ٹیکس وصولی کے لیے گڈ گورننس ضروری ہے

منتخب نمائندے جب تک مراعات، نوکریوں کے کوٹوں اور ترقیاتی فنڈز سے باہر نہیں نکلتے جمہوریت مضبوط نہیں ہوسکتی


Editorial June 10, 2019
منتخب نمائندے جب تک مراعات، نوکریوں کے کوٹوں اور ترقیاتی فنڈز سے باہر نہیں نکلتے جمہوریت مضبوط نہیں ہوسکتی

بجٹ کی آمد آمد ہے اور اس حوالے سے سرکاری سطح پر تجاویز تیار ہو رہی ہیں۔ میڈیا میں متوقع بجٹ کے حوالے سے جو سامنے آرہا ہے' اسے دیکھ اور پڑھ کر یہی اندازہ ہوتا ہے کہ آئندہ سالانہ میزانیے میں نئے ٹیکس بھی عائد کیے جائیں اور پہلے سے موجود ٹیکسز کی شرح میں ردوبدل بھی کیا جائے گا۔آنے والے دنوں میں مہنگائی میں بھی مزید اضافہ ہو گا، جس سے عام آدمی کی مشکلات پہلے سے زیادہ بڑھ جائیں گی۔

اسی دوران وزیراعظم پاکستان کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ' خاتمہ غربت اور چیئرپرسن احساس پروگرام ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میںکہا ہے کہ حکومت ملک بھر میں 10لاکھ غریب افراد کے لیے راشن اسکیم لا رہی ہے اور اس کے لیے شفاف طریقے سے کارڈ تقسیم کیے جائیں گے، تمام مستحق معذور افراد جو نادرا میں رجسٹرڈ ہیں' انھیں انصاف کارڈ دیے جائیں گے۔

وزیراعظم کی ہدایت پر معذور افراد کے لیے ملازمتوں میں دو فیصد کوٹے پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا' انھوں نے مزید کہا کہ کفایت شعاری پروگرام کے تحت 70لاکھ غریب خواتین کو وظائف دیے جائیں گے۔ یتیموں کے لیے بھی ایک نئی پالیسی لائی جائے گی جو یتیم خانوں کی حالت بہتر بنائے گی۔ اسی دوران ایف بی آر کے حوالے سے بھی یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ اس نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ جائیداد کی سرکاری اور مارکیٹ کی قیمت خرید میں یکسانیت پیدا کرے اور پراپرٹی کے ڈی سی ریٹ بڑھا کر ٹیکس کی شرح کم کی جائے۔

بہرحال حالات سے یہی لگتا ہے کہ حکومت کو بجٹ بنانے میں خاصی مشکل پیش آ رہی ہے کیونکہ زیادہ ٹیکس عائد کرنے سے یقیناً کاروباری طبقے' پروفیشنلز اور تنخواہ دار طبقے پر اثر پڑے گا اور مہنگائی میں بھی اضافہ ہو گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ریاست کے امور چلانے کے لیے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے اور سرمایہ ٹیکسوں سے ہی حاصل ہوتا ہے۔

ادھر اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں ہے کہ حکومت جب ملک کے کاروباری طبقے' پروفیشنلز اور تنخواہ دار طبقے سے ٹیکس وصول کرتی ہے تو ان طبقات کی بھی توقع اورخواہش ہوتی ہے کہ حکومت انھیں بنیادی سہولتیں فراہم کرے گی۔ جو حکومتیں عوام کو تعلیم' صحت' جان و مال کا تحفظ اور دیگر بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے تو پھر ٹیکس دینے والے طبقوں کا سرکاری مشینری پر اعتماد اٹھ جاتا ہے اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان سے وصول ہونے والا ٹیکس حکومت کے کل پرزوں اور وزراء مشیر صاحبان کے اللوں تللوں پر خرچ کیا جاتا ہے۔

اس احساس کی وجہ سے ملک کے متمول طبقات ٹیکس دینے سے گریز کرتے ہیں۔ لہٰذا اس ساری تمہید کا نتیجہ یہ ہے کہ سب سے پہلے ریاست اور حکومت کو اپنی گورننس بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ اگر گورننس بہتر ہو گی تو حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ قائم ہو گا اور پھر یہی اعتماد ٹیکس وصولی کا باعث بنے گا۔

اگر ہم ریاست پاکستان کے جغرافیے پر غور کریں تو آدھے سے زیادہ ملک قبائلی اور نیم قبائلی نظام میں رہ رہا ہے' ان علاقوں میں انکم ٹیکس تو دور کی بات دیگر ضروری ٹیکس بھی وصول نہیں ہوتے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں نان کسٹمز پیڈ گاڑیاں عام چلتی ہیں' ان کی خریدوفروخت بھی ہوتی ہے لیکن ٹیکس کوئی بھی نہیں ہوتا حالانکہ ملکی قوانین کے تحت اس قسم کی کاروباری سرگرمیاں کئی قسم کے ٹیکسوں کے دائرے میں آتی ہیں۔

مثلاً پہلے مرحلے میں وفاقی ٹیکس یعنی کسٹمز وصول ہوتا ہے، پھر صوبائی ٹیکس یعنی گاڑی کی رجسٹریشن' نمبرپلیٹ اور ٹوکن وغیرہ کا ایکسائز ٹیکس ہوتا ہے لیکن خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہزاروں لگژری گاڑیاں' ہیوی وہیکلز وغیرہ بغیر کسٹمز ادا کیے چل رہی ہیں اور ان کی خریدوفروخت بھی ہوتی ہے لیکن اس جانب کبھی توجہ نہیں دی گئی۔ اب موجودہ حکومت نے اس جانب قدم بڑھایا ہے اور نان کسٹمز گاڑیوں کی رجسٹریشن کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا' سندھ' بلوچستان کی صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ماتحت محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور ٹریفک پولیس کو متحرک کرے تاکہ بغیر نمبر پلیٹ کوئی گاڑی' ٹرک یا موٹر سائیکل سڑک پر نہ چل سکے' اس طریقے سے صوبائی خزانے میں بھاری محصولات اکٹھے ہو سکتے ہیں۔

کاروباری طبقے پر عموماً ٹیکس چوری کے الزامات عائد ہوتے ہیں' ٹیکس چوری کے کلچر کو روکنے کے لیے قوانین میں آسانیاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ قوانین عوام اور کاروبار دوست ہونے چاہئیں نہ کہ وہ ریاست اور حکومت کو بے جا اختیارات فراہم کریں۔ سرکاری مشینری جس میں اعلیٰ بیوروکریسی سے لے کر کلرک اور چپڑاسی تک شامل ہیں' ان کی ٹریننگ اورتربیت عوام کو قوانین کے جھمیلے میں ڈال کر انھیں مشکلات میں مبتلا کرنا نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان کی تربیت عوام کی مشکل حل کرنے کے اصول پر ہونی چاہیے۔

پاکستان میں سرکاری افسر سے لے کر ایک کلرک تک کا رویہ سائل کو قوانین کے گورکھ دھندے میں ڈال کر مصیبت میں ڈالنا بن گیا ہے۔ وہ سائل کو مشکل میں ڈال کر رشوت کا راستہ نکالتا ہے' اس کلچر کو اچھی تربیت اور قوانین کو سہل اور آسان بنا کر ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔

مغربی ممالک میں بیوروکریسی کی تربیت عوام کو سہولت پہنچانے کے اصول پر کی جاتی ہے جب کہ ہمارے ہاں بیوروکریسی میں حاکمیت کا احساس اجاگر کرنے کے لیے تربیت کی جاتی ہے' اسے تبدیل کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کو ایک جدید فلاحی مملکت بنانے کے لیے ایسا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ سرکاری مشینری جب تک خود سول سرونٹس نہیں سمجھیں گے ، گورننس بہتر نہیں ہوسکتی ، اسی طرح منتخب نمائندے جب تک خود مراعات، نوکریوں کے کوٹوں اورترقیاتی فنڈز کے چکر سے نہیں نکالتے، ملک میں جمہوریت مضبوط نہیں ہوسکتی۔

مقبول خبریں