ایٹمی جنگ کا بڑھتا ہوا خطرہ

امریکا اور ایٹمی ہتھیاروں کے حامل دیگر بڑی طاقتیں یہ تو چاہتی ہیں کہ دنیا کے دیگر ممالک ایٹمی ہتھیار تیار نہ کریں۔


Editorial May 24, 2019
امریکا اور ایٹمی ہتھیاروں کے حامل دیگر بڑی طاقتیں یہ تو چاہتی ہیں کہ دنیا کے دیگر ممالک ایٹمی ہتھیار تیار نہ کریں۔ فوٹو: فائل

BRUSSELS: اقوام متحدہ کے ایک سینئر دفاعی ماہر نے کہا ہے کہ جنگ عظیم دوئم کے بعد دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال ہونے کا خطرہ اس وقت سب سے زیادہ ہے اور دنیا کو اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

اقوام متحدہ کے انسٹی ٹیوٹ فار ڈس آرمامنٹ ریسرچ کی (یو این آئی ڈی آئی آر) ڈائریکٹر ریناٹا ڈان کے کہا ہے کہ ایٹمی صلاحیت والی اقوام اپنے ایٹمی پروگرام کو جدید ترین بنانے کی کوششیں کر رہی ہیں اور اس حوالے سے اسلحہ پر پابندیوں کا معاملہ طاق نسیاں پر رکھا رہ جاتا ہے جبکہ امریکا اور چین نے اس حوالے سے مقابلہ بازی میں شدت پیدا کر دی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ تخفیف اسلحہ کے روایتی اقدامات کو کہیں نہ کہیں ضرور نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس ضمن میں مقابلہ بازی سے دفاع اور جارحیت میں فرق ختم ہو رہا ہے۔ مس ریناٹا ڈان جنیوا میں میڈیا رپورٹروں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ تخفیف اسلحہ کے مذاکرات دو عشروں سے التوا کا شکار ہیں۔ 122 ممالک نے جوہری اسلحہ پر مکمل پابندی کی حمایت میں سمجھوتے پر دستخط کر رکھے ہیں لیکن ان میں سے بیشتر فرسٹریشن یا کسی دوسری وجہ سے تذبذب میں مبتلا ہو رہے ہیں لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اس حوالے سے ایک بار پھر مذاکرات کئے جائیں اور اگر کسی جگہ پر کسی قسم کی کمی نظر آئے تو اسے حسن تدبیر سے دور کرنا چاہیے اور تخفیف اسلحہ کی منزل کو حاصل کرنے کی جدوجہد کرنی چاہیے تاکہ دنیا کو کسی ممکنہ ایٹمی جنگ کے خطرے سے محفوظ بنایا جاسکے۔

اقوام متحدہ کی اس اہم خاتون افسر نے کہا کہ قرائن سے لگتا ہے کہ جنگ عظیم دوئم کے بعد سے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ اس وقت سب سے بڑا ہے۔ یاد رہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے عدم استعمال کی بین الاقوامی مہم چلانے والوں کو 2017کا امن نوبل انعام دیا جا چکا ہے۔ اس سمجھوتے میں سمجھوتے کے 50 میں سے23 نکات کو باہمی متفقہ طور پر نظرثانی کے بعد ازسرنو مرتب کر لیا گیا ہے۔ جنوبی افریقہ' آسٹریا' تھائی لینڈ' ویتنام اور میکسیکو نے ایٹمی ہتھیاروں پر مکمل پابندی کے حق میں ہیں۔

کیوبا نے بھی 2018ء میں اس معاہدے کی توثیق کر دی تھی۔ دوسری طرف چین نے اقوام متحدہ میں امریکا پر ایٹمی ہتھیاروں پر کنٹرول کے معاہدے کی خلاف ورزیوں کا الزام عاید کیا ہے۔اصولی طور پر بڑی طاقتوں کو اس اہم ترین ایشو پر غور کرنا چاہیے کیونکہ ان کے تعاون کے بغیر ایٹمی ہتھیاروں کا خاتمہ ممکن نہیں ہے کیونکہ ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے اب تک جو معاہدے یا مذاکرات ہوئے ہیں' انھیں سبوتاژ کرنے یا ان کی شرائط پر عمل نہ کرنے کے بارے میں تحقیق کی جائے تو انگلی بڑی طاقتوں پر ہی اٹھے گی۔

امریکا اور ایٹمی ہتھیاروں کے حامل دیگر بڑی طاقتیں یہ تو چاہتی ہیں کہ دنیا کے دیگر ممالک ایٹمی ہتھیار تیار نہ کریں لیکن وہ خود اپنے ہتھیار ختم کرنے پر تیار نہیں ہیں بلکہ اب تو معاملات خلا میں ہتھیار بھیجنے اور وہاں سے استعمال کرنے تک چلے گئے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ موجودہ دور ایٹمی جنگ کے حوالے سے انتہائی خطرناک ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں جو ایٹمی ہتھیار استعمال ہوئے ان کے مقابلے میں آج زیادہ ہلاکت خیز ہتھیار موجود ہیں' دنیا کو ہلاکت خیز ہتھیاروں کی سنگینی کا احساس کرنا چاہیے اور تخفیف اسلحہ کی جدوجہد کو تیز کرنا چاہیے کیونکہ ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کے بغیر نسل انسانی محفوظ نہیں رہ سکتی۔

مقبول خبریں