امریکی ڈرون گرانے پر ٹرمپ کی ایران کو دھمکی

عالمی طاقتوں کو اپنی سفارتی کوششیں تیزکرنا ہوں گی تاکہ خطے میں چھائے جنگ کے بادل چھٹ جائیں


Editorial June 22, 2019
ٹرمپ میکسیکو کی سرحد پردیوار بنانے کا بھی اعلان کرچکے ہیں جس کے لیے اخراجات کا بوجھ بھی وہ میکسیکو پر ڈالنا چاہتے ہیں۔ فوٹو : فائل

ایران نے فضائی حدود کی خلاف ورزی پر امریکی ڈرون طیارہ مارگرایا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رد عمل ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ ''ایران نے بہت بڑی غلطی کی ہے'' جب کہ پاسداران انقلاب ایران کے جنرل حسین سلامی کا کہنا تھا کہ ڈرون گرانے سے دشمنوں کو واضح پیغام مل گیا ہوگا، ہماری حدود ہماری ناموس ہے۔

امریکا اور ایران تنازع شدت اختیارکرتا جا رہا ہے اور تاحال کوئی بھی ایسی کوشش عالمی سطح پرکامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی ہے کہ جس کے بارے میں وثوق سے کہا جاسکے کہ جنگ کے خطرات کم ہوگئے ہیں۔

تازہ واقعے کو لے لیجیے کہ امریکی ڈرون کوآبنائے ہرمزکی آبی گزرگاہ کے اوپر نشانہ بنایا گیا، مذکورہ ڈرون جدید ٹیکنالوجی کا حامل جاسوس طیارہ ہے جوانتہائی بلندی پر رہ کر مسلسل 30 گھنٹے فضائی نگرانی کرسکتا ہے۔ ماضی قریب میں امریکی ڈرون طیاروں نے پاکستان کی فضائی حدود کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے ہزارہا لوگوں کو مارا ۔آبنائے ہرمز تیل کی بین الاقوامی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ ہے۔

یہ کشادہ نہیں بلکہ تنگ گزرگاہ ہے جس میں دو دوکلومیٹر کی دوطرفہ حد بندی کرکے آنے جانے والے جہازوں کو راستہ دیا جاتا ہے۔ایران کا موقف ہے کہ امریکا کا مقصد معاشی جنگ کے ذریعے ایران کو نقصان پہنچانا ہے، وہ سمجھتے تھے ایرانی قوم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبورکریں گے تاہم انھوں نے دیکھ لیا کہ ہماری قوم ان کے سامنے کھڑی ہوگئی ہے، امریکی پابندیوں کو پھر بہتر موقع کے طور پر تبدیل کردیں گے۔

امریکا کی جانب سے عالمی ایٹمی معاہدے کے خاتمے کا اعلان اس تنازع کا اصل سبب ہے اس بات کو بھی ایک برس ہوچلا ہے ، دوسری طرف روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے خبردارکیا ہے کہ ایران کے خلاف طاقت کا استعمال تباہ کن ہوگا۔ امریکا دنیا کی سپرپاور ہے،امریکی صدر ضدی اور ہٹ دھرم انسان ہیں، ان کو سمجھنا اور جنگ سے باز رکھنا ایک مشکل ترین عمل ہے۔

بے کس اور مجبور اقوام متحدہ جو امریکی امداد اور اشاروں پر چلتی ہے، اس سے یہ توقع رکھنا عبث ہے، البتہ وہ عالمی طاقتیں جو جوہری معاہدے کی ضامن تھیں وہ اس تنازع کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں توتب ہی یہ خطہ تباہی وبربادی سے بچ سکتا ہے ورنہ آگ کے شعلوں میں سب کچھ جل کر راکھ ہوجائے گا۔

خبر کے مطابق فرانس نے خلیج فارس میں کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی مشن ایران روانہ کردیا، جرمنی، فرانس اور برطانوی وزرائے خارجہ کا دورہ ایران بھی جلد متوقع ہے۔عالمی طاقتوں کو اپنی سفارتی کوششیں تیزکرنا ہوں گی تاکہ خطے میں چھائے جنگ کے بادل چھٹ جائیں ۔

مقبول خبریں