تھرکول کی مخالفت کے بعد آئل مافیا نے ایل این جی کو ایٹم بم سے زیادہ خطرناک قرار دیدیا

ایل این جی کے 62 ہزار ٹن کا پارسل ہیروشمیا پر برسائے گے نیوکلیئر بم سے 62 گنا زیادہ طاقتور، حادثے کی صورت۔۔۔، آئل لابی


Business Reporter September 02, 2013
ایل این جی کے 62 ہزار ٹن کا پارسل ہیروشمیا پر برسائے گے نیوکلیئر بم سے 62 گنا زیادہ طاقتور، حادثے کی صورت میں پورے خطے کی سلامتی دائو پر لگ سکتی ہے، آئل لابی۔ فوٹو: فائل

آئل امپورٹ لابی نے ایل این جی کے درآمدی منصوبے پر بھی اعتراضات کھڑے کردیے۔

پورٹ قاسم پر ایل این جی کی درآمد کو غیرمحفوظ قرار دیتے ہوئے موجودہ ٹرمینلز پر ایل این جی کی درآمد کو بندرگاہ کے دیگر ٹرمینلز اور ٹرانسمیشن پائپ لائن کو اردگرد کی آبادی اور صنعتی علاقے کے لیے خطرے کا واویلہ مچایا جارہا ہے۔ ایل این جی کی درآمد میں دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں نے آئل امپورٹ لابی کی جانب سے پورٹ قاسم پر ایل این جی کی درآمد کو مکمل طور پر محفوظ قرار دیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ تھر کے کوئلے کی طرح ایل این جی کی درآمد کے منصوبے کی راہ میں بھی رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں اور آئل امپورٹ لابی کے مفاد کے لیے سرگرم عناصر ایل این جی منصوبے کے خلاف بھی پراپیگنڈہ کررہے ہیں جس سے سرکاری حلقوں اور بیوروکریسی میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ منصوبے کے مخالف عناصر پاکستان میں توانائی کے بحران کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے ذاتی مفادات پورے کرنا چاہتے ہیں جن میں خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی درآمد سے فائدہ اٹھانے و الے عناصر پیش پیش ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ اس سے قبل پاکستان اسٹیٹ آئل کے سبکدوش ایم ڈی نعیم یحییٰ کی جانب سے پاکستان اسٹیٹ آئل کو ایکسپلوریشن کمپنی کی شکل دینے اور پی ایس او کی اپنی ریفائنری کے قیام کے منصوبے کی بھی بھرپور مخالف کی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کے لیے زیادہ تر پٹرولیم مصنوعات خلیجی ریاستوں سے درآمد کی جارہی ہیں جہاں تیار کی جانے والی پٹرولیم مصنوعات ترقی یافتہ ملکوں کو فروخت نہیں کی جاسکتیں اور ترقی یافتہ ملکوں کے معیار کے مطابق لانے کے لیے ان ریفائنریز کو بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے، پاکستان اسٹیٹ آئل کی ایکسپلوریشن اور ریفائنری کے کاروبار کی مخالفت میں بھی پٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے والی لابی پیش پیش رہی، اب ایل این جی کے منصوبے کی راہ میں کانٹے بچھائے جارہے ہیں۔ آئل امپورٹ لابی کی جانب سے پورٹ قاسم کے چینل کی گنجائش کو ایل این جی کی درآمد کے لیے ناکافی قرار دیا جارہا ہے۔



ایل این جی کی درآمد اور ٹرانسمیشن کے لیے دو بڑے بحری جہازبرابر برابر مل کر کھڑے کیے جائیں گے، ایک جہاز پر ایل این جی لدی ہوگی جبکہ دوسرے جہاز پر ایل این جی کو پائپ لائن تک پہنچانے کے لیے ٹرانسمیشن پلانٹ نصب ہوگا جو ایل این جی کو مائع سے گیس میں بھی تبدیل کرے گا۔ مخالفت کرنے والے عناصر کا کہنا ہے کہ دو جہازوں کے ایک ساتھ کھڑے ہونے سے پورٹ قاسم کے دیگر ٹرمینلز پر آنے والے جہازوں کا راستہ تنگ ہوگا اور کسی بھی وقت کوئی حادثہ رونما ہوسکتا ہے جس کی وجہ سے پورٹ قاسم پر حساس کیمکلز اور ایندھن درآمد کرنے والے ٹرمینلز متاثر ہو سکتے ہیں، آئل لابی کا یہ بھی اعتراض ہے کہ ایل این جی کے 62 ہزار ٹن کے پارسل میں 52 جی جے (gigajoule) طاقت ہوگی جو ہیروشمیا پر برسائے گے نیوکلیئر بم جیسے 62 بموں جیسی طاقت ہے اور کسی بھی حادثے کی صورت میں پورے خطے کی سلامتی دائو پر لگ سکتی ہے۔

ادھر ٹرمینل ماہرین اور ایل این جی کی درآمد میں دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ پورٹ قاسم ایل این جی کی درآمد کے لیے محفوظ بندرگاہ ہے اور اس بندرگاہ پر 15 سال سے قائم نجی ٹرمینل پر حساس کیمکلز انتہائی مہارت سے درآمد کرکے ڈسپیچ کیے جارہے ہیں اس نجی ٹرمینل کو گزشتہ سال دوسرا سیفٹی ہیلتھ اور انوائرمنٹ ایوارڈ کا اعزاز بھی حاصل ہوچکا ہے پورٹ قاسم پر پہلے ہی ایتھائلین اور پیرازائلین اور ایل پی جی سمیت خام تیل اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے بڑے پارسل درآمد کیے جارہے ہیں جن کی طاقت ہیروشیما پر پھینکے گئے بم جیسے 57 سے 58 بموں کے برابر ہے اور پورٹ قاسم کسی دقت کے بغیر ملکی معیشت میں اپنا بھرپور کردار محفوظ طریقے سے ادا کررہی ہے پورٹ قاسم پر ایل این جی کی درآمد سے پورٹ کے ریونیو میں سالانہ 3سے 6 ملین ڈالر کا اضافہ ہوگا۔