صدر کی باوقار رخصت ایک تاریخ ساز واقعہ

پارٹی میں ایک ایسا خلا تھا جسے آصف علی زرداری کے سوا کوئی اور پُر نہیں کرسکتا تھا۔


Zahida Hina September 03, 2013
[email protected]

2008کے عام انتخابات کے موقعے پر شاید کوئی فرد بھی ایسا نہیں تھا جس نے یہ گمان کیا ہو کہ ایک فوجی آمر کی زیر نگرانی ہونے والے انتخابات کے بعد ایسے واقعات رونما ہوں گے جن کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ہوگی۔ 2008 میں پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹ میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی لیکن اسے ایوان میں سادہ اکثریت حاصل نہیں تھی۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت ہوچکی تھی۔ پارٹی میں ایک ایسا خلا تھا جسے آصف علی زرداری کے سوا کوئی اور پُر نہیں کرسکتا تھا۔ ان کا تعلق سندھ سے ہے جہاں کا تقریباً ہر نوجوان ماضی میں سیاسی کارکن رہ چکا ہے۔ اس اعتبار سے زرداری صاحب ایک سیاسی کارکن ضرور تھے لیکن ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پاکستان کی ایک انتہائی اہم قومی جماعت کی قیادت کرنا اور بعد ازاں صدر مملکت کا منصب سنبھالنا ان کے لیے کسی غیر معمولی چیلنج سے کم نہیں تھا۔ انھوں نے یہ دونوں چیلنج قبول کیے اور اب چند روز بعد وہ صدر کے عہدے کی آئینی میعاد مکمل کرکے سبکدوش ہونے والے ہیں۔ اس طرح پاکستان کی 65 سالہ تاریخ کا یہ پہلا واقعہ بھی ہمارے سامنے رونما ہونے والا ہے کہ جب ایک منتخب صدر دوسرے منتخب صدر مملکت کو یہ منصب منتقل کرے گا۔

صدر آصف علی زرداری کو اپنے دور اقتدار میں بدترین تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کے سیاسی اور ذاتی مخالفین کی ایک بہت بڑی تعداد ملک میں موجود ہے جو انھیں تنقید کا نشانہ بنانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی ۔ تاہم بعض معاملات ایسے ہیں جن کا فیصلہ وقت اور تاریخ کرے گی، لیکن آج یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ گزشتہ 5 برسوں کے دوران پاکستان میں جو حیران کن واقعات ہم نے دیکھے ہیں ان میں صدر آصف علی زرداری اور موجودہ وزیراعظم محمد نواز شریف کا کلیدی کردار رہا ہے۔

اس امر میں دو رائے نہیں ہوسکتی کہ ملکی تاریخ میں جب پہلی مرتبہ ایک اسپیکر نے دوسرے اسپیکر ،ایک منتخب پارلیمنٹ نے دوسری منتخب پارلیمنٹ اور ایک وزیراعظم نے دوسرے وزیراعظم کو اقتدار اور اختیار منتقل کیا تو اس کی داد آصف علی زرداری، میاں نواز شریف اور دیگر منتخب اور غیر منتخب سیاسی قائدین اور جماعتوں کے ساتھ آزاد عدلیہ، میڈیا اور طاقت ور سول سوسائٹی کو دینی چاہیے۔

صدر آصف علی زرداری کی مخلوط حکومت کو غیر مستحکم کرنے اور گرانے کے لیے نواز شریف نے نہ صرف کوئی کوشش نہیں کی بلکہ جب بھی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کا کوئی موقع سامنے آیا تو انھوں نے کھل کر اس کی مزاحمت کی اور یہ بات واضح کردی کہ جمہوری عمل کے تسلسل میں کوئی تعطل برداشت نہیں کیا جائے گا اور وہ بہ اصرار یہ کہتے رہے کہ پارلیمنٹ کو اپنی میعاد ہر قیمت پر مکمل کرنی چاہیے۔ ابتدائی مرحلے میں صدر آصف علی زرداری نے پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو معطل کرکے گورنر راج ضرور نافذ کیا لیکن اپنی سیاسی ناکامی کو دیکھ کر انھوں نے پسپائی اختیار کی اور آیندہ پنجاب حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔

وہ یہ سمجھ گئے تھے کہ میاں نواز شریف اب ایک بدلے ہوئے سیاستدان ہیں، انھوں نے تلخ سیاسی تجربات سے یہ سبق حاصل کیا ہے کہ دونوں بڑی جماعتوں کو ایک دوسرے کی حکومتوں کو گرانے کا شیطانی چکر ختم کرکے سیاسی بالغ نظری اور پختگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور اپنی نگاہ آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوری عمل کے تسلسل پر مرکوز رکھنی چاہیے، اسی میں ملک اور سیاسی قوتوں دونوں کی بقا اور استحکام مضمر ہے۔

گزشتہ پانچ برسوں کے دور حکومت میں پاکستان پیپلزپارٹی کی مخلوط حکومت کو بڑے کڑے دن دیکھنے پڑے۔ اس کی اتحادی جماعتوں میں صرف اے این پی وہ واحد اتحادی تھی جس نے وفاقی حکومت کے لیے کسی قسم کے مسائل پیدا نہیں کیے اور نہ اسے غیر مستحکم کرنے کی کوئی کوشش کی۔ اے این پی کے علاوہ دیگر اتحادیوں نے اقتدار کے مزے بھی لوٹے اور وفاقی حکومت کو اپنے دباؤ میں بھی رکھا۔ بعض ایسے نازک موقعے بھی آئے جب پیپلزپارٹی کی اتحادی جماعتوں نے اسے تنہا چھوڑ دیا۔

کم از کم ایک بار ایسی صورت حال پیدا ہوئی کہ جب پیپلزپارٹی کی حکومت پارلیمنٹ میں اکثریت سے محروم ہوسکتی تھی لیکن اس مرحلے پر مسلم لیگ ن نے اپوزیشن میں ہونے کے باوجود حکومت کو ختم نہیں ہونے دیا اور حکومت کے اتحادیوں کو واپس وفاقی حکومت میں واپس آنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ایسے حالات میں زرداری صاحب کے پاس صرف 2 راستے تھے۔ ایک یہ کہ اتحادیوں کو مفاہمت کے نام پر ساتھ رکھا جائے، ان کے تمام جائز اور ناجائز مطالبات پورے کیے جائیں، ان کی کوتاہیوں اور عدم تعاون کے باعث پیدا ہونے والے سنگین مسائل کی ذمے داری اپنے سر لی جائے اور اس کی سیاسی قیمت ادا کی جائے یا پھر حکومتی اتحادیوں کے دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنی حکومت کو داؤ پر لگادیا جائے۔

یہ امر تسلیم کرنا ہوگا کہ زرداری صاحب نے اپنی جماعت کی سیاسی ساکھ کو داؤ پر لگادیا لیکن حکومت کو ختم نہیں ہونے دیا۔ یہ فیصلہ درست تھا یا غلط اس کا تعین وقت کرے گا۔ حالیہ انتخابات میں پیپلزپارٹی کو جس بدترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے اس سے وقت نے یہ تو ثابت کردیا ہے کہ اتحادیوں کو ہر قیمت پر ساتھ رکھنے کا فیصلہ انتخابی لحاظ سے پاکستان پیپلزپارٹی کے لیے تباہی کا سبب ثابت ہوا۔

اس نکتے پر البتہ بحث ہوتی رہے گی کہ اگر زرداری صاحب اتحادیوں کی بلیک میلنگ کے سامنے ہتھیار نہ ڈالتے اور اس کے نتیجے میں حکومت کا خاتمہ ہوجاتا اور کسی بھی جماعت کو اکثریت نہ ملنے کی صورت میں پارلیمنٹ تحلیل ہوجاتی تو کیا جمہوری عمل کا تسلسل جاری رہ سکتا تھا؟ یا پھر بنگلہ دیش ماڈل پاکستان کا مقدر ٹھہرتا؟ غالب امکان یہی تھا پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک منتخب حکومت سے دوسری منتخب حکومت کو اقتدار منتقل ہونے کا موقع نہ آتا۔ میاں نواز شریف کو اس صورت حال کا اندازہ تھا لہٰذا انھوں نے فرینڈلی اپوزیشن کا طعنہ برداشت کیا لیکن ایک ذمے دار اور جمہوریت پسند رہنما کا کردار ادا کیا اور صدر آصف علی زرداری کی مجبوریوں کا سیاسی فائدہ اٹھانے سے گریز کیا۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ عوام نے میاں صاحب کو ایک ذمے دار اور متحمل مزاج رہنما سمجھتے ہوئے انھیں اور ان کی جماعت کو بھرپور انتخابی کامیابی سے ہمکنار کیا۔

صدر آصف علی زرداری نے گزشتہ دنوں ایوان صدر میں صحافیوں کے اعزاز میں ایک الوداعی عشائیے کا اہتمام کیا تھا۔ اس موقعے پر انھوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کوئی صدر اپنی آئینی مدت مکمل کرنے کے بعد باوقار انداز میں رخصت ہورہا ہے۔ انھوں نے بجا طور پر اس فخر کا اظہار کیا کہ انھوں نے طاقتور ترین آئینی صد رہونے کے باوجود اپنے تمام اختیارات پارلیمنٹ کے حوالے کردیے۔ 18 ویں ترمیم پاکستان کی سیاسی اور آئینی تاریخ کا ایک غیر معمولی مظہر ہے۔

اس ترمیم سے قبل صوبائی خودمختاری ایک خواب تھا اور کنکرنٹ لسٹ کا خاتمہ بھی مشکل نظر آتا تھا۔ اس ترمیم کے بعد مرکز نے اپنے اختیارات صوبوں کو منتقل کردیے جس سے وفاق ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہوگیا۔ آئین میں بنیادی ترمیم تو دور کی بات ہے، عام قانون سازی کا عمل بھی حکومت کی منشا اور تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔ یہ ترمیم کبھی نہ ہوسکتی اگر صدر آصف علی زرداری اس کی راہ میں مزاحم ہوتے، دو تہائی اکثریت کے لیے نواز شریف تعاون نہ کرتے، مکمل اتفاق رائے کے لیے پارلیمنٹ میں موجود دیگر سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل نہ ہوتی اور سب سے بڑھ کر 18 ویں ترمیم کے لیے قائم متعلقہ پارلیمانی کمیٹی کے ارکان بالخصوص سینیٹر رضا ربانی ا ور سینیٹر اسحاق ڈار اس ضمن میں ایک مثالی کردار ادا نہ کرتے۔

اس عشائیے میں صدر آصف علی زرداری نے دو ٹوک لفظوں میں کہا کہ ہم میاں صاحب کے ہر اچھے اقدام پر ان کی حمایت کریں گے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور حکومت کے جس کام کو غلط سمجھیں گے اس پر کھل کر تنقید بھی کریں گے۔ انھوں نے اپنے گزشتہ پانچ سالہ دور حکومت کو جمہوریت کی کامیابی اور جمہوری عمل کے تسلسل کا دور قرار دیا۔

وزیراعظم میاں نواز شریف، صدر آصف علی زرداری کے اعزاز میں ایک الوداعی عشایئے کا اہتمام کررہے ہیں جس میں نومنتخب صدر ممنون حسین بھی شرکت کریں گے۔ 1973 کے آئین کے تحت منتخب ہونے والا پاکستان کاصدر پہلی مرتبہ اپنی آئینی میعاد مکمل کرکے رخصت ہورہا ہے اور اس کی جگہ لینے کے لیے ایک نومنتخب صدر منتظر ہے۔ اس عمل کے بعد جمہوری تبدیلیوں کا اہم مرحلہ مکمل ہوجائے گا۔

پاکستان کے عوام، سیاسی کارکنوں اور جمہوریت پسند قوتوں کو مبارک ہو کہ انھوں نے 2013 میں اس جمہوری سفر کا پہلا مرحلہ مکمل کرلیا ہے جس کا خواب انھوں نے 1947 میں دیکھا تھا۔

مقبول خبریں