کرکٹرز کو کرپشن سے بچنے کا سبق یاد دلا دیا گیا

آئی سی سی کی جانب سے بریفنگ میں بکیز کے کام کرنے کا طریقہ ودیگر معاملات سے آگاہ کیا گیا۔


Saleem Khaliq May 28, 2019
2بھارتی بکیز کی تصاویر دکھا کر دور رہنے کاکہا گیا،پاکستانی ٹیم کے ساتھ 2 آئی سی سی سیکیورٹی افسران موجود۔ فوٹو : فائل

ورلڈ کپ میں شریک پاکستانی کرکٹرز کو کرپشن سے بچنے کا سبق یاد دلا دیا گیا۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ہر بڑے ایونٹ میں اربوں روپے کا جوا کھیلا جاتا ہے، بک میکرز اپنی رقم محفوظ رکھنے کیلیے کھلاڑیوں کو بھی آلہ کار بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں،البتہ اب اس حوالے سے خاصی سختی برتی جا رہی ہے۔

پاکستانی ٹیم کے ساتھ بھی آئی سی سی کے 2 سیکیورٹی اینڈ اینٹیگریٹی آفیسرز موجود ہیں، پی سی بی کی جانب سے میجر (ر) اظہر کو بھیجا گیا ہے، گذشتہ دنوں کونسل نے اعلان کیا تھا کہ ورلڈکپ میں شریک کسی کھلاڑی کیخلاف کوئی تحقیقات نہیں ہو رہیں اور میگا ایونٹ سٹے بازوں سے مکمل محفوظ ثابت ہوگا،اس حوالے سے کھلاڑیوں کو تعلیم دینے کا سلسلہ جاری ہے۔

گذشتہ دنوں انگلینڈ میں پاکستانی کرکٹرزکو بھی اینٹی کرپشن کا سبق یاد دلا دیا گیا، ذرائع نے بتایا کہ مقامی ہوٹل میں کونسل کے2آفیسرز نے پاکستان کے تمام کھلاڑیوں اور آفیشلز کو بریفنگ دی۔

ایک خاتون اور ایک مرد آفیشل نے سب سے پہلے 7 منٹ کی ایک ویڈیو دکھائی جس میں انھیں بتایا گیا کہ مذموم مقاصد کیلیے کھیل کی ساکھ خراب کرنے والے لوگ ورلڈکپ کو بھی نشانہ بنانا چاہیں گے لہذا ان سے محفوظ رہنے کی کوشش کریں، سٹے باز پرستار بن کر بھی مل سکتے ہیں،اگر کوئی بھی شخص مشکوک لگے تو فوراً اپنے ساتھ موجود آئی سی سی کے آفیشل کو آگاہ کریں، سوشل میڈیا پر بھی اجنبی افراد سے بات کرتے ہوئے محتاط رہیں۔

کھلاڑیوں کو بکیز کے طریقہ کار سے آگاہ کیا گیا،سابق زمبابوین کرکٹرگریم کریمر کی ویڈیو بھی دکھائی گئی جس میں وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح سینئر بورڈ آفیشل راجن نائر نے 2017 کے ویسٹ انڈیز ٹور میں ٹیسٹ سیریز فکسڈ کرنے کیلیے ان کو 30 ہزار ڈالرزکی پیشکش کی تھی۔

کریمر نے ٹیم منیجر ہیتھ اسٹریک کو بتایا جو معاملہ آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کے علم میں لائے، بعد میں تحقیقات ہوئیں جس میں راجن نے اپنا جرم قبول کر لیا، ان پر 20 سال کی پابندی عائد کی گئی تھی، پاکستانی کرکٹرز سے کہا گیا کہ اگر ان کے ساتھ بھی کبھی ایسا ہو تو فوراً بتائیں۔2بھارتی بکیز کی تصاویر دکھا کر ان سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی۔

بعد میں سوال پوچھنے کا آپشن دیا گیا مگر کسی نے کچھ نہیں پوچھا، واضح رہے کہ پی سی بی نے بھی ایونٹ کے دوران پلیئرز کو محتاط رہنے کی ہدایت دی ہے، ان سے کہا گیا ہے کہ ڈنر وغیرہ کیلیے باہر جانے سے پہلے منیجر اور سیکیورٹی منیجر کو آگاہ کریں، گروپس کی صورت میں جانے کو ترجیح دی جائے، منیجر طلعت علی نے کوئی باقاعدہ کرفیو ٹائم تو نہیں رکھا البتہ میچ سے پہلے رات ساڑھے دس بجے ہوٹل واپس آنے کی ہدایت دی ہے۔

ٹیم کی حالیہ غیرمعیاری کارکردگی کے بعد کھلاڑی خود بھی احتیاط برت رہیں ہیں۔ادھر دوسرا وارم اپ میچ بارش کی نذر ہونے کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم پیر کی شام کارڈف سے بذریعہ بس ناٹنگھم پہنچ گئی،کھلاڑی منگل کو پریکٹس سیشن میں خامیاں دور کرنے کی کوشش کریں گے۔

کپتان سرفراز احمد بدھ کو دیگر کپتانوں کے ساتھ ملکہ برطانیہ سے ملاقات کیلیے جائیں گے، ورلڈکپ میں گرین شرٹس کا پہلا میچ 31 مئی کو ویسٹ انڈیز سے ہونا ہے،3 جون کو میزبان انگلینڈ سے مقابلے کی میزبانی بھی ناٹنگھم ہی کرے گا۔