عراق ایرانی پیپلز مجاہدین کے کیمپ میں دھماکے جھڑپیں 2 فوجیوں سمیت 23 افراد ہلاک درجنوں زخمی

کیمپ اشرف میں عراقی فورسز نے حملہ کرکے کارکنوں کو ہلاک اور سامان کو آگ لگادی، ایرانی جلاوطن تنظیم کا دعویٰ


AFP September 02, 2013
عراق کے فوجی ترجمان کے مطابق مرنے والے فوجیوں پر کیمپ کے مکینوں نے حملہ کیا تھا۔ فوٹو؛ اے ایف پی

عراق کے صوبہ دیالہ میں ایرانی سرحد کے قریب ایران کی پیپلز مجاہدین تنظیم (PMOI) کے سو کے قریب کارکن کیمپ اشرف میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

گزشتہ روز کیمپ اشرف میں دھماکے اور جھڑپیں ہوئیں جن میں ایرانی تنظیم کے23 افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے، ایران کی پیپلز مجاہدین تنظیم کے مطابق کیمپ پر عراقی سیکیورٹی فورسز نے حملہ کردیا اور کیمپ میں موجود ان کے سامان کو آگ لگادی جس میں23کارکن ہلاک ہوگئے، دوسری طرف عراقی حکام نے تنظیم کے الزامات کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ مقامی اسپتال کے مطابق جھڑپ میں2 عراقی فوجی ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے،فوجی ترجمان کے مطابق مرنے والے فوجیوں پر کیمپ کے مکینوں نے حملہ کیا تھا جو کیمپ کے ذمہ دار تھے۔ اقوام متحدہ نے اس واقعہ کی تصدیق نہیں کی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے مہاجرین ایجنسی کے مطابق کیمپ اشرف پر فورسز نے کارروائی کی ہے جس میں متعدد افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے ''یو این ایچ سی آر'' نے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔



ادارے نے کہا کہ شہریوں کے خلاف پرتشدد واقعات کو برداشت نہیں کیا جائیگا۔ اقوام متحدہ نے عراقی حکومت سے کہا ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات کی جائیں، عراقی پولیس کے مطابق کیمپ پر5 راکٹ داغے گئے، جھڑپ اور دھماکے کیوں ہوئے اس حوالے سے کچھ نہیں پتا چلا، پولیس کے ایک کرنل کے مطابق راکٹ حملوں کے بعد کیمپ کے مکین باہر آگئے اور انھوں نے کیمپ کی حفاظت کرنے والے اہلکاروں پر حملہ کردیا جس میں دو فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوگئے، ایک اور عراقی حکام کے مطابق کیمپ پر راکٹ نہیں داغے گئے بلکہ کیمپ کے اندر موجود گیس اور تیل کے سلنڈروں کی وجہ سے دھماکے ہوئے، دوسری طرف ایرانی تنظیم کے ترجمان نے کہا ہے کہ عراقی فوج کیمپ کے اندر داخل ہوئی اور اس نے ہمارے 23 ساتھیوں کو ہلاک اوردرجنوں کو زخمی کردیا جن کی حالت نازک ہے۔