بااختیار بلدیاتی نظام ہماری ضرورت ہے

ملک کے اشرافیائی اجارہ دار سسٹم میں عوام کو بااختیار بنانے کی جو جدوجہد عشروںسے جاری ہے۔۔۔


Zaheer Akhter Bedari September 02, 2013
[email protected]

ملک کے اشرافیائی اجارہ دار سسٹم میں عوام کو بااختیار بنانے کی جو جدوجہد عشروںسے جاری ہے، بلدیاتی انتخابات اور بلدیاتی نظام کا مطالبہ اسی جدوجہد کا حصہ ہے۔ 2008 میں انتخابات جیت کر برسر اقتدار آنے والی جماعت پیپلز پارٹی نے اپنا سارا عرصہ اقتدار بلدیاتی انتخابات کرانے میں ٹال مٹول میں گزار دیا۔ 2013 میں برسراقتدار آنے والی جماعت مسلم لیگ (ن) بھی اس حوالے سے پیپلز پارٹی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

بلدیاتی انتخابات کرانے کے مطالبے میں جیسے جیسے شدت آتی گئی حکمران طبقات اس سازش میں لگے رہے کہ بلدیاتی نظام کے جسم سے اس کی روح نکال کر اسے عوام کے حوالے کیا جائے۔ بلدیاتی نظام کو ہر جمہوری ملک میں جمہوریت کی اساس مانا جاتا ہے، جمہوری عمارت میں بلدیاتی نظام بنیاد کا کردار ادا کرتا ہے۔

پاکستان میں 65 سال سے جو اقتدار مافیا ملک پر قابض ہے، اس کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ نچلی سطح سے عوامی قیادت ابھرنے کے سارے راستے بند کردیے جائیں۔ اس حوالے سے ہمارا انتخابی نظام نچلی سطح سے قیادت کے ابھرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ اس انتخابی نظام کو ایسے خطوط پر استوار کیا گیا ہے کہ اس میں عوام تقسیم کا شکار بھی ہوتے ہیں اور انتخابی مہم پر کروڑوں روپے صرف کرنے کی طاقت سے بھی محروم رہتے ہیں۔ ایک راستہ نچلی سطح سے قیادت ابھارنے اور عوام کو بااختیار بنانے کا بلدیاتی نظام ہے۔

ہماری چالاک اشرافیہ اچھی طرح جانتی ہے کہ اگر بااختیار بلدیاتی نظام جڑیں پکڑنے لگا تو اس کی خاندانی حکمرانی کا نظام خطرے میں پڑجائے گا۔ اسی خطرے سے بچنے کے لیے سیاسی اور حکمران اشرافیہ بلدیاتی انتخاب کو بلدیاتی انتشار میں بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ کوشش سابقہ حکومت کے دور میں بھی جاری رہی اور موجودہ دور میں بھی جاری ہے۔ حکومتوں اور سیاستدانوں کی ان چالبازیوں کو محسوس کرکے سپریم کورٹ نے ستمبر میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دیا لیکن صوبائی حکومتوں نے مختلف بہانوں سے ستمبر میں بلدیاتی انتخابات کرانے سے انکار کردیا اور اس سال کے آخر تک انتخابات کرانے کی مہلت مانگی۔

اس دوران چاروں صوبوں میں مختلف قسم کے بلدیاتی نظام رائج کرنے کی سازشیں شروع ہوئیں، پنجاب میں غیر جماعتی بلدیاتی انتخابات کے ساتھ جس بلدیاتی نظام کا اعلان کیا گیا اس کے دو مقاصد نظر آتے ہیں ایک یہ کہ دیانت دارانہ بلدیاتی انتخابات میں اجارہ دار سیاسی جماعتوں کی مقبولیت کے نقاب سے پردہ اٹھنے کا خطرہ رہتا ہے اس لیے اس نظریے کو غیر جماعتی انتخابات سے ٹالا جاسکتا ہے، دوسرا یہ کہ اس نظام کے تانے بانے اس طرح بنے جارہے ہیں کہ اختیارات خواہ وہ انتظامی ہوں یا مالیاتی نچلی سطح یعنی یوسی تک پہنچنے کے بجائے وزراء کے ہاتھوں ہی میں مرتکز رہیں۔

سندھ کی حکومت نے جس بلدیاتی نظام کا اعلان کیا ہے اس کی اساس اگرچہ 1979 کا بلدیاتی نظام ہے جسے پاکستان کے سب سے بدتر فوجی ڈکٹیٹر ضیا الحق نے نافذ کیا تھا لیکن اسے ہدف تنقید بننے سے بچانے کے لیے کچھ اوٹ پٹانگ سی اصلاحات شامل کی گئی ہیں لیکن یہاں بھی اس فراڈ بلدیاتی نظام کا اصل مقصد انتظامی اور مالی اختیارات کو نچلی سطح تک جانے سے روکنا اور صوبائی وزراء کو بااختیار بنانا ہی نظر آتا ہے۔ سندھ میں ایک خطرہ یہ بھی ہے کہ سندھ کے شہری علاقوں میں متحدہ مضبوط ہے اگر مشرف کا بلدیاتی نظام رائج کیا جائے تو سندھ کے شہری علاقوں کا انتظامی اور مالی اختیار متحدہ کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے جسے سندھ کی حکومت اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔

پختونخوا میں ہمارے ''نئے پاکستان'' والے کپتان کی حکومت ہے، کپتان صاحب نیا پاکستان بنانے کے لیے جو سونامی لارہے تھے وہ مئی 2013 کے عام انتخابات اور اگست 2013 کے ضمنی انتخابات سے ٹکرا کر اپنی طاقت اور توانائی کھو بیٹھا ہے۔ اسی خوف کی وجہ سے کپتان کی صوبائی حکومت نے غیر جماعتی بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے اور اس کے ساتھ ایک دلچسپ شرط یہ بھی لگائی ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں کامیاب ہونے والے تین دن کے اندر کسی جماعت میں شامل ہوجائیں۔

پختونخوا میں 2008 سے 2013 تک اے این پی کی حکومت رہی۔ اے این پی کی قیادت مڈل کلاسوں پر مشتمل ہے اور بدقسمتی سے اس میں ایسے دانشور شامل ہیں جو مارکسسٹ دانشور کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں لیکن بھلا ہو منڈی کی معیشت کا کہ اس نے نہ صرف مارکسزم کو شکوک و شبہات کے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے بلکہ اپنے بعض ماننے والوں کو بھی اس قدر موقع پرست بنادیا ہے کہ عوام، عوامی مفادات، عوام کی بالادستی کے سارے فلسفے ان کی نظروں سے اوجھل ہوگئے ہیں۔

یہ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ اے این پی کی ترقی پسند حکومت نے بھی بااختیار بلدیاتی نظام کے بجائے انگریزوں کے مفادات کے محافظ کمشنری نظام کی حمایت کی اس انقلاب کی وجہ بھی یہی نظر آتی ہے کہ ترقی پسند مڈل کلاس کی قیادت بھی بلدیاتی نظام میں انتظامی اور مالی اختیارات نچلی سطح تک لے جانے کے خلاف ہے۔

بلوچستان میں جب ایک مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والی معروف سیاسی شخصیت ڈاکٹر عبدالمالک کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا تو ڈاکٹر مالک سے کئی امیدیں وابستہ کرلی گئیں لیکن ڈاکٹر مالک کو جس صوبے کا مالک بنایا گیا ہے اس کی ملکیت کا جھگڑا اب اس مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں حکومتی رٹ گولیوں میں گم ہوگئی ہے، ایسے باغیانہ ماحول میں بلدیاتی نظام خواہ وہ 1979 کا ہو یا 2002 کا فریب نظر بن گیا ہے۔ رقبے کے حوالے سے پاکستان کا یہ سب سے بڑا صوبہ اور قدرتی وسائل کے حوالے سے پاکستان کا یہ سب سے مالدار صوبہ ابھی زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے، اس کشمکش میں بلدیاتی انتخابات اس لیے نظروں سے اوجھل ہیں کہ یہاں ابھی تک حکومت ہی نامکمل ہے، لیکن امید ہے کہ اگر حالات بہتر ہوئے تو ڈاکٹر مالک اس صوبے سے سرداری نظام ختم کرنے کے لیے انتظامی اور مالیاتی اختیارات کا حامل بلدیاتی نظام نافذ کریں گے۔

یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ عدلیہ کو بلدیاتی انتخابات کا حکم دینا پڑ رہا ہے، بلدیاتی انتخابات کرانا سیاسی حکومتوں کی ذمے داری ہے اور سیاسی حکومتیں 65 سال سے بلدیاتی انتخابات سے گریزاں ہیں، ایسا کیوں؟

اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں پاکستان کی ''جمہوری تاریخ'' پر نظر ڈالنی ہوگی۔ ذوالفقار علی بھٹو کو جمہوری تاریخ کا معمار کہا جاتا ہے لیکن یہ کیسی جمہوری تاریخ ہے کہ بھٹو سے لے کر آصف علی زرداری اور میاں برداران کی حکومتوں تک کسی کو بلدیاتی نظام کی ضرورت کا احساس نہیں ہوا، اس کی وجہ اختیارات کو اپنے ہاتھوں میں رکھنے کی وہ خواہش ہے جو وڈیرہ شاہی جمہوریت کی اساس ہے۔ اس وقت بلدیاتی نظام اور بلدیاتی انتخابات دونوں وڈیرہ شاہی جمہوریت کے پنجوں میں جکڑے ہوئے ہیں، وڈیرہ شاہی جمہوریت کے سرپرستوں کو ہرگز یہ گوارا نہیں کہ مڈل اور لوئر مڈل کلاس کو کسی طرف سے بھی سیاسی میدان میں آگے آنے کا موقع ملے۔

کیونکہ یہ کلاس اکیسویں صدی کو اپنے قبضے میں رکھنے کے لیے ولی عہدوں، شہزادوں، شہزادیوں کی جو کھیپ تیار کر رہی ہے کوئی بھی بااختیار بلدیاتی نظام اس کھیپ کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ جمہوری ملکوں میں قومی سیاسی قیادت کا راستہ بلدیاتی نظام سے ہوکر گزرتا ہے اور وڈیرہ شاہی خاندانی جمہوریت کے راجے مہاراجے اس طویل راستے کو اپنانے کے بجائے ٹارزنوں کے راستے کو اپنانا چاہتے ہیں جس میں سیاسی قیادت دولت اور ایلیٹ کی ٹہنیوں سے لٹک کر عوام کے سروں پر کودتی ہے۔

لیکن امید ہے کہ اس ملک کی رہی سہی مخلص سیاسی قیادت اور آنکھیں ملتا نیم دروں نیم بروں میڈیا اس اشرافیائی سازش کو ناکام بنانے میں اپنا کردار ادا کرے گا اور ایک بااختیار بلدیاتی نظام کی حمایت کرکے سیاسی اشرافیہ اور اس کے موقع پرست اتحادیوں کی سازش کو ناکام بنادے گا۔

مقبول خبریں