مشترکہ حکمت عملی

کراچی میں ایک طرف سیاسی بنیادوں پر لوگوں کو قتل کیا جاتا ہے۔


Dr Tauseef Ahmed Khan September 03, 2013
[email protected]

کراچی میں 10 دن میں 100 افراد ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوئے۔ سپریم کورٹ کی کراچی بے امنی مقدمے کی سماعت کے دوران انکشاف ہوا کہ کراچی کی بندرگاہ سے غیر قانونی طور پر نکلنے والے 19 ہزار کنٹینروں کی وجہ سے شہر میں اسلحہ پھیلا۔ ایم کیو ایم کراچی کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے فوج کو بلانے کا مطالبہ کررہی ہے۔ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی ٹارگٹڈ آپریشن کو کراچی میں امن کی بحالی کے لیے کافی قرار دے رہے ہیں ۔ وفاقی حکومت نے کراچی میں وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد کرنے سے متعلق جو فیصلہ کیا ہے وہ انتہائی اہم ہے۔ کراچی کا مسئلہ پیچیدہ ترین ہوچکا ہے۔

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی مختلف نوعیت سامنے آتی ہیں۔ کراچی میں ایک طرف سیاسی بنیادوں پر لوگوں کو قتل کیا جاتا ہے تو دوسری طرف مذہبی انتہاپسند گروپ مخالف فرقے کے متحرک افراد کو قتل کرکے اپنی دانست میں ثواب کماتے ہیں، طالبان اپنے مخالف افراد کو ہلاک کررہے ہیں۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی ایک اور قسم بھتہ نہ دینے پر قتل کا رواج ہے۔ تاجروں، ڈاکٹروں اور صاحب ثروت افراد اور ان کے بچوں کو قتل کیا جاتا ہے۔ ایک گروہ فوج، رینجرز اور پولیس افسران کو نشانہ بناتا ہے۔ لیاری میں جاری گینگ وار میں کئی سو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ گینگ وار میں شامل منحرف گروپوں سے منسلک افراد کی لاشیں شہر کے مختلف علاقوں سے برآمد ہوتی ہیں۔ ان وارداتوں کے علاوہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے قوم پرستوں کی لاشیں کراچی کے مضافاتی علاقوں سے برآمد ہوتی ہیں۔

کراچی میں امن و امان کی رپورٹنگ کرنے والے بعض صحافیوں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں سیاسی جماعتوں کے عسکری گروپوں کا ذکر ہوا ہے، اسی طرح مختلف جرائم پیشہ مافیاز کی سرکوبی کی بات بھی ہوتی ہے۔ مگر ایجنسیوں کے ملوث ہونے کے بارے میں خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ ان صحافیوں کا کہنا ہے کہ نیول انٹیلی جنس ایجنسی کے بعض افسروں کے اغوا برائے تاوان کے انکشاف سے بھی صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے۔ بعض افسران یہ بھی کہتے ہیں کہ کراچی میں ہونے والی فرقہ وارانہ لڑائی میں سب سے بڑے اسلامی ملک کی سرمایہ کاری نے بھی حالات کو مخدوش کردیا ہے۔

پولیس فورس کے اہلکار صورتحال سے لاتعلق ہوگئے ہیں۔ سول انٹیلی جنس نیٹ ورک ناکارہ ہوچکا ہے۔ فوج کی ذیلی تنظیم رینجرز اپنا کردار کھوچکی ہے۔ کراچی اور اس کے مضافاتی علاقوں میں طالبان نے اپنا BASE بنایا ہوا ہے۔ پولیس اور رینجرز کے افسران اس صوتحال کا زور و شور سے ذکر کرتے ہیں مگر ان علاقوں میں ریاست کی رٹ قائم کرنے میں سنجیدگی نہیں دکھاتے، نتیجتاً طالبان اپنا دائرہ کار بڑھا رہے ہیں۔ سینئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ ریاستی ادارے مضافاتی علاقوں میں ریاست کی رٹ قائم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، حالات دگرگوں ہوتے جارہے ہیں۔ ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ فوج کی مداخلت سے صورتحال بہترہوسکتی ہے۔

گزشتہ صدی کے 80 کی دہائی کا جائزہ لیا جائے تو جنرل ضیاء الحق کے دور کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور کے آخری حصے میں کراچی میں بشریٰ زیدی کے قتل کے بعد شہر میں صورتحال بگڑنی شروع ہوئی، جنرل ضیاء الحق کے دور میں ہیروئن کلچر اور کلاشنکوف کلچر عام ہوا اور شہر میں لسانی اور فرقہ وارانہ تضادات ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس میں سیاسی بھرتیاں بھی شروع ہوئیں۔ اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بڑھیں اور اہم سیاسی و صحافتی کارکنوں کو چن چن کر قتل کیا گیا۔ شہر کے مختلف علاقوں میں قائم ٹارچر کیمپوں کا خوب ذکر آیا۔ یہ فوج کا دور تھا۔ نواز شریف کے دورِ حکومت میں فوج نے آپریشن شروع کیا۔ اس آپریشن میں ایم کیو ایم کے ہزاروں کارکن لاپتہ ہوگئے، یوں یہ آپریشن متنازعہ ہوگیا۔

وزیراعظم نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں فوجی عدالتوں کا تصور پیش کیا گیا مگر سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کو غیر آئینی قرار دے دیا۔ وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں وزیر داخلہ جنرل نصیراﷲ بابر کی زیر کمان پولیس، رینجرز، سول، عسکری اور خفیہ ایجنسیاں متحرک ہوئیں اور شہر میں امن ہوا مگر ماورائے عدالت قتل کی وارداتوں کی بنا پر یہ آپریشن بھی متنازعہ شکل اختیار کرگیا۔ ایم کیو ایم کا فوج کو بلانے کا مطالبہ ایک خطرناک صورتحال کی طرف حالات کو لے جانے کی نشاندہی کرتا ہے۔

اگر فوج کو کراچی میں آپریشن کی ذمے داری دی گئی تو اس بات کا خدشہ ہے کہ ایم کیو ایم کے کارکن اس کا سب سے زیادہ نشانہ بنیں گے۔ وزیر داخلہ کی تجویز ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کو سرجیکل آپریشن کا سربراہ مقرر کیا جائے مگر حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ وزیراعلیٰ سندھ تنہا پولیس کے نظام کو متحرک نہیں کرسکتے۔ کراچی میں امن و امان کے لیے ضروری ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومت، عسکری مقتدرہ، پولیس اور خفیہ ایجنسیاں ایک حکمت عملی کے تحت کام کریں۔ حکومت فرقہ وارانہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مختلف غیر ملکی قوتوں کی مالیاتی امداد روکے، کراچی میں اسلحے کے آنے کے تمام راستے بند کیے جائیں اور اسلحے کے اسمگلروں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ کہا جاتا ہے کہ اسلحہ عمومی طور پر قبائلی علاقوں سے پشاور اور کوئٹہ کے راستے کراچی تک آتا ہے۔

اب کراچی کی بندرگاہ سے بھی اسلحے کی اسمگلنگ کا ذکر ہونے لگا ہے۔ اسلحے کے کاروبار میں بااثر افراد، بیوروکریٹس، فوجی افسران اور بڑے جاگیردار ملوث ہیں۔ کراچی میں اسلحے کی فراہمی کو روکنے کے لیے ملک بھر میں اقدامات ضروری ہیں۔ مہاجر ریپبلکن آرمی جیسی تنظیموں کا اگر سنجیدہ فورمز پر ذکر کیا جارہا ہے تو تمام حقائق سامنے آنے چاہئیں۔ یہ معاملہ کراچی کی بندرگاہ سے کنٹینروں کے لاپتہ ہونے کا ہے، محض الزامات لگانے سے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔

آپریشن کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ گواہوں، پولیس افسران، سرکاری وکلا اور ججوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی جائے اور ان افراد کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ وزیر داخلہ اور وزیراعلیٰ مشترکہ طور پر آپریشن کی نگرانی کریں اور میرٹ کی بنیاد پر بلا کسی تعصب و تفریق کے کارروائی کی جائے۔ تمام پولیس، رینجرز، فوج، سول انٹیلی جنس نیٹ ورک اور عسکری خفیہ ایجنسیاں حکومتی پالیسی کی پابندی کریں۔ محض بیانات، اجلاسوں اور عدالتی فیصلوں سے حالات بہتر نہیں ہوسکتے۔