مودی جیت گئے

مودی کی فتح بلاشبہ بھارت کے سیاسی مستقبل کے لیے نوشتۂ دیوار ہے۔


Editorial May 25, 2019
مودی کی فتح بلاشبہ بھارت کے سیاسی مستقبل کے لیے نوشتۂ دیوار ہے۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم نریندر مودی ایک بار پھر جیت گئے۔ لوک سبھا کے انتخابات میں بی جے پی کے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کو فیصلہ کن برتری حاصل ہو گئی ہے، کانگریس نے اپنی شکست تسلیم کر لی۔ وزیراعظم عمران خان نے لوک سبھا کے الیکشن میں کامیابی پر نریندر مودی کو مبارکباد پیش کی ہے۔

ٹویٹر پیغام میں عمران خان نے کہا کہ بھارتی لوک سبھا کے انتخابات میں بھارتی جنتا پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں کی کامیابی پر نریندر مودی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ جنوبی ایشیا میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے مودی کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منتظر ہوں۔

مودی کی فتح بلاشبہ بھارت کے سیاسی مستقبل کے لیے نوشتۂ دیوار ہے۔ بے جے پی نے اپنی انتخابی مہم الٹرا نیشنلسٹ ووٹ بینک کی بنیاد پر استوار کی، مودی نے ایک جارحانہ سیاسی بیانیہ تشکیل دیا اور اپنی تقریروں،نعروں اور دعوؤں میں پاکستان مخالف منشور کو بنیاد بناتے ہوئے خطے میں جنگی جنون کو ہوا دی، جب انتخابی مہم حد سے زیادہ انتہاپسندانہ ،مذہبی اور فرقہ وارانہ منافرت سے آلودہ ہوگئی تو بھارت کے فہمیدہ طبقات اور کانگریس نے اس یقین کا اظہار کیا کہ بھارتی عوام مودی کی بڑھکوں، دھمکیوں اور لفظی گولہ باری کو مسترد کردیں گے ،اور مودی اس بار نہیں جیت سکے گا، لیکن مودی اور بی جے پی نے اپنے انتخابی پروگرام کی دھمک اور ردھم کو جنگی ترانوں جیسی صورتحال سے سجایا ،اقلیتوں،بھارتی مسلمانوں اور سیاسی مخالفین کو ناقابل بیان اور ناقابل یقین سیناریو کی تشکیل سے ڈرایا دھمکایا، مودی کو اس بات کا شاید یقین تھا کہ وہ جنگ کی تھاپ پر ہی الیکشن جیت سکیں گے، مودی نے بھارتی سیکولرازم، تکثیریت پسندی اور جمہوری روایات و اقدار کے علی الرغم ایک فسطائی فلسفہ کی بنیاد رکھی۔

ان کی تکنیک اتنی عیارانہ تھی کہ بھارت کے انتہائی سنجیدہ سیاست دان اس سیاسی مغالطہ کا شکار ہوئے کہ مودی کا بڑبولاپن،اس کی سفاکانہ پالیسیاں اور خطے کے مفادات کو بالائے طاق رکھنے ، پڑوسی ایٹمی ملک پاکستان سے ازلی مخاصمت کو مزید صیقل کرنے سے مودی ذہنیت بے نقاب ہوگی جب کہ اسے اپنے مذموم عزائم میں شدید ہزیمت اور انتخابی پسپائی نصیب ہوگی تاہم ، وقت نے مودی کا ساتھ دیا اور بھارت کے پنڈتوں کی پیشگوئیاں بھی ناکام ثابت ہوئیں۔

اب جب کہ مودی ازم کو عروج حاصل کرنے کا بھرپور موقع ملا ہے ،یہ آیندہ وقت بتائے گا کہ بی جے پی مستقبل کی بھارتی جمہوریہ کی کیا صورتگری کریگی، خطے کے ممالک کے ساتھ مودی کا طرز عمل اور رویہ کیسا ہوگا، کیا پاکستان کے خلاف بلاجواز عسکری ایڈونچرازم اور پوری انتخابی مہم کی اساس پاکستان مخاصمت پر رکھنے کا تسلسل جاری رہے گا یا وزیراعظم عمران خان کی رجائیت پسندی پانسہ پلٹ دے گی، بھارتی رائے عامہ سکتے کے عالم میں ہے۔

مودی کا ٹریک ریکارڈ خطے میں امن کے قیام سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا، اس نے کنٹرول لائن کو آتشگیر بنائے رکھا، مقبوضہ وادی میں کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے۔ بنیادی انسانی حقوق کو پامال کیا، نہتے ، معصوم کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلی، بالاکوٹ میں سرجیکل اسٹرائیک کے ڈرامہ میں پاک فضائیہ کے ہاتھوں ہزیمت اٹھائی، ان کے ہواباز ابی نندن کا جنگی طیارہ مار گرایا گیا، ہواباز کو حراست میں لیا گیا پھر خیرسگالی اور عظیم تر سفارتی حکمت عملی کے مثبت امکانات کے پیش نظر اسے بھارت کے حوالہ کیا گیا مگر مودی نے کہیں بھی مفاہمت ، رواداری اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ نہیں کیا ،وہ جنگی جنون کے یرغمال بن چکے تھے، اس نے بھارتی میڈیا کو بے اعتباری جھوٹ، شرانگیز پروپیگنڈہ اور بے جے پی کی حاشیہ برداری اور غلامی پر مجبور کیا۔

لیکن اب سب سے اہم سوال بھارت میں مسلمانوں سے دشمنی، نفرت ، تشدد، اقلیتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے گریز کا ہے، کیا ایک تبدیل شدہ مودی خطے میں امن و استحکام، خوشحالی اور رواداری و مفاہمت کے چراغ روشن کرے گا یا ایک ''ضدی '' مودی بھارت سمیت خطے کے عدم استحکام، تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا اور بھارتی سیکولرازم کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دے گا۔ بہت کچھ مودی کی آیندہ سیاسی بصیرت اور جمہوری و انسانی ورثہ پر منحصر ہے۔

اب کچھ باتیں مودی کی انتخابی جیت کی تفصیل کے بارے میں۔ لوک سبھا کے انتخابات جو سات مراحل میں مکمل ہوئے میں ووٹوں کی گنتی مکمل ہو گئی ہے، غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق بی جے پی کے نیشنل ڈیوکریٹک الائنس نے 542 رکنی لوک سبھا میں 346 نشستوں پر برتری حاصل کر لی ہے جب کہ کانگریس کے یونائیٹڈ پروگریسیو الائنس کو 96 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔

حکومت بنانے کے لیے 272 نشستیں درکار ہیں، بی جے پی کو انفرادی طور پر300 نشستوں پر برتری حاصل ہے اور وہ اکیلے ہی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ انفرادی طور پر کانگریس نے 52، اے ڈی ایم کے نے 23، شیو سینا 18اور دیگر چھوٹی بڑی جماعتوں نے 102نشستیں حاصل کیں۔ راہول گاندھی کو کانگریس کے مضبوط گڑھ امیٹھی میں سمرتی ایرانی کے مقابلے میں شکست کا سامنا ہے تاہم کیرالہ کی نشست پر انھیں برتری حاصل ہے۔ بی جے پی کے سربراہ امیت شاہ، بی جے پی کے امیدوار اداکار سنی دیول کو بھی برتری حاصل ہے۔

کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی نے انتخابات میں شکست تسلیم کرتے ہوئے بی جے پی اور نریندر مودی کو کامیابی پر مبارکباد دی ہے، انھوں نے اپنی مخالف امیدوار سمرتی ایرانی کو بھی جیت پر مبارک باد دی۔ راہول گاندھی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ نریندر مودی اور بی جے پی کی جیت کو ماننا پڑے گا، عوام کا مینڈیٹ مودی کے حق میں گیا ہے۔ مودی کو منتخب کرنے پر بھارتی عوام کی رائے کا احترام کرتے ہیں، ہماری لڑائی نظریاتی ہے، کانگریس کے جو رہنما ہارے ہیں وہ نہ گھبرائیں۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ٹویٹر پر اپنے پیغام اور خطاب میں کامیابی دلوانے پر بھارتی عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا ہمارے اتحاد پر اعتماد کا اظہار ہمیں منکسرالمزاج بناتا ہے اور ہمیں ہمت دے رہا ہے کہ لوگوں کی امیدیں پوری کرنے کے لیے مزید محنت کریں۔ آج جمہوریت کی فتح ہوئی ہے۔ ہمیں نئے بھارت کی تعمیر کا مینڈیٹ ملا ہے۔ ہم اپنے نظریات اور اقدار کی پاسداری کریں گے۔ مودی کا کہنا ہے کہ دنیا کو بھارت کی جمہوری طاقت تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارت کے عوام چوکیدار بن گئے ہیں۔ چوکیدار بھارت کو ذات پات، سامراجیت، کرپشن اور فرقہ پرستی سے بچانے کی علامت بن گیا ہے۔

تاہم علاقائی امن کے مقاصد کے حصول میں پاکستان سمیت پوری دنیا کو اس بات کا انتظار رہے گا کہ بھارت کے سیاسی طرز عمل کی نئی ڈائنامکس کیا ہونگی۔ بھارت میں داخلی تقسیم گہری ہوگی یا جمہوری رویے اور عالمگیریت کے تناظر میں مصالحت کے بریک تھرو،اوپن ڈائیلاگ کے آغاز اور ہمسائیگی کے آفاقی اصولوں کی پاسداری میں مودی سرکار اپنی غیر متوقع انتخابی جیت کی طرح سب کو حیران کردیگی۔ مودی حکومت کی آزمائش مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے مشروط ہوگی۔

مقبوضہ وادی کی آئینی حیثیت کو بدلنے کی مہم جوئی خطرناک ہوگی۔ کشمیر فلیش پوائنٹ بنا ہوا ہے، مودی توجہ دے کہ ان کی جیت بھارتی اقلیتوں اور مسلمانوں کے لیے ایک نتیجہ خیز پیرا ڈائم شفٹ بن جائے۔ مودی کو جیت مبارک ہو۔ ان کی کامیابی بھارتی سیاست میں ایک منفرد واقعہ ہے لیکن مودی اپنے قول اور ٹویٹ کے مطابق خطے کے ممالک اور عوام کو بھی ساتھ لے کے چلیں تو جنوب مشرقی ایشیا اور برصغیر کی قسمت بھی چمک سکتی ہے۔

مقبول خبریں