کراچی کے شہری فوج کوآخری امید سمجھتے ہیں فاروق ستار

فوج آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت بلائی جائے اورکراچی کو دہشت گردوں سے پاک کیاجائے


News Agencies August 28, 2013
امن کمیٹی کے غنڈے خون کی ہولی کھیل رہے ہیں،فوج کو نہیں تو کیا امریکا یا برطانیہ کوبلائیں؟۔ فوٹو: فائل

()ایم کیو ایم کے رہنمااوررکن قومی اسمبلی فاروق ستارنے کہاہے کہ کراچی میں فوج کامطالبہ آئینی ہے،کراچی کاامن دہشتگردوں کے رحم و کرم پرہے۔

قومی اسمبلی کے باہرمیڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کراچی میں فوج آرٹیکل245کے تحت بلائی جائے اور کراچی کو دہشت گردوں سے پاک کیاجائے ، جمہوریت کے نام نہادچیمپئن قومی اسمبلی میں ہمارامطالبہ مستردکررہے ہیں جوکہ نہایت افسوس کی بات ہے ،ماضی میں بھی ہمارامطالبہ یہی رہاہے کہ فوج کی مددلے کرکراچی کوپاک کیاجائے کیونکہ کراچی کے تاجر برادری اورسماجی کارکن بھی اپنی جان کوغیرمحفوظ سمجھتے ہیں اوروہ فوج کوآخری امیدسمجھتے ہیں،ہمارے پاس مسائل کے حل کیلیے راستہ نہیں بچا،تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں ہمارے مطالبے کی حمایت کی ہے۔



انھوں نے کہاکہ کراچی میں پیپلز امن کمیٹی کے غنڈے اوردہشت گرد خون کی ہولی کھیل رہے ہیں،ایسی صورتحال میں الطاف حسین کا فوج بلانے کا مطالبہ آئینی ہے،شہرمیں خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے،صوبائی حکومت اور انتظامیہ عوام کو تحفظ فراہم کرنے میںناکام ہوچکی،رینجرزکی تعیناتی کے باوجودحالات قابو میں نہیں آرہے تو اس صورتحال میں آئین فوج کو بلانے کی اجازت دیتاہے،جس مطالبے کا آئین اجازت دیتا ہے،وہ غیر جمہوری اورغیرآئینی کیسے ہوسکتاہے اوراگریہ غیرآئینی ہے تو پھر 25 برسوں سے کراچی میں رینجرز کی تعیناتی بھی غیر قانونی اورغیر جمہوری ہے،اگر فوج انتخابات کی نگرانی کے لیے آسکتی ہے تو ہمارامطالبہ بھی جمہوری وآئینی ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ الطاف حسین نے مارشل لا کامطالبہ نہیں کیا اور نہ ہی آئین کی رٹ ختم کرنے کامطالبہ کیا ہے بلکہ کراچی میں امن وامان قائم کرنے کے لیے مطالبہ کیاہے،شہر کی صورتحال اس حد تک خراب ہوچکی ہے کہ اہل کراچی اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے فوج کو بلانے کا مطالبہ کر رہے ہیں،اب ایسی صورتحال میں فوج کو نہ بلائیں تو کیا امریکااور برطانیہ کوبلائیں،ایم کیو ایم آئین وقانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور آئین کے خلاف جانے کاسوچ بھی نہیں سکتی۔