس ایم ایز کے شعبوں سے استفادے کیلیے استعداد کو ترقی دیں. فوٹو: فائل

گورنر اسٹیٹ بینک یاسین انور نے اسلامی مالیات کی صنعت پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں اسلامی مائیکرو فنانس کو ترقی دینے کیلیے انفرادی اور اجتماعی کوششیں کرے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کراچی میں اسلامی بینکاری پر منگل کو منعقدہ اسلامی فنانس نیوز پاکستان روڈ شو کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلامی مائیکرو فنانس نہ صرف رضا کارانہ اورغیر رضاکارانہ دونوں لحاظ سے مالی خدمات سے محروم افراد کی ضروریات پوری کرنے کیلیے مالی شمولیت کا ایک اہم آلہ ثابت ہو سکتا ہے بلکہ فراست کا حامل ہونے کی اندرونی خصوصیت اور اثاثہ جاتی بنیاد کے باعث اس سے غربت کو کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔



انہوں نے صنعت پر زور دیا کہ وہ اسٹریٹجک لحاظ سے اہمیت کے حامل زراعت اور ایس ایم ایز کے شعبوں سے استفادے کیلیے استعداد کو ترقی دیں اور شیئرہولڈر، ڈپازٹرز اور ملکی معیشت کیلیے قدر تخلیق کریں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اسٹیٹ بینک ان شعبوں میں پورٹ فولیو کو مضبوط بنانے اور توسیع دینے کی کوششوں میں صنعت کو ہر ممکن تعاون اور سہولت فراہم کرے گا۔ یاسین انور نے کہا کہ گذشتہ دہائی کے دوران پاکستان میں اسلامی بینکاری کی صنعت میں خاصی نمو ہوئی ہے اور اب ملک کے بینکاری نظام میں اس کا حصہ 10فیصد سے زائد ہے، اس کے اثاثوں کی مالیت 900 ارب روپے سے زائد جبکہ نیٹ ورک 1100 سے زائد برانچز پر مشتمل ہے، اس میں توسیع کا رجحان جاری رہنے کا امکان ہے اور یہ صنعت 2020 تک مارکیٹ میں اپنا حصہ دگنا کرنے کی اچھی پوزیشن میں ہے۔