’’روشنی‘ روشنی اور روشنی‘‘
فرانس کے نامور دانشور روسو نے آخری وقت اپنے پاس موجود ساتھیوں سے بار بار کہا ’’روشنی‘ روشنی اور روشنی‘‘
JERUSALEM:
فرانس کے نامور دانشور روسو نے آخری وقت اپنے پاس موجود ساتھیوں سے بار بار کہا ''روشنی' روشنی اور روشنی'' لگتا ہے دنیا کو عقل کی سیدھی راہیں دکھانے والا اور روشنیاں بانٹنے والا یہ دانشور بھی اپنے دور کے کسی رینٹل پاور وزیر کا مارا ہوا تھا کہ آخری وقت میں اس نے اگر کوئی فریاد کی تو اس وزیر سے مل کر خدا کے لیے روشنی روشنی اور روشنی۔ روسو کی یہ بات تو تاریخ کا حصہ بن گئی لیکن ہم کس قطار شمار میں کہ کسی سے فریاد کریں تو وہ اسے ہمارے منہ پر مار دے جب ہمارے حکمران ہم سے کہیں زیادہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی اس کی طرف بھولے سے بھی نہیں دیکھتے اور نہیں پوچھتے کہ قوم کے کروڑوں اربوں روپوں کا حساب کس سے لیں اور بھوک کے مارے ہوئے عوام پر کتنا ٹیکس لگائیں کہ ان کی کم از کم سانس چلتی رہے۔ جب کسی نئے ٹیکس کا اعلان ہوتا ہے تو لوگ تعجب سے پوچھتے ہیں کہ جو بڑے لوگ اور حکمران ہمارا مال کھا گئے ان سے وصول کیوں نہیں کیا جاتا پھر بھی اگر ٹیکس لگانا ہو تو حاضر ہیں۔
غضب خدا کا ہمارے دو وزیر اعظم عدالت عظمیٰ تک سے مجرم قرار پائے ہیں لیکن وہ اسی ملک میں اور اپنے گھر میں ٹہلتے اور دندناتے پھرتے ہیں جیسے وہ بھی کوئی سکندر ہوں اور اسلام آباد کی پولیس کے سپاہی سے لے کر آئی جی تک کسی کی جرات نہ ہو کہ کوئی اس کو ہاتھ لگا سکے۔ سکندر کا ذکر آیا ہے تو یہ ملک ایسے سکندروں سے بھرا پڑا ہے جو کسی فلمی غنڈے کی طرح بازاروں میں پولیس کو نچاتے اور للکارتے پھرتے ہیں اور پولیس ان سے چھپتی پھرتی اور جان بچاتی پھرتی ہے جیسے سکندر کے واقعے سے چند دن پہلے ہی ایک جیل کے محافظ حملہ آوروں سے بچنے کے لیے گندے نالوں میں چھپ گئے تھے۔ بزدل ہوں ورنہ دل کرتا ہے جہاں کوئی پولیس والا دیکھوں اس کو جوتا دے ماروں جو تنخواہ بھی لیتا ہے اور اس پر اس سے زیادہ رشوت بھی وصول کرتا ہے لیکن جب اس کی ضرورت پڑتی ہے تو اسلام آباد کے آرام دہ دفتروں میں چھپ جاتا ہے یا کسی گندے نالے میں۔ سچ ہے کہ جان ہے تو تنخواہ ہے۔
بات ہو رہی تھی کہ ہمارے حکمران قوم کے لٹیروں سے قوم کی رقم وصول کیوں نہیں کرتے اور انھیں کیوں آزاد چھوڑ رکھا ہے۔ کیا ان کے ساتھ ان کی پتی ہے یا ان کا رعب داب اتنا ہے کہ اقتدار اپنے تمام لائو لشکر سمیت ان سے ڈرتا ہے۔ کچھ بھی ہے جو کھا گئے ہیں ان سے کوئی پوچھتا نہیں اور جن کا وہ کھا گئے ہیں ان پر مزید ٹیکس لگا کر ان سے لوٹی ہوئی رقم الٹی ان سے ہی پھر وصول کی جا رہی ہے۔ یہاں صرف اتنا عرض کر دیں اور یہ کوئی انکشاف نہیں کہ عوام خواہ کتنے بھی غریب کیوں نہ ہوں وہ عقلمند ضرور ہیں اور انھیں پتہ ہے کہ خرابی کہاں ہے کیوں ہے اور کیسے دور ہو سکتی ہے مگر وہ چونکہ پر امن ہیں اس لیے بے بس ہیں۔ اس پر ہمارے جیسے شوقیہ فنکار عوام کو ڈراتے رہتے ہیں کہ اگر انھوں نے بدامنی کی تو ان کے ملک کو خطرہ ہو گا کیونکہ ان کے ملک کے دشمن اس کی کسی کمزوری کے انتظار میں ہیں۔
میں نے بات لوڈشیڈنگ سے شروع کی تھی کیونکہ کل رات سے میں اندھیروں کے سپرد ہوں اور مجھ احمق کو غصہ آ رہا ہے کہ میرے ٹیکسوں پر پلنے والے عیش کر رہے ہیں۔ پڑوسی ملک کا صدر آیا تو ہم اسے ایک دن کے لیے مری بھی لے گئے جہاں اس کے اعزاز میں ایسا کھانا دیا کہ وہ اس کے انواع و اقسام دیکھ کر گھبرا گیا کئی کھانوں کی تعریف پر مجبور ہو گیا اور یہ پیشگی معذرت بھی کر گیا کہ آپ جب ہمارے ہاں تشریف لائیں گے تو ہم اس قدر پر تکلف ضیافت برپا نہیں کر سکیں گے یہ اس لیے نہیں کہ وہ کوئی جمہوری حکمران ہے اور اس کے عوام اس سے پوچھیں گے کہ یہ ضیافتیں کہاں سے کی جا رہی ہیں وجہ ناداری سمجھ لیں۔
مدینہ منورہ میں مقیم مسلمانوں کے حکمران کو اطلاع ملی کہ دمشق میں اس کے سپہ سالار اعظم خالد بن ولید نے کسی شاعر کو اپنی تعریف میں شعر کہنے پر انعام دیا ہے۔ یہ سن کر عمر کا خون کھول اٹھا اور عبیدہ بن جراح کو بلایا کہ جائو اور پورے لشکر کے سامنے سپہ سالار سے پوچھو کہ اس نے یہ انعام کہاں سے دیا اگر فوج کے خزانے سے دیا ہے تو خیانت ہے اگر اپنی جیب سے دیا ہے تو فضول خرچی ہے اور وہ بھی بہت نامناسب دونوں صورتوں میں وہ برطرف اور تم اس کی جگہ لے لینا۔ پھر ہدایت یہ بھی کہ فوج کے سامنے اس سپہ سالار کے بازو پیچھے کی طرف باندھ دینا اور پھر سوال و جواب کرنا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بالکل یہی کیا گیا اور اس افسانوی سپہ سالار جسے حضور پاکؐ نے سیف اللہ (اللہ کی تلوار) کا خطاب دیا تھا اس قدر بے عزتی کے ساتھ برطرف کیا گیا۔ یہ سب کچھ کسی اندیشے اور خطرے کے بغیر ہو گیا لیکن ظاہر ہے کہ عمر کے معاصر اور ہم عمر خالد کو اس کا سخت رنج تھا جب وہ واپس مدینہ آ رہے تھے تو راستے میں کسی جگہ قیام کے دوران انھوں نے شکوہ کیا وہاں ایک مسافر سپاہی بھی مقیم تھا اس نے کہا کہ جناب آپ کی باتوں سے بغاوت کی بو آتی ہے اس پر خالد نے جواب دیا کہ جب تک عمر ہے بغاوت نہیں ہو سکتی۔
یہ حضرت عمرؓ کی انصاف سے بھری ہوئی عوام کی مقبول حکومت کا اعلان تھا جو ان کا سب سے بڑا مخالفت کر رہا تھا لیکن ہمارے آج کے حکمران کیا کسی کو بتا سکتے ہیں کہ اس افلاس زدہ قوم کی دولت سے یہ ضیافت کی کئی گئی یا ذاتی دولت سے دونوں صورتوں میں اس کا جواز نہیں ہے۔ میں نے صوم و صلوٰۃ کے پابند حکمرانوں کو یونہی ذرا چھیڑنے کے لیے یہ عرض کیا ہے ورنہ ہماری کیا مجال۔ دراصل اندھیرے اور اس تاریکی میں میں کالم نویسی کی زحمت کی وجہ سے تنگ آ کر شاید دماغ گھوم گیا ہے جو ایسی الٹ پلٹ باتیں کرنے لگا ہوں۔ دروازے کھولے ہیں تو روشنی اندر آنے لگی ہے رات کی بے خوابی بھی وہ کالم مکمل کر لینے سے ختم ہو جائے گی۔ انسان کتنا بے صبرا اور جلد باز ہوتا ہے۔