ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
گرفتار ہونے پر اس نے اعتراف کر لیا تھا لیکن اس کے باوجود بھی تھانے کا ایس ایچ او اسے مارنے لگا.
لگ بھگ پنتالیس پچاس سال پہلے کی بات ہے، ہمارے قریبی پہاڑی علاقے میں ایک جعلی پیر نہ جانے کہاں سے آ گیا۔ آسمان سے ٹپکا تھا یا زمین سے اگا تھا لیکن کسی قریبی علاقے کا نہیں تھا، بہت نورانی قسم کا حلیہ بنا کر بیٹھ گیا، آٹھ دس بوڑھیوں کو میڈیکل ریپ یعنی ایجنٹ رکھ کر اس نے تھوڑے ہی عرصے میں اپنے آپ کو مرجع خلائق بنا لیا، جنات اتارنے سے لے کر اولاد دینے تک اور ہر قسم کی بیماری کے تعویز سے لے کر امیر بنانے تک کے نسخے اس کے پاس تھے، اکثر لوگوں سے وہ شکرانے کے ساتھ ساتھ ایک ایک بکری بھی حاصل کرتا تھا چنانچہ تھوڑے ہی عرصے میں انسانی ریوڑ کے علاوہ بکریوں کے بڑے ریوڑ کا بھی مالک ہو گیا جو پہاڑ میں آوارہ پھر کر اس کی آمدنی بڑھانے کا ایک اور ذریعہ بن گیا۔ کوئی آٹھ دس ماہ اس کا میلہ جما رہا، پھر کسی خدا کے نیک بندے نے اسے قتل کر کے ثواب دارین حال کر لیا۔
ہمیں یاد ہے ایک بزرگ نے یہ خبر سنی تو تبصرہ کرتے ہوئے بولے، ایک بار سے کیا ہوتا ہے، کم از کم دس بار تو قتل کرنا چاہیے۔ دراصل اس کی ایک تازہ بیوی نے ایک نوجوان کے ساتھ ساز باز کر کے قتل کرایا تھا کیونکہ نہ صرف نکاحوں کا دھنی تھا بلکہ عورتوں کے معاملے میں اس کا عقیدہ وہی تھا جو غالب کا آموں کے بارے میں تھا کہ میٹھے ہوں اور بہت ہوں، اس کے علاوہ وہ عورتوں خاص طور پر اپنی بیویوں پر بے پناہ تشدد بھی کرتا تھا کیونکہ ہر کسی کو اپنے جیسا سمجھ کر شک و شبے کا سخت مریض تھا جس نوجوان نے اسے قتل کیا تھا، گرفتار ہونے پر اس نے اعتراف کر لیا تھا لیکن اس کے باوجود بھی تھانے کا ایس ایچ او اسے مارنے لگا، نوجوان نے کہا ۔۔۔ جناب میں نے تو اعتراف کر لیا ہے، اب مجھے کس لیے مارتے ہو۔۔۔ اس پر ایس ایچ او بولا ، میں تمہیں اس لیے نہیں مار رہا ہوں کہ تم نے اسے قتل کیا بلکہ اس لیے مار رہا ہوں کہ اتنی دیر سے کیوں مارا، دو چار سال پہلے کیوں نہیں مارا۔ خیر کیس کا تو کچھ نہیں ہوا کیونکہ مدعی اس کی بیوی تھی، کچھ عرصے بعد اس نے نوجوان سے راضی نامہ کر لیا اور دونوں راضی خوشی نکاح کر کے پیر صاحب کی دولت پر عیش کرنے لگے، لیکن یہ بات ہم کبھی نہیں بھلا پائے کہ بعض کام اتنی دیر کر کے نہیں کرنے چاہئیں جو کل کرے سو آج کر جو آج کرے سو اب کر،
کیا بھروسہ ہے زندگانی کا
آدمی بلبلہ ہے پانی کا
اور پھر ضرورتیں اور خواہشیں بھی تو آرام سے نہیں بیٹھیں، مسلسل خاندانی منصوبہ بندی کی خلاف ورزی کر کے نئے نئے بچے دیتی رہتی ہیں۔ آج ایک خواہش ہوتی ہے، اس کے نیچے اور کئی ضرورتیں پھوٹتی رہتی ہیں، اس لیے جو بھی کرنا آج ہی کرنا اچھا ہوتا ہے۔
خیرے کن اے فلاں و غنیمت شمار عمر
زاں پیشتر کہ بانگ برآید فلاں نماند
اور آج کل تو اس پیر کے قتل پر اس تھانیدار کا تبصرہ ہمیں اکثر یاد آتا رہتا ہے، کتنے کام تھے جو ہمیں بروقت کرنے چاہیے تھے لیکن کل پر ٹالتے رہے ٹالتے رہے خاص طور پر ''بڑے لوگوں''سے تعلقات کا ارمان تو اب حسرت بن کر رہ گیا ہے۔
ہے غیب، غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود
ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں
پہلے زمانے میں اس کی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں تھی، صرف مونچھوں کو تاؤ دینے کے لیے بڑے لوگوں سے تعلقات رکھے جاتے تھے اور محفل وغیرہ میں ان سے جتا کر دو گھڑی خوش ہو لیتے تھے کہ چلو اور تو کچھ نہیں ہے لیکن فلاں فلاں سے شناسائی تو ہے۔
دے وہ جس قدر ذلت ہم خوشی میں ٹالیں گے
بارے آشنا نکلا ان کا پاسباں اپنا
لیکن اب آ کے پتہ چلا کہ بڑے لوگوں سے شناسائی کالم لکھنے کے لیے کتنی ضروری ہے، کہاں ہمارا سوکھا ساکھا سیدھا سادا کالم اور کہاں ایسا کالم جس کی ابتداء ہی پڑھنے والوں کے کان کھڑے کر دے، مثلا کل وزیر اعلیٰ صوبہ فلاں نے ہم سے ٹیلی فون پر پوچھا کہ اگر میں کھانے کے بعد پانی پیوں تو کیسا رہے گا، صوبے کی ترقی پر کوئی اثر پڑے گا یا نہیں یا وزیر اعظم کے سیکریٹری... اگر ہمیں ٹیلی فون کر کے وزیراعظم کے بارے میں بتاتے رہتے ہیں، کل رات ان کا ٹیلی فون آیا تو حزب اختلاف کے قائد سے دوسرے فون پر بات کر رہا تھا، پچھلے ہفتے جناب صدر سے ایک ڈنر پر بات ہو رہی تھی کہ ۔۔۔۔ چنانچہ ہمیں شدت سے احساس ہونے لگا ہے کہ ہمارا کالم روز بروز تہی دست ہو رہا ہے جس میں زیادہ سے زیادہ عوام میں سے کسی کو خاص بنا کر بات کر سکتے ہیں یعنی کسان مزدور چھابڑی فروش یا طبقہ چہارم کے کسی سرکاری اہل کار سے ۔۔۔۔ کیونکہ ہماری پہنچ ہی بس یہیں تک ہے، ملا کی دوڑ مسجد تک ۔۔۔ اور ان لوگوں کو تو پڑھنے والے براہ راست جانتے ہیں، بیج میں ہم کیوں دخل در معقولات کرتے ہیں۔
کیا فرض ہے کہ خضر کی ہم پیروی کریں
مانا کہ ایک بزرگ سر رہ گزر ملے
چنانچہ شدت سے اپنی تہی دامنی کا افسوس ہوتا ہے۔ کاش ہم بھی ایسے ہی دو چار حوالے دے سکتے، اب تو بہت دیر ہو چکی ہے کیونکہ کوشش تو ہم نے بہت کی لیکن کسی سے بھی شناسائی کا ٹانکا نہیں جڑا۔ نہ جانے بڑے لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ چائے یا کھانے پر بلانا، رات گئے ٹیلی فون کرنا اور مسودہ مانگنا تو دور ۔۔۔۔ ملاقات کے لیے راضی نہیں ہوتے، پچھلی حکومت میں ہم نے بہت کوشش کی کچھ وزیر وغیرہ پہلے سے شناسا بھی تھے لیکن رابطہ کرنے پر پتہ چلا کہ بے چاروں کی یادداشت ہی چلی گئی ہے اور ہمارا نام یادداشت کے اسی خانے میں تھا جو حصہ چلا گیا تھا،
پلٹ کے سوئے چمن دیکھنے سے کیا حاصل
وہ شاخ ہی نہ رہی جو تھی آشیاں کے لیے
بہت پہلے کرنے والے کاموں میں صرف یہ ہی نہیں بلکہ ایک اور کام بھی ہے جو ہم نے اگر تیس چالیس سال پہلے کیا ہوتا تو اب اس کا پھل بھی کھا رہے ہوتے لیکن افسوس کہ اس وقت ہم خود داری اور طرم خانی کے گھوڑے پر سوار تھے، توجہ ہی نہیں دی ۔۔۔ اب کرنا چاہتے ہیں لیکن دیر ہو چکی ہے، یہ کام وہ ہے جس میں ''لفافے'' ملتے ہیں، اس سلسلے میں ہم نے کیا کچھ نہیں کیا لیکن لفافہ کی شکل تک نہیں دیکھ پائے۔
سبزہ و گل کہاں سے آتے ہیں
ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے
کیا بتائیں جب ہم کسی لفافہ شناس کے بارے میں سنتے ہیں تو کتنا دکھ ہوتا ہے، ایسا کوئی ٹونا ٹوٹکا نہیں جو ہم نے آزمایا نہ ہو، ایک مرتبہ کسی نے بتایا کہ خاص خاص لوگوں کی تعریف کرو تو لفافہ ملتا ہے چنانچہ ہم نے چند لوگوں کو نشانے پر رکھ کر وہ تعریفیں کیں کہ وہ خود بھی پڑھ کر حیران ہوتے رہے ہوں گے یہ کس کا ذکر ہو رہا ہے، لفافہ تو نہیں ملا لیکن کچھ لوگ جو ہمارے فین تھے ہم سے بچھڑ گئے اور ان لوگوں کے جو مخالف تھے وہ ہمارے دشمن بن گئے، گویا نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے ہوئے، نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
آسماں کتنے لفافے ہیں تیری محفل میں
اپنی قسمت کا مگر کوئی ''لفافہ'' نہ ہوا
پھر کسی نے بتایا کہ لفافے تعریف سے نہیں ملتے بلکہ مخالفت سے ملتے ہیں کیونکہ منہ بند کرنے کے دہن سگ بہ لقمہ دوختہ بہ کا اصول چلتا ہے، سو یہ بھی کیا لیکن وہی بات، یہاں بھی ''دیر'' ہو چکی تھی، وہ گربہ کشتن روز اول والی بات تو آپ نے سنی ہی ہو گی اور ہم دوسرے دن بلی مارنے چلے تھے، بزرگوں نے اسی لیے تو کہا ہے کہ
ہرچہ دانا کند، کند ناداں
لیک بعد از خرابیٔ بسیار
آپ سے کیا پردہ ، جب لوگوں سے سنا کہ ڈالروں والے بابا بھی بڑے دیالو ہیں تو ہم نے بھی جھولی پھیلائی کہ چلو اس گنگا میں اشنان کریں، منہ میں ہزار لیموں نچڑ جاتے تھے، جب یہ سنتے تھے کہ فلاں فلاں ڈالروں والے بابا کے پے رول پر ہے، یہاں وہاں سے کوئی راستہ نہیں ملا تو سیدھے سیدھے ایک ایسے ہی صاحب کے پاس گئے جن کے بارے میں مشہور تھا کہ ڈالروں والے بابا سے خاص تعلق رکھتے ہیں لیکن وہ صاف مکر گئے کہ یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہو گی، مطلب اس سارے قصے کا یہ ہے کہ جب وقت تھا ہم نے وہ کام کیا نہیں اور اب سانپ گزر چکا ہے اور ہم لکیر کے سامنے بیٹھ کر خود کو پیٹ رہے ہیں کیونکہ لکیر کو تو پیٹ پیٹ کر تھک چکے ہیں۔
عمر ساری تو کٹی عشق بتاں میں مومنؔ
آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے