کپاس کی پیداوار میں کمی برآمدات میں اضافے کا رجحان

31 اگست تک کپاس کی پیداوار17 لاکھ 31 ہزارگانٹھ رہی۔


Business Reporter September 04, 2013
سندھ کی جننگ فیکٹریوں میں 42 فیصد کے اضافے سے 10لاکھ 81ہزار 496روئی کی گانٹھوں کے مساوی پھٹی کی ترسیل ہوئی۔ فوٹو: فائل

ملک میں کپاس کی پیداوار 31 اگست2013 تک 17 لاکھ 31 ہزار 245گانٹھ رہی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 5 ہزار392گانٹھ کم ہیں۔

پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے ) کی جانب سے رواں سیزن کے لیے منگل کو جاری کردہ پہلے اعدادوشمار کے مطابق 31اگست 2013 تک پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں 33 فیصد کی کمی سے6لاکھ 44ہزار 357روئی کی گانٹھوں کے مساوی پھٹی کی ترسیل ہوئی جبکہ اس کے برعکس سندھ کی جننگ فیکٹریوں میں 42 فیصد کے اضافے سے 10لاکھ 81ہزار 496روئی کی گانٹھوں کے مساوی پھٹی کی ترسیل ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق اس دوران مختلف ممالک کو69 ہزار 654روئی کی گانٹھیں برآمد کی گئیں۔



جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران صرف 2 ہزار روئی گانٹھیں بیرون ملک برآمد کی گئی تھیں۔ رپورٹ میں بتایا گیاکہ 31 اگست2013 تک ٹیکسٹائل ملز نے مختلف جننگ فیکٹریوں سے 14لاکھ 35 ہزار 769روئی کی گانٹھوں کی خریداری کی جبکہ 2لاکھ 20ہزار 430روئی کی گانٹھوں کے ذخائر مقامی جننگ فیکٹریوں کے پاس فروخت کے لیے دستیاب ہیں، فی الوقت سندھ میں 207 جبکہ پنجاب میں 195 جننگ فیکٹریاں آپریشنل ہیں۔

پی سی جی اے کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے بتایا کہ رواں سال چین، بھارت، تائیوان اور ویت نام کو بڑے پیمانے پر روئی کی برآمدات ہونے سے برآمدات میں خاصہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال موسمی حالات بہتر رہنے جبکہ سندھ میں فروری مارچ کے دوران گزشتہ سال کے مقابلے میں بہت زیادہ جبکہ پنجاب میں بہت کم کپاس کاشت ہونے کے باعث سندھ میں کپاس کی پیداوار سال 2012-13 سے کافی بہتر جبکہ پنجاب میں کافی کم ہے۔