ہر کوئی کان کھول کر سن لے
ہمارا پڑوسی بھارت ہمارے اوپر آہستہ آہستہ چڑھتا چلا آ رہا ہے اور ہم بھارت سے دبتے چلے جا رہے ہیں۔
KARACHI:
ہمارا پڑوسی بھارت ہمارے اوپر آہستہ آہستہ چڑھتا چلا آ رہا ہے اور ہم بھارت سے دبتے چلے جا رہے ہیں۔ یہ چڑھنے اور دبنے کا عمل اور سلسلہ کب تک جاری رہے گا جب تک ہم پاکستانی اپنی کمزوری کے شدید احساس اور خوف سے باہر نہیں نکلتے اور ہمارے پاکستانی نژاد بھارتی دانشور اور جاسوس ہمارے حکمرانوں کو بھارت کی بالادستی سے نکلنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اس وقت تک تو ان بھارتی دانشور قسم کے جاسوسوں نے ہمارے حکمرانوں کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ پہلے میں انھیں صرف بھارت پرست دانشور کہتا تھا لیکن معلوم ہوا کہ ان کا یہ تعارف بہت کمزور اور نامکمل ہے۔ دراصل یہ لوگ پیدا تو پاکستان میں ہوئے لیکن یہاں رہ کر بھی بھارتی بن گئے۔
یہ بہت ہوشیار لوگ ہیں ان کی بھارت پرستی بس یونہی نہیں ہے پہلے تو یہ کسی یورپی این جی او کے نمائندے یعنی ایجنٹ بنے اور ظاہر ہے کہ پاکستان میں بھی کوئی این جی او بنا کر اس کے لیے لمبا چوڑا مال حاصل کیا اور اپنے قدم جما کر اصل کام شروع کر دیا۔ ان کی ہی طرح کچھ دوسرے روشن خیال اور ترقی پسند پاکستانی کبھی روس کے ایجنٹ تھے مگر روس نے ان کے ساتھ بھی دھوکا کیا اور انھیں تنہا چھوڑ کر اچانک غائب ہو گیا لیکن یہ کچی گولیاں کھیلے ہوئے نہیں تھے۔ ان کے ایک غیرت مند ساتھی نے خوب کہا کہ ادھر سوویت یونین نے اپنی بساط لپیٹی اور ادھر یہ سب لوگ کسی جہاز کی پہلی پرواز سے واشنگٹن روانہ ہو گئے اور وہاں اپنے پہلے سے موجود رابطوں کو بتایا کہ ہم آگئے ہیں کوئی حکم۔ پاکستان ایسے ملکوں کے لیے ان بڑی طاقتوں کے پاس 'کوئی حکم' پہلے سے موجود ہوتا ہے۔
بڑی طاقتوں کے ان تجربہ کار ایجنٹوں کو امریکا نے مال کے ساتھ ساتھ مفید کام بھی دیے اور یہ واپس پاکستان پہنچ کر اپنے اپنے کام میں لگ گئے اب روس نہیں امریکا تھا اور روبل نہیں ڈالر تھا۔ ہمارے ہاں روبل کوئی جانتا ہی نہیں ڈالر ہمارا تعویز ہے جس گلے میں لٹک رہا ہو وہ گلا بلند ہوتا ہے وہ گردن کسی سردار کی طرح اونچی ہوتی ہے۔ ان براہ راست امریکی ایجنٹوں نے کسی حد تک خاموشی کے ساتھ اندر خانے کام شروع کر دیا لیکن دوسرے گروہ نے 'سیفما' کے نام سے ایک انجمن بنائی اور خوب پر پرزے نکالے۔ بھارت و پاکستان کی کوئی مشترکہ تنظیم کا تاثر دیا اور آزادی کے دنوں کو دونوں ملکوں کی سرحدوں پر شاید پرانے متحدہ ہندوستان کی یاد میں موم بتیاں روشن کیں۔ بھارت سے ان کے دوست بھی آئے پاکستانیوں کے گلے ملے اور کسی دوبارہ اتحاد یا اکھنڈ کی نوید سنائی اور سنی۔ یہ سلسلہ ہر سال ہوتا ہے خوشی کی بات یہ ہے کہ سیفما والوں نے کبھی اپنے آپ کو چھپایا نہیں انھیں اس پر جتنی داد بھی دیجائے کم ہے۔
بھارت یا کسی دوسرے پاکستان دشمن کی کھلم کھلا حمایت کرنا بڑی جرات کا کام ہے اور جب پاکستان کے حکمران بھی کسی حد تک ان کے ہمنوا ہوں تو یہ جرات بہت آسان بھی ہو جاتی ہے۔ سرکاری سطح پر وہی کچھ کہا جاتا ہے یا اس کا مقصد اور اصل روح یہی ہوتی ہے کہ پاکستانی اپنے نسلی دشمن بھارت یعنی ہندو کے ساتھ دوستی کریں دشمنی بھول جائیں۔ تحریک پاکستان کو دفع کریں برصغیر میں ہندو مسلم سیاسی جنگ و جدل کو بھول جائیں بلکہ اندر کی بات تو یہ بھی ہے کہ مسلمان شدھی ہی ہو جائیں۔ بت شکنی نہیں بت پرستی شعار کریں آخر کب تک لڑتے بھڑتے رہیں گے اور یہ سلسلہ کہاں رکے گا۔ آزادی ملی دو الگ الگ ملک بن گئے لیکن آزادی ملتے ہی جنگ شروع کر دی اور پھر کئی جنگیں جو امریکا اور روس کی مدد سے بھارت جیتتا رہا اور اب بھی بھارت ماضی کے کسی زعم میں اکڑ رہا ہے لیکن اب پاکستان کا رخ کرنا اور اس کے خلاف جنگ ناقابل برداشت بلکہ ناقابل تصور بربادی ہوگی۔
یہ بات کوئی اخبار نویس نہیں کہہ رہا اور نہ کوئی فوجی کہہ رہا ہے بلکہ ایک سائنس دان کہہ رہا ہے جس نے بھارتی جارحیت کا توڑ دریافت کر لیا اور ایسا کیا کہ وہ اب جارحیت کو نہیں بھارت کو توڑ دے گا۔ کوئی ہے جو ہمارے سیاستدان حکمرانوں کو یہ بات بتا دے۔ کوئی کان ہیں جو یہ بات سن لیں اب نہ بھارت وہ بھارت ہے جو ہم پر غالب آ جاتا تھا اور نہ پاکستان وہ پاکستان ہے جو مغلوب ہو جاتا تھا۔ اب تو فیصلہ نہ جانے کیا ہو گا۔ امریکی کہا کرتے ہیں کہ پاکستانیوں کو پچاس برس کی عمر کے بعد نہ جانے کیا ہو جاتا ہے کہ وہ بالکل بدل جاتے ہیں۔ جی ہاں جب جنگ ہوتی تو پھر پوری پاکستانی قوم اس کے بزرگ جوان اور بچے تک سب بدل جاتے ہیں۔ جہاد کا جذبہ ہمارے ایمان اور عقیدے کا ایک جزو ہے اور جہاد کے معنی ہیں دشمن کے خلاف جنگ اور اس جنگ میں اگر موت ہو تو وہ شہادت۔ ہر مسلمان شہادت کا مفہوم سمجھتا ہے۔ کشور کشائی نہیں شہادت ہے مقصود و مطلوب مومن۔
ہمارے سیاستدان ضعیف الاعتقاد طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور پیری مریدی کے بہت قائل ہوتے ہیں ابھی ہم نے جناب زرداری کے پیر صاحب کا پڑھا ہے کہ انھوں نے اپنے مرید سے کہا کہ دو برس مزید سرداری (صدارت) کے پکے کر دوں لیکن وہ اس میلے سے ڈر گئے جو دو سال بعد لگنے والا ہے اس لیے انھوں نے موجودہ بھرے میلے کو چھوڑنے کو ترجیح دی۔ بے نظیر صاحبہ اور میاں صاحب بھی ایبٹ آباد کے قریب کسی بزرگ سے ڈنڈے کھاتے تھے اب بھی کوئی بزرگ عقیدت بھری نظروں میں ضرور ہوگا یا زرداری صاحب سے ان کا پیر عاریتاً مانگا جا سکتا جو وہ ماضی کے دوستانہ سیاسی تعلقات کی قدر کرتے ہوئے ضرور دے دیں گے۔ بہر کیف عرض یہ ہے اور بڑی ہی مودبانہ عرض ہے کہ خواہ کسی پیر سے پوچھ لیں یا اپنی سیاسی سوجھ بوجھ سے بھارت کے ساتھ امن اور شرافت بھی لیکن بھارت کی بالادستی ناقابل قبول۔ امریکیوں کے بقول میں بھی پچاس برس کا ہو چکا ہوں اور ایک بدلا ہوا پاکستانی ہوں۔ کشتیاں جلانے والے طارق بن زیاد کا جذبہ درکار ہے۔
گزشتہ کالم میں ایک جگہ فارسی شعر کے ترجمے میں 'سیاہ چشم' کی جگہ سیر چشم چھپ گیا۔ تصحیح کی درخواست۔