جامعات کے وائس چانسلر فیصلے حکومتی مشاورت سے کرینگے

سرکاری جامعات کے ترمیمی بل2013 کی توثیق کے بعد یونیورسٹیزکے چانسلر تمام ترفیصلوں میں حکومت سندھ کی مشاورت کے پابند ہیں


Safdar Rizvi August 29, 2013
کراچی کی3 سرکاری جامعات کی داخلہ پالیسی کی حتمی منظوری کا اختیار جامعات کی اکیڈمک کونسل سے حکومت سندھ کو منتقل ہوگیا ہے. فوٹو: فائل

FAISALABAD: سندھ کی سرکاری جامعات کے ترمیمی بل2013 کی توثیق کے بعد یونیورسٹیز کے چانسلر تمام ترفیصلوں میں حکومت سندھ کی مشاورت کے پابند ہیں جبکہ جامعات کے وائس چانسلرکے اختیارات محدودکرتے ہوئے اختیارات کے لحاظ سے وائس چانسلرکو پرنسپل کے مساوی کردیا گیا ہے۔

کراچی کی3 سرکاری جامعات کی داخلہ پالیسی کی حتمی منظوری کا اختیار جامعات کی اکیڈمک کونسل سے حکومت سندھ کو منتقل ہوگیا ہے اور بل کاگزٹ جاری ہوتے ہی ان فیصلوں پرعملدرآمد شروع ہوجائے گا بل کی منظوری سے سندھ بھرکی سرکاری جامعات اور اسناد تفویض کرنیوالے ادارے عملی طور پر 3 مختلف کنٹرولنگ اتھارٹیز ایچ ای سی،وفاقی حکومت، چانسلر سیکریٹریٹ (گورنرہاؤس) اور حکومت سندھ کے ماتحت آگئے ہیں اور جامعات بیک وقت تینوں اتھارٹیز کوجوابدہ ہونگی، سرکاری جامعات کے ترمیمی بل کی توثیق کے بعد چانسلر، پرووائس چانسلرزکا تقرر اب حکومتی تجویز پرکریں گے جبکہ وائس چانسلرکے تقررکے حوالے سے چانسلر کو حاصل اختیارات ختم کردیے گئے ہیں۔



اس میں حکومتی مشاورت لازمی ہوگئی ہے ترمیمی بل کے مطابق بلڈنگ، لیبارٹری، میوزیم ورکشاپ،انسٹی ٹیوشن ،ٹیچنگ اورامتحانات سمیت دیگر امورمیں انسپکشن اور انکوائری کے سلسلے میں حکومتی مشاورت لازمی ہوگئی ہے اس سے قبل اس معاملے کا براہ راست اختیار بھی چانسلرکے پاس تھا مزید براں ڈپوٹیشن، تبادلوں اور تقرریوں سے متعلق چانسلرکو حاصل خصوصی اختیارات بھی ختم ہوگئے ہیں۔

اب چانسلر حکومتی تجویز کے بغیر ڈپوٹیشن ، تبادلے اور تقرریاں نہیں کرسکیں گے، بل کی توثیق کے بعد اب جامعات کے وائس چانسلرزسے رجسٹرار،ناظم امتحانات، برسرریذیڈنٹ آڈیٹر اورچیف اکاؤنٹنٹ کی تقرری کے اختیارات صوبائی حکومت کے پاس آگئے ہیں، جامعہ کراچی، این ای ڈی یونیورسٹی اور ڈاؤمیڈیکل یونیورسٹی سمیت دیگر جامعات اور الحاق شدہ تعلیمی اداروں کی داخلہ پالیسی حکومت طے کرے گی جس کے تحت سندھ کے تمام طلبا کوداخلوں کے لیے مساوی مواقع دیے جائیں گے۔

مقبول خبریں