قائم مقام گورنرسندھ نے سرکاری جامعات کے ترمیمی بل کی منظوری روک دی

گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان کو بل کی ان شقوں پر تشویش ہے جس سے جامعات کی خود مختاری متا ثرہورہی ہے،ذرائع


Safdar Rizvi August 28, 2013
گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان کو بل کی ان شقوں پر تشویش ہے جس سے جامعات کی خود مختاری متا ثرہورہی ہے،ذرائع۔ فوٹو: فائل

قائم مقام گورنرسندھ آغا سراج درانی نے صوبے کی سرکاری جامعات کے ترمیمی بل 2013کی منظوری روک دی ہے اوربل کے معاملے کوفی الحال التوا میں ڈال دیا گیا ہے جس کے سبب سندھ کی سرکاری جامعات میں وائس چانسلر سمیت دیگراہم عہدوں پر تقرری کے اختیارات کی گورنرسے وزیراعلیٰ کومنتقلی اورکراچی کی 3 بڑی جامعات کی داخلہ پالیسی کی حکومت سے منظوری کی شرط پرعملدرآمد کچھ روز کے لیے رک گیا ہے۔

''ایکسپریس'' کو حکومت سندھ کے ذرائع نے بتایا کہ گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد خان اس بل کی چند شقوں میں تبدیلی چاہتے ہیں ، اس معاملے پر پاکستان پیپلزپارٹی کی مقتدر شخصیات سے بات چیت بھی ہوئی ہے اورخیال کیا جارہا ہے کہ گورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العباد خان اپنی وطن واپسی کے بعد اس بل کی بعض شقوں کی تبدیلی کے حوالے سے اعتراض لگاکر اسے واپس بھجواسکتے ہیں جس کے بعدسندھ کی سرکاری جامعات کے ترمیمی بل 2013 میں بعض تبدیلیاں متوقع ہیں۔



ذرائع نے بتایا ہے کہ گورنر سندھ کو بل کی ان شقوں پر تشویش ہے جس سے سرکاری جامعات کی خود مختاری براہ راست متاثر ہورہی ہے، جامعات کی سینیٹ، سینڈیکیٹ اور اکیڈمک کونسل فیصلوں کے حوالے سے بے اختیار ہورہی ہے، واضح رہے کہ سندھ بھرکی سرکاری جامعات کی اساتذہ انجمنیں بھی اس بل کی مخالفت میں کل جمعرات کواین ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں جمع ہورہی ہیں جہاں اس بل کے حوالے سے سندھ کی سرکاری جامعات کے اساتذہ کا واضح لائحہ عمل سامنے آنے کی توقع کی جارہی ہے،یاد رہے کہ سرکاری جامعات کے ترمیمی بل 2013 کی من وعن منظوری کی صورت میں یونیورسٹیز بیک وقت ( ایچ ای سی، چانسلر سیکریٹریٹ اورحکومت سندھ)3 اتھارٹیز کے ماتحت ہوجائیں گی۔

انجینئرنگ، میڈیکل اورجنرل ایجوکیشن کی تعلیم دینے والی کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی،جامعہ کراچی اور ڈائو میڈیکل یونیورسٹی سے کراچی کے طلبا کے لیے مختص نشستیں ختم کرکے صوبے کے تمام طلبا کوداخلوں کے لیے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں گے جس کامیرٹ صوبائی حکومت خود طے کرے گی جبکہ وائس چانسلرز سے بعض اہم عہدوں پر تقرریوں کے اختیارات لے لیے جائیں گے، وائس چانسلر رجسٹرار، ناظم امتحانات، برسرریذیڈنٹ آڈیٹر اور چیف اکائونٹنٹ کی تقرری خود نہیں کرسکیں گے ان عہدوں پرتقرری براہ راست صوبائی حکومت خودکرے گی اور وائس چانسلرکا اس میں کوئی دخل نہیں ہوگا، مزید براں پرووائس چانسلر کے تقرر کے سلسلے میں وائس چانسلرکی مشاورت بھی ختم ہوجائے گی۔

واضح رہے کہ قائم مقام گورنرسندھ آغا سراج درانی نے ایک روزقبل سندھ لوکل گورنمنٹ بل 2013پردستخط کردیے تھے جسے پیر19 اگست کو کثرت رائے سے سندھ اسمبلی نے منظورکیا تھا تاہم اسی روز سندھ اسمبلی سے سندھ کے سرکاری جامعات کے منظور ہونے والے ترمیمی بل پرقا ئم مقام گورنرسندھ نے دستخط نہیں کیے۔

مقبول خبریں