نیٹوکاشام پرحملے کرنے کا کوئی ارادہ نہیں راسموسن

شام میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، نیٹو چیف راسموسین


AFP August 30, 2013
نیٹو چیف اس سے قبل بھی شام کے مسئلے کے سیاسی حل کی تلاش پر زور دے چکے ہیں۔ فوٹو: فائل

نیٹو نے حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو جواز بنا کر امریکا اور فرانس کی جانب سے شام پر ممکنہ حملے میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔


غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق نیٹو چیف فوگ راسموسن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ شام میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بلا شبہ انتہائی افسوسناک اور انسانی حقوق کے بین الا قوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور عام شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر شام کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے تاہم نیٹو ممکنہ حملے میں کوئی کردار ادا نہیں کرے گا۔


دوسری جانب امریکا شام پر ممکنہ فوجی کاروائی کے حوالے سے اتحادی ممالک سے مسلسل رابطے میں ہے اور فرانسیسی صدر فرینکوئس ہولینڈے نے امریکا کی جانب سے شام پر ممکنہ حملے کی تائید کر تے ہوئے کہا کہ شام پر حملہ بدھ تک متوقع ہے تاہم امریکا کے ایک اور قریبی اتحادی ملک برطانیہ کی قانون ساز اسمبلی نے شام پر ممکنہ امریکی حملے کی مخالفت کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم کو اس کارروائی سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔


واضح رہے کہ نیٹو چیف اس سے قبل بھی شام کے مسئلے کے سیاسی حل کی تلاش پر زور دے چکے ہیں۔