سندھ حکومت کہے تو فوج بلائی جاسکتی ہے پرویز رشید

کراچی کو پرامن بنانا ہے،بابر غوری، کونسی قیامت آگئی ، چانڈیو ، شیریں مزاری، کل تک میں گفتگو


Monitoring Desk August 28, 2013
کراچی کو پرامن بنانا ہے،بابر غوری، کونسی قیامت آگئی ، چانڈیو ، شیریں مزاری، کل تک میں گفتگو۔ فوٹو: فائل

سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ کراچی کی تینوں مرکزی سیاسی جماعتوں کو آپس میں مل بیٹھنا چاہیے تاکہ مسائل کو حل کیا جاسکے۔

اگر سندھ حکومت کہے تو سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج بلائی جاسکتی ہے ۔ایکسپریس نیو زکے پروگرام کل تک میں میزبان جاوید چوہدری سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ سندھ حکومت ہم سے ڈائریکٹ فوج بلانے کا مطالبہ نہیں کرسکتی ہاں سندھ میںسول انتظامیہ کی مدد کے لیے وفاق کو درخواست دے سکتی ہے۔میری تجویز ہے کہ ایم کیو ایم کو بھی حکومت میں شامل ہوجانا چاہیے ۔جب تک ساری سیاسی قوتیں متفقہ طورپرایک رائے قائم نہیں کرلیتیں میں نہیں سمجھتا کہ کراچی میں فوج کو انگیج کیا جاناچاہیے کیونکہ ہماری فوج پہلے ہی کئی اہم محاذوں پر ڈٹی ہوئی ہے۔

تمام سیاسی جماعتیں مل کر وزیراعلیٰ سندھ کو کہیں کہ ہم کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنا چاہتے ہیں غیرجانبدارانہ افسران کی فہرست بنا کر ان کو تعینات کریں مشاورت کریں باہر کی طرف دیکھنے کی بجائے آپس میں مل بیٹھ کر معاملات کوخود حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ایم کیوایم کے رہنما بابر غوری نے کہا کہ کراچی کے شہری روزانہ کی بنیاد پر شہید ہورہے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ فوج کی مدد سے کراچی کے امن کو بحال کیا جائے کراچی میں رینجرز اور پولیس ناکام ہوچکی ہیں ذوالفقار علی بھٹو نے بھی فوج کو استعمال کیا تھا ہم یہ نہیں کہتے کہ سارے سندھ کو فوج کے حوالے کردیا جائے یا عدالتیں کام کرنا چھوڑ دیں ہمارا مقصد صرف کراچی کو پرامن بنانا ہے۔



چوہدری نثارجب کراچی آئے تو ہم نے ان کو مکمل بریفنگ دی تھی حکومت میڈیا اپوزیشن سارے ہی جانتے ہیں کہ کراچی کی بدامنی میں کون لوگ ملوث ہیں۔کراچی کے حالات ٹھیک کرنے کے لیے فوج کو بلالیں کہیں ایسا نہ ہو کہ کراچی کے حالات اتنے خراب ہوجائیںکہ فوج خود آجائے۔پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما مولابخش چانڈیو نے کہا کہ جب ایم کیوایم ہمارے ساتھ حکومت میں تھی تب بھی اتنے ہی لوگ مرتے تھے اتنی ہی بدامنی تھی لیکن اسوقت انھوں نے فوج کو بلانے کی بات نہیں کی اب ایسی کون سی قیامت آگئی ہے کہ فوج بلائی جائے۔ آئین کے تحت فوج بلانے کی اجازت تو ہے لیکن پہلے بھی جہاں جہاں فوج بلائی گئی کیا وہاں پر حالات ٹھیک ہوگئے ہیں۔

سوات اور کراچی کی صورتحال میں بہت فرق ہے کراچی میں جو لوگ مدمقابل تھے وہ کسی نہ کسی صورت میں حکومت میں بھی موجود رہے ہیں۔پی ٹی آئی کی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ ایم کیو ایم وہ جماعت ہے جو فوج کی آمد کی مخالفت کرتی تھی اب دیکھنا یہ چاہیے کہ اب کیا ہے جو ایم کیو ایم فوج بلانے کی بات کرتی ہے۔اگر حالات اتنے خراب ہیں تو گورنر ایم کیو ایم کے ہیں وہ خود استعفیٰ کیوں نہیں دیتے۔ فوج بلانے سے مسائل کا عارضی حل تو ممکن ہے لیکن مستقل حل ممکن نہیں ہے۔

مقبول خبریں