مالی بحران جامعہ کراچی کے کنٹریکٹ افسران لاکھوں روپے تنخواہ لینے لگے

شیخ الجامعہ کے مشیر سہیل برکاتی کنٹریکٹ ختم ہونے کے باوجود عہدے پر براجمان ہیں


Safdar Rizvi September 03, 2013
2درجن ریٹائرافسران یونیورسٹی پر مالی بوجھ بن گئے،ریٹائر افسران و ملازمین کے اثرو رسوخ کے سبب یونیورسٹی جان چھڑانے میں ناکام فوٹو: فائل

جامعہ کراچی میں کنٹریکٹ پرکام کرنیوالے ریٹائر افسران اور ملازمین یونیورسٹی پر مالی بوجھ بن گئے ہیں، طاقت ورپس منظر اور یونیورسٹی کے حلقوں میں اثرورسوخ رکھنے کے سبب یونیورسٹی انتظامیہ کا ان سے جان چھڑانا مشکل ہوگیا ہے۔

جامعہ کراچی میں شیخ الجامعہ کے مشیر پروفیسرسہیل برکاتی کئی برس قبل ریٹائرہوچکے ہیں گورنرسیکریٹریٹ کی اجازت کے بغیر اور عدالت عظمیٰ کے احکامات کے برخلاف ان کوکنٹریکٹ پر ملازمت دی گئی اورکئی بار اس میں توسیع کی گئی ان کے کنٹریکٹ کی مدت 5 جون کوپوری ہوچکی ہے جس کے بعد سے تاحال ان کے نئے کنٹریکٹ کاکوئی نوٹیفکیشن سامنے نہیں آسکا اور یہ واضح نہیں ہے کہ وہ بحیثیت مشیر شیخ الجامعہ اب کس حیثیت میں کام کررہے ہیں، یونیورسٹی ذرائع کے مطابق کنٹریکٹ ختم ہونے کے باوجود ان کو تنخواہ باقاعدگی سے جاری ہورہی ہے۔

پروفیسرسہیل برکاتی بظاہرشیخ الجامعہ کے مشیر ہیں تاہم جامعہ کراچی کا انجینئرنگ کا شعبہ عملی طور پر ان ہی کے ماتحت ہے اس کے باوجود انجینئرنگ کے شعبے میں کسی قسم کی بہتری نہیں آسکی ہے جامعہ کراچی میں سڑکوں کا برا حال ہے یونیورسٹی سے پوائنٹ ٹرمینل سے اے کیوخان سینٹر اورشعبہ فوڈ اینڈ سائنس جانے والی سڑک اب سڑک نہیں رہی ہے بلکہ گڑہوں میں تبدیل ہوچکی ہے ایساہی کچھ حال بوائز ہاسٹل سے سیمسٹر سیل اورانرولمنٹ سیکشن سے پوسٹ آفس آنے والی سڑک کاہے تاہم شعبہ انجینئرنگ سڑکوں کی مرمت کو تیار نہیں پروفیسرسہیل برکاتی کی تقرری کے وقت انھیں جامعہ کراچی کو بدترین مالی خسارے سے نکالنے کا ٹاسک دیا گیا تھا جبکہ جامعہ کراچی دن بدن مالی خسارے میں دھنس رہی ہے لیکن یونیورسٹی کی آمدنی میں اضافے اور اخراجات پرقابوپانے کے لیے کوئی حکمت عملی سامنے نہ آسکی۔



کراچی یونیورسٹی میں دودرجن سے زائد ایسے افسران اور ملازمین ہیں جو ریٹائرمنٹ کے باوجود کنٹریکٹ پرکام کررہے ہیں جس کے سبب ایک جانب حاضرسروس ملازمین کی حق تلفی ہورہی ہے تو دوسری جانب جامعہ کراچی ان کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات کی مد میں لاکھوں روپے ماہانہ خرچ کررہی ہے جامعہ کراچی کے رجسٹرار پروفیسر منصور احمد بھی ریٹائر ہیں جبکہ شعبہ امتحانات نے بھی اپنے انتہائی حساس سیکشن ''کونفیڈینشل برانچ'' میں بھی ریٹائر پروفیسر رئیس احمد کوکنٹریکٹ دے رکھاہے جبکہ ریٹائرمنٹ کے باوجود حسنین میاں بھی وہاں کام کررہے ہیں جبکہ ایک لوئرگریڈ میں کام کرنے والے محمد وصی کا کنٹریکٹ ریٹائر ہونے پر ختم کردیا گیا کہ ان کے پاس سفارش نہیں تھی ڈپٹی رجسٹرار نصیرالدین بھی ریٹائرہیں۔

اس سیکشن میں اب تجربہ کار ملازمین کی کمی نہیں ہے اس کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ ڈپٹی رجسٹرار اور شعبہ امتحانات پروفیسر رئیس احمد کو ہٹانے کیلیے تیار نہیں رجسٹرارآفس میں ایک اور ریٹائر افسر ناصر الدین بھی اسسٹنٹ رجسٹرارکے عہدے پرکام کررہے ہیں وائس چانسلر آفس میں محمد نیاز ریٹائر ہیں شعبہ مالیات میں ریٹائرمنٹ کے باوجود انیس احمد کوملازمت دی گئی ہے شعبہ ابلاغ عامہ میں پروگرامرکے طورپر پروفیسر انعام باری،کوالٹی انہاسمنٹ سیل میں پروفیسرساجدین، اکاؤنٹ آفس میں عبدالباری اورفزیکل ایجوکیشن میں عابد شاہین بھی ریٹائرہیں اسی طرح جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر فنانس بھی ایک ریٹائر افسر ہیں''ایکسپریس'' نے پروفیسرسہیل برکاتی کے کنٹریکٹ میں توسیع اور دیگر ریٹائر ملازمین کے معاملے پر جامعہ کراچی کا موقف جاننے کے لیے رجسٹرار پروفیسر منصور احمد سے رابطہ کیا تاہم وہ رابطے سے گریز کرتے رہے۔

مقبول خبریں