میاں صاحب آپ دہشت گرد بن جائیں
مجھے یہ ناگوار سی باتیں ہمارے وزیراعظم کے دورہ کراچی سے متعلق موصول ہونے والی خبروں سے یاد آئیں۔
جناب مہتاب عباسی جب سابقہ صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ تھے تو پشاور میں ان کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع ملا۔ ان کی گفتگو حب الوطنی سے لبریز تھی۔ میں تعجب کے ساتھ یہ سب سنتا رہا اور حیرت کرتا رہا کہ یہ تو کسی ایسے شخص کی باتیں تھیں جو سب کچھ چھوڑ کر اور کئی جانوں کی قربانی دے کر ہجرت کے بعد پاکستان پہنچا ہے اور اس ملک کا درد اور محبت اسے چین نہیں لینے دیتی۔ انھوں نے دوران گفتگو ایک جملہ ایسا کہا جو مجھے اب تک یاد آتا رہتا ہے کبھی بھولتا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ''ہم اس ملک کے مالک بن کر نہیں کرایہ دار بن کر یہاں رہتے ہیں''۔ ان کی تمام گفتگو اسی پاکستانی جذبے سے معطر تھی۔ اس کے بعد میری ان سے ملاقات نہیں ہوئی حالانکہ ان کے وزیراعلیٰ ہائوس کا گیٹ ہر ایک کے لیے دن رات کھلا رہتا تھا اور ان کے سرہانے رکھا ہوا ٹیلی فون وہ خود سنتے تھے اور ان کے فون کا نمبر عرف عام تھا ان دنوں دہشت گردی نہیں تھی۔
ان کی یہ خوبصورت بات میں کبھی فراموش نہ کر سکا شاید اس لیے کہ یہ کسی حکمران کے دل سے نکلی تھی ورنہ حکمرانوں کی باتیں تو صرف زبان سے نکلتی ہیں اور سیدھی ہوا میں اڑ جاتی ہیں اور یہ اچھا ہی ہوتا ہے۔ یہ سمع خراشی جس قدر جلد ختم ہو اتنا ہی اچھا ہے۔ عباسی صاحب سے اس ملاقات سے پہلے بھی یہ بات سچ تھی اور اس ملاقات کے بعد چونکہ یہ میرے ذہن میں رہی اس لیے میں اس کے پیمانے پر حکمرانوں کے فرمودات کو جانچتا پرکھتا رہا جو کسی گا گی پر ختم ہوتے ہیں کہ یہ ہو جائے گا اور یہ بات ہو جائے گی۔ اب اس میں خواہش کا لفظ بھی داخل ہو گیا ہے کہ میری خواہش ہے کہ یوں ہو جائے۔ گزشتہ 66 برس سے ہم اس ملک کے کرایہ دار ہیں ہمیں کسی نے بتایا ہی نہیں کہ ہم کرایہ دار نہیں اس گھر کے مالک ہیں اس لیے اس کی نگہداشت ہمیں خود کرنی ہے کیونکہ مالک مکان ہی مکان کی دیکھ بھال کا ذمے دار ہوتا ہے۔
مجھے یہ ناگوار سی باتیں ہمارے وزیراعظم کے دورہ کراچی سے متعلق موصول ہونے والی خبروں سے یاد آئیں۔ انھوں نے یہاں تک کہا کہ ''ملکی مسائل نے میری مسکراہٹ تک چھین لی ہے'' ہمارے سنگین ملکی مسائل اگر کسی کی مسکراہٹ کے دشمن ہیں تو وہ ہمارے وزیراعظم کی مسکراہٹ ہے جو ملک کے ذمے دار ہیں اور انھیں 66 برس سے ملتوی چلے آنے والے مسائل نہ صرف حل کرنے ہیں بلکہ حتی الوسع آیندہ کے لیے مسائل سے محفوظ ایک ملک بھی بنانا ہے اور میں جو یہ بات کہہ رہا ہوں تو یہ محض میری خوش فہمی یا ایک آرزو ہے بلکہ وزیراعظم کے چہرے کو مزید اداس بنا دیتا ہے کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ وہ یہ نہیں کر سکتے صرف اس کی دلی خواہش کر سکتے ہیں۔ ہمارے وزیراعظم میرے جانے پہچانے ہیں اگرچہ اقتدار کے موجودہ دور میں ان سے رابطہ نہیں ہوا لیکن مجھے معلوم ہے کہ وہ ایک نیک نیت انسان ہیں اور ان کی شرم و حیا تو مثالی ہے جو انھیں ورثے میں ملی ہے چنانچہ میں اس لیے بھی بلا خوف یہ سب لکھ رہا ہوں کہ وہ اسے پڑھیں گے نہیں اور ان کی یہ تعریف صرف اخبار کے مضمون میں ہی رہ جائے گی۔
ہاں بدتعریفی ہوئی تو ان کے کارندے اسے پہلی فرصت میں ان کی نظروں یا کانوں سے گزار دیتے۔ ذاتی بات عرض کر دوں کہ میں اب اس قدر تھک گیا ہوں کہ اپنی ذات کے لیے تعلقات عامہ کی ہمت نہیں کر پاتا پھر ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جس قدر ہم کالم نگاروں میں زوال آ گیا ہے اور کالم نویسی عرضی نویسی اور درخواست گزاری بن گئی ہے اسی طرح حکمرانوں کے چمچہ گیروں میں بھی زوال آ چکا ہے اور بہت چھوٹے لوگ حکمرانوں کے گرد و پیش میں دیکھے جاتے ہیں اس لیے کوئی ان کے ساتھ تعلقات عامہ کیا استوار کرے اگرچہ اکا دکا فرض شناس دکھائی دیتے ہیں لیکن وہ کسی دیانت دار ملازم کی طرح ہیں جس کا سارا دفتر جانی دشمن ہوتا ہے۔ پھر یہ بھی تو ہے کہ ایک مسلمان ہونے کی وجہ سے جب انسان کی بنیادی باتیں اور ضروریات صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں تو پھر اس کے بندوں کے ساتھ تعلقات کی کیا ضرورت اور اہمیت سوائے ان کے ساتھ محبت اور پیار کے اور اچھی ملاقات کے جو جاری رہے تو خوشی ہوتی ہے۔
میرا خیال ہے اوپر کی یہ باتیں بڑی حد تک بے موقع ہیں اس وقت اگر کچھ کہنا ہے تو یہ کہ میاں صاحب کراچی کو سمجھیں اور اس کے دشمنوں پر پکا ہاتھ ڈالیں چور کے پائوں نہیں ہوتے اور کراچی کے چور تو ہیں ہی پائوں کے بغیر ۔ حوالہ کے لیے جنرل بابر کی مہم یاد کریں جب انھوں نے یہی کراچی صاف کر دیا تھا۔ آج بھی پاکستان میں ایسے امرت دھارے موجود ہیں جو ملک دشمنوں کا صفایا کر سکتے ہیں لیکن ان کو مکمل اختیار اور آزادی دیں۔ شکر ہے کہ میاں صاحب کو احساس ہو چکا ہے کہ کراچی اس ملک کے لیے کتنا اہم شہر ہے۔ یہ ملک کی زندگی ہے اس کی بقا ہے اگر ایک وزیراعظم جو قوم نے منتخب کیا ہے یہ کام نہیں کرے گا تو اور کون کرے گا۔ میاں صاحب اپنی چھنی ہوئی مسکراہٹ لوٹا کر اسے ایک کرخت عزم میں بدل دیں اور چہرے پر ملک دشمنوں کے لیے سفاک تاثر لے آئیں جسے دیکھ کر ملک دشمنوں پر کپکپی طاری ہو جائے ایک دہشت۔ ان ملک دشمنوں کے لیے میاں صاحب خود ایک دہشت گرد بن جائیں کیونکہ وہ اور ان کے تمام ووٹر اس ملک کے مالک ہیں کرایہ دار نہیں ہیں انھیں ہر حال میں چور اچکوں سے اپنا گھر بچانا ہو گا۔
اگر میاں صاحب محترم، ملک میں کسی حتمی آپریشن کا ارادہ رکھتے ہیں وہ اگر مناسب سمجھیں تو قوم سے خطاب کریں اور اپنے ارادوں سے قوم کو مطلع کریں اور اس سے تعاون کی درخواست کریں اگر کہیں سے اس کا مثبت جواب نہیں آئے گا یا چونکہ چنانچہ ہو گا تو وہ ایسے لوگوں پر پل پڑیں ورنہ پھر اللہ کے حوالے۔ ایک کارٹون دیکھا کہ بیوی شوہر سے پوچھتی ہے کہ کراچی کو تو فوج کے حوالے کیا جا رہا ہے، مہنگائی کے مارے ہوئے ہم کس کے حوالے، تو شوہر جواب دیتا ہے اللہ کے حوالے۔
میاں صاحب دنیا کے جو تازہ حالات ہیں اور پاکستان جن بے رحم لوگوں کی نظروں میں ہے ان کے سدباب کے لیے ایک بات ضروری ہے کہ ملک اللہ کے بندوں کے حوالے ہو جو اسے حاضر ناظر جان کر ملک کے تحفظ کے لیے تیار ہوں۔