حیدرآباد مسافر ٹرین اور مال گاڑی کا افسوسناک حادثہ

معاملے کی غیرجانبدارانہ شفاف تحقیقات کرائی جائے اور ریلوے آپریشن سسٹم میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے


Editorial June 22, 2019
معاملے کی غیرجانبدارانہ شفاف تحقیقات کرائی جائے اور ریلوے آپریشن سسٹم میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے

حیدرآباد میں جمعرات کو کراچی سے لاہور جانے والی جناح ایکسپریس اور کوئلہ بردار مال گاڑی کے مابین تصادم کے نتیجے میں ٹرین ڈرائیور سمیت 3 افراد کے جاں بحق اور 6 افراد زخمی ہونے کے اندوہناک واقعے نے ایک بار پھر ملک میں ٹرین اور ٹریفک حادثات میں انتظامی نااہلی اور انسانی غفلت کی بحث چھیڑ دی ہے۔

ملک میں ٹرین حادثات نئے نہیں، لیکن دیکھا جائے تو ٹرین کے حادثات میں زیادہ تر انسانی غلطیاں ہی کارفرما ہوتی ہیں کیونکہ سڑک کے ٹریفک حادثات کے مقابلے میں ٹرین ایک مخصوص ٹریک پر چلتی ہے جس پر حادثات کی شرح کم ہونی چاہیے ۔لیکن ہر بار کہیں بغیر پھاٹک کراسنگ اور کہیں ٹیکنیکل فالٹ کی وجہ سے حادثات جنم لیتے رہے اور حکومتی و انتظامی سطح پر محض نام نہاد اقدامات و بیانات سے کام چلا کر وقت ٹال دیا گیا، یہاں تک کہ ایک اور حادثہ رونما نہ ہوگیا۔ مذکورہ واقعے میں بھی اگر دیکھا جائے تو انسانی غفلت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

اطلاعات کے مطابق جناح ایکسپریس ٹریک پر پہلے سے کھڑی مال بردار گاڑی کے عقب سے جاٹکرائی، جو کہ پھاٹک بند ہونے کی وجہ سے ٹریک پر موجود تھی۔

ریلوے ٹریفک کو کنٹرول کرنے اور پھاٹک بند ہونے کے باعث راستہ کلیئر کروانے اور دوسری ٹرین کی آمد کو روکنے کے لیے پاکستان میں پہلے ہی نظام موجود ہے، ایسے میں یہ کیونکر ممکن ہوا کہ ٹریک پر ایک گاڑی کی موجودگی میں جناح ایکسپریس کو آگے بڑھنے دیا گیا۔ اس کے علاوہ ریلوے ٹریک کے ساتھ واقع تجاوزات کے زمرے میں آنے والی تعمیرات کے باہر بندھے 10 مویشی بھی ٹرین کے انجن تلے دب کر ہلاک ہوگئے۔

عینی شاہدین کے مطابق گولائی موڑ کے قریب کچرے کے ڈھیر ہیں اور تجاوزات کے باعث ٹرین ڈرائیور کے لیے حد نگاہ چند میٹر ہی ہوتی ہے اور اگر ٹرین تیز ہو تو اس کو روکنا بھی ممکن نہیں رہتا۔ اس سے قبل 2016 میں بھی اس مقام پر ٹرین حادثہ ہوچکا ہے لیکن ریلوے حکام نے تجاوزات ختم کرانے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے۔

دوسری جانب سگنل سسٹم کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ٹرینوں کا ایک ہی ٹریک پر ٹکرانا بہت بڑا بلنڈر اور مجرمانہ غفلت ہے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ریلوے کا آپریشن مکمل طور پر فول پروف ہے، اگر رولز کو فالو کیا جائے تو حادثہ ہوہی نہیں سکتا۔ صائب ہوگا کہ معاملے کی غیرجانبدارانہ شفاف تحقیقات کرائی جائے اور ریلوے آپریشن سسٹم میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے۔

مقبول خبریں