ایک خواب کی یاد میں

چند دنوں پہلے واشنگٹن میں اس لانگ مارچ کی 50 ویں سالگرہ منائی گئی جو بظاہر 19 نومبر 1963ء کو وقوع پذیر ہوا تھا۔


Zahida Hina August 31, 2013
[email protected]

چند دنوں پہلے واشنگٹن ڈی سی میں اس لانگ مارچ کی 50 ویں سالگرہ منائی گئی جو بظاہر 19 نومبر 1963ء کو وقوع پذیر ہوا لیکن درحقیقت یہ اس وقت آغاز ہوا تھا جب 1863ء کے ایک دن گیٹس برگ کی جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی سپاہیوں کو نذرانۂ عقیدت پیش کرنے کے لیے 15000 سے زیادہ امریکی شہری اکٹھے ہوئے تھے۔ پہلی تقریر ایڈورڈ ایورٹ نے کی جسے امریکی تاریخ کا ناقابل فراموش اور بے مثال خطیب کہا جاتا ہے۔ وہ دو گھنٹے تک فصاحت و بلاغت کے دریا بہاتا رہا اور لوگ سانس روکے ہوئے اس کی تقریر سنتے رہے۔

اسی ہجوم میں ایک طویل القامت اور لاغر شخص تھا جو گھوڑے پر سوار اس طرف بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا جہاں ایورٹ کھڑا تھا۔ ایورٹ کی تقریر ختم ہوئی تو مجمع چھٹنے لگا۔ وہ لاغر شخص پوڈیم تک پہنچا تو بہت کم لوگوں نے اسے سننے کی زحمت کی۔ اس شخص کا نام ابراہم لنکن تھا۔ اس روز اس نے 270 الفاظ پر مشتمل ایک تقریر کی جس میں اس نے کہا تھا کہ یہ قوم آزادی کو ایک نیا جنم دے گی۔ یہ عوام کی ایک ایسی حکومت ہو گی جس کا نظام عوام چلائیں گے اور یہ عوام کے لیے ہو گی۔ اسے کرۂ ارض سے مٹنا نہیں چاہیے۔

یہ 270 لفظ امریکا اور دنیا کی سیاسی تاریخ میں ناقابل فراموش ہو گئے۔ یہ ابراہم لنکن تھا جس نے اعلیٰ انسانی اقدار کے لیے ایک ایسی خوں ریز جنگ لڑی جس میں امریکی، امریکی کے مقابل تھا۔ سوال یہ تھا کہ کیا نسل اور رنگ کی بنیاد پر انسانوں میں تفریق کی جا سکتی ہے؟ کیا سیاہ فاموں کی آزادی ہمیشہ کے لیے سلب کی جا سکتی ہے؟ اور پھر لنکن کے ایک دستخط نے لاکھوں سیاہ فاموں کو آزادی سے ہم کنار کیا اور اس کی اسی انصاف پسندی سے مشتعل ہوکر ایک سفید فام نے اسے قتل کر دیا۔

ابراہم لنکن کی یہ منصف مزاجی سیاہ فام امریکیوں کے لیے ایک ایسی رہنما روشنی تھی جس میں وہ اپنے حقوق کی جدوجہد کرتے رہے۔ ایک صبر آزما اور درد ناک جدوجہد۔ اس میں ان گنت سیاہ فاموں نے حصہ لیا۔ ان ہی میں سے ایک روزا پارکس تھی۔ ایک معمولی ملازمہ جس کی سیاہ رنگت اس کے لیے کسی سزا سے کم نہ تھی لیکن اسے ابراہم لنکن کی وہ تاریخی تقریر یاد تھی جس میں تمام امریکیوں کو یکساں حقوق سے فیض یاب ہونے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

یہ 1955ء کی پہلی دسمبر تھی جب روزا پارکس نے ایک ایسی نشست سے اٹھ کھڑے ہونے سے انکار کر دیا جس کا ''حقدار'' بس پر چڑھنے والا ایک سفید فام امریکی تھا۔ روزا پارکس اس ''قانون شکنی'' پر گرفتار ہوئی اور یہ معمولی سا واقعہ ایک بڑی تحریک کا نقطۂ آغاز بن گیا۔ اس موقع پر ایک نوجوان وکیل مارٹن لوتھر کنگ آتش نوا مقرر کے طور پر سامنے آیا اور اس نے منٹگمری کے سیاہ فاموں سے کہا کہ وہ بس کمپنی کا بائیکاٹ کر دیں اور سفر پیدل طے کریں یا سائیکلوں پر۔ یہ ایک ایسی تحریک تھی جو ''منٹگمری بس بائیکاٹ'' کے نام سے مشہور ہے۔ شہر میں بس سے سفر کرنے والوں کی اکثریت سیاہ فاموں پر مشتمل تھی۔ مارٹن لوتھر کنگ کو سزا دینے کے لیے کچھ سفید فام غنڈوں نے کنگ کے گھر پر بم مارا لیکن وہ اور اس کے گھر والے محفوظ رہے۔ ریاستی حکومت نے کنگ کو گرفتار کر لیا۔

بات امریکی سپریم کورٹ تک پہنچی اور آخرکار وہاں یہ فیصلہ سنایا گیا کہ سرکاری بس یا ٹرین میں سفر کرنے والوں کے درمیان رنگ کی بنیاد پر تفریق غیر قانونی ہے اور آیندہ کوئی بھی سفید فام اگر اس نوعیت کا ہتک آمیز رویہ کسی سیاہ فام کے ساتھ اختیار کرے گا تو وہ سزا کا مستحق ہو گا۔ اس فیصلے نے سیاہ فاموں کے اندر زندگی کی ایک نئی لہر دوڑا دی اور انھیں محسوس ہوا کہ مارٹن لوتھر کنگ کی شکل میں انھیں ایک ایسا رہنما مل گیا ہے جو ان کے حقوق کے لیے صرف جدوجہد ہی نہیں کر سکتا بلکہ اس میں کامیابیاں بھی حاصل کر سکتا ہے۔ کنگ نے 1959ء میں ہندوستان کا سفر کیا۔ وہ گاندھی جی کے سیاسی ساتھیوں اور ان کے خاندان کے بعض افراد سے ملا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ اپنی قوم کے شہری حقوق حاصل کرنے کے لیے اسے عدم تشدد پر منحصر سول نافرمانی کے ذریعے لڑائی لڑنی ہو گی۔

کنگ کے بارے میں اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ وہ عوامی جذبات کی نبض پہچاننے کا ملکہ رکھتا تھا۔ اس نے سیاہ فاموں کے لیے ووٹ ڈالنے' امتیازی سلوک ختم کرنے' سیاہ فام مزدوروں کے حقوق اور دوسری بنیادی شہری آزادیوں کے حصول کے لیے جلسوں جلوسوں کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ ان جلسوں اور جلوسوں کا اثر ہونا شروع ہوا اور نہ صرف شہری حقوق کا ایکٹ منظور ہوا بلکہ سیاہ فاموں کو ووٹ ڈالنے کا حق بھی مل گیا۔ حقوق سے محروم سیاہ فاموں کے لیے یہ ایسی شاندار کامیابیاں تھیں جن کا انھوں نے خواب میں بھی تصور نہیں کیا تھا۔

ابراہم لنکن کی یاد گار پرکنگ نے اپنی وہ تقریر کی جس کا آغاز اس نے یہ کہتے ہوئے کیا تھا کہ ''میرا ایک خواب ہے'' کہا جاتا ہے کہ لنکن کا ''گیٹس برگ خطاب'' اور کنگ کی تقریر ''میرا ایک خواب ہے'' امریکی تاریخ کی دو عظیم ترین تقریریں ہیں۔ 1963ء کا یہ عظیم الشان احتجاجی اجتماع امریکی تاریخ کو ایک نیا رخ دیا گیا اور اس کے بعد امریکا میں نسلی منافرت کا آئینی اور قانونی طور پر خاتمہ ہوا۔ کنگ کو اس کے اسی کارنامے پر 1964ء میں امن کا نوبل انعام ملا۔

28 اگست 1963ء کو واشنگٹن ڈی سی میں ابراہم لنکن کے دیو زاد مجسمے کی سیڑھیوں پر کھڑے ہوکر مارٹن لوتھر کنگ نے جو خواب دیکھا تھا! ... اس کے کچھ دنوں بعد 1964ء میں نوبل امن انعام لیتے ہوئے اپنے جملوں کی اس نے تشریح یوں کی کہ کسی بھی خواب کی تعبیر کے لیے تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا کہنا تھا کہ تشدد کے ذریعے نسلی انصاف کا حصول ناقابلِ عمل بھی ہے اور غیر اخلاقی بھی۔ تشدد عموماً عارضی نتائج فراہم کرتا ہے۔ قوموں نے اکثر جنگ کے ذریعے ہی آزادی حاصل کی ہے۔ مگر وقتی فتوحات کے باوجود، تشدد کبھی پائیدار امن نہیں لا سکتا۔ یہ سماجی مسائل کا حل نہیں۔ یہ صرف نئے اور پیچیدہ مسائل پیدا کرتا ہے۔ یہ غیر اخلاقی اس لیے ہے کہ یہ مخالف کو ذلیل کرنے کی کوشش کرتا ہے، بجائے اس کے کہ اس کا اتفاق رائے حاصل کرے۔

یہ منقلب کرنے کے بجائے نیست و نابود کرتا ہے۔ تشدد اس لیے بھی غیر اخلاقی ہے کہ یہ محبت کے بجائے نفرت کے ماحول میں پھلتا پھولتا ہے۔ یہ کمیونٹی کو تباہ کرتا ہے ا ور برادری کو ناممکن بناتا ہے۔ یہ سماج کو مذاکرات کے بجائے خود کلامی کی کیفیت میں چھوڑ دیتا ہے۔ تشدد بالآخر خود اپنی شکست کا باعث ہوتا ہے۔ یہ بچ جانے والوں میں تلخیاں اور تباہ کرنے والوں میں بے رحمی پیدا کرتا ہے۔'' اپنی نوبیل امن انعام کی تقریر کے آخر میں اس نے کہا تھا ''دنیا ہمیں وراثت میں ملنے والا وسیع و عریض عالمی گھر ہے جس میں ہم سب کو اکٹھے رہنا ہے... کالا ہو یا گورا، مشرقی ہو یا مغربی، بُت پرست ہو یا یہودی۔ کیتھولک ہو یا پروٹسٹنٹ، مسلمان ہو یا ہندو یہ ایک خاندان ہے جو بلا وجہ بکھرا ہوا ہے، ہم اب ایک دوسرے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے، اس لیے ہمیں بہر حال اس بڑی ساری دنیا میں ایک ساتھ رہنے کے طریقے سیکھنے ہوں گے۔''

ابراہم لنکن نے غلامی کو بہ یک جنبشِ قلم منسوخ کر دیا تھا اور بڑے بڑے امریکی جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور غلاموں کی جاں گسل محنت سے کروڑ پتی ارب پتی بن جانے والوں کی ناجائز اور غیر اخلاقی طور پر کمائی ہوئی دولت کے سوتے خشک کر دیے تھے۔ اس کے ''انعام'' میں اسے قتل کر دیا گیا۔

مارٹن لوتھر کنگ نے تباہ حال اور دل شکستہ سیاہ فام امریکیوں کے شہری حقوق کے لیے ایک ہنگامہ خیز جدوجہد کی اور قتل کیا گیا۔

28 اگست 2013ء کو ایک بار پھر نصف صدی پہلے کی جانے والی کنگ کی تقریر ''میرا بھی ایک خواب ہے'' کی یاد منانے کے لیے امریکا میں آباد 50 قومیتوں اور تنظیموں نے شہری آزادی کی جدوجہد تازہ کرنے کے لیے گھنٹیاں بجائیں۔ لوگوں نے یہ بات یاد کی کہ نسلی تفریق کا خاتمہ نہیں ہوا ہے لیکن بات یہاں تک پہنچی ہے کہ روزا پارکس کو ایک سفید فام کی نشست پر بیٹھنے کی اجازت نہیں ملی تھی اور آج وہائٹ ہائوس میں ایک سیاہ فام صدر اپنے خاندان کے ساتھ صدارت کی دوسری مدت پوری کر رہا ہے۔

امریکیوں کی اصل جیت یہی ہے کہ وہ خواب دیکھتے ہیں اور ان کی تعبیر کے لیے سرگرداں رہتے ہیں۔

مقبول خبریں