عدالت نے کوئی درمیانی راستہ نہیں دکھایا ظفر علی شاہ

موجودہ حکومت دوبارہ بنی تو سیاست چھوڑ دوں گا، پروگرام کل تک میں گفتگو


Monitoring Desk August 28, 2012
موجودہ حکومت دوبارہ بنی تو سیاست چھوڑ دوں گا، پروگرام کل تک میں گفتگو. فائل فوٹو

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر ظفر علی شاہ نے کہا ہے کہ عدالت نے کوئی درمیانی راستہ نہیں دکھایا، ایک فیصلہ سنایا ہے اور اس پر عملدرآمد کرنا ہی کرنا ہے، اس میں کمی بیشی ممکن نہیں۔ پروگرام کل تک میں اینکر پرسن جاوید چوہدری سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ جس نے جو بھی کرپشن کی اسے سزا ملنی چاہیے۔ اگر یہ حکومت دوبارہ بنی تو میں سیاست چھوڑ دوں گا۔ حکومت اس وقت ایم کیو ایم اور ق لیگ کی بیساکھیوں پرچل رہی ہے ۔

پیپلزپارٹی کی رہنما مہرین انورراجہ نے کہاکہ چیف جسٹس جیسا آدمی سالوں میں پیدا ہوتا ہے لیکن ان سے بھی غلطی ہوئی انھوں نے بھی مشرف کو 3 سال تک کا وقت دیا اور خود پی سی او کے تحت حلف اٹھایا باقی ججز چلے گئے اور وہ بیٹھے ہیں۔آئندہ الیکشن میں ہماری جماعت ہی حکومت بنائے گی، تنقید کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ ہمیں تسلیم کریں ۔ ماہر قانون ڈاکٹر عبدالباسط نے کہاکہ حکومت خط نہیں لکھے گی اور خط لکھنے کا اثر بھی صفر ہے کیونکہ سارا پیسہ اب سوئس بینکوں سے امریکی بینکوں میں منتقل ہوچکا ہے۔ خط اگر لکھ بھی دیا جائے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔

یہ درست ہے کہ خامی اور غلطی عدلیہ میں بھی ہے۔ طاقتور لوگوں کے خلاف مقدمات نہیں چل سکتے۔ افتخار چوہدری نے کرپشن کیخلاف واقعی بندباندھا ہے۔ انھوں نے کرپشن کوروکنے کے لیے بڑاکام کیا ہے۔ پاکستان میں مائو جیسا آدمی آنا چاہیے جو ساری افرادی قوت کو اکٹھا کرکے ان سے کام لے۔