شرح سود بڑھانے سے معاشی بد حالی کی رفتار تیز ہو جائے گی ایف پی سی سی آئی کا اسٹیٹ بینک کو انتباہ

سرمایہ کاری ماحول کو نقصان، قرضوں کی لاگت بڑھ جائے گی، کرنسی پر مزید دباؤ آئے گا


Business Reporter September 06, 2013
ایف پی سی سی آئی کے صدر زبیر احمد ملک نے کہا کہ اس اضافے سے ملکی کرنسی کی قیمت ڈالر کے مقابلے میں مزید کم ہو جائے گی. فوٹو: فائل

ایف پی سی سی آئی نے شرح سود میں ممکنہ اضافے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی آنے والی مانیٹری پالیسی میں شرح سود بڑھنے سے پہلے سے تباہ شدہ معیشت مزید تباہی کی طرف جائے گی اور یہ ملک میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بھی نقصان پہنچائے گی۔

وفاق ایوان ہائے تجارت و صنعت پاکستان (ایف پی سی سی آئی) کے صدر زبیر احمد ملک نے کہا کہ اس اضافے سے نہ صرف ملکی کرنسی کی قیمت ڈالر کے مقابلے میں مزید کم ہو جائے گی بلکہ نجی شعبے نے جو بینکوں سے قرضے لیے ہوئے ہیں ان کی لا گت میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ اب اگر شرح سود میں بھی اضافہ ہو گیا تو ملک میں صنعت وتجارت کی ترقی سے متعلق 11مئی کے انتخابات سے پیدا ہونے والے مثبت تصور کو شدید دھچکا پہنچے گا۔



انہوں نے کہا کے شرح سود کے ماضی میں اضافے نے کبھی بھی حکومت کے تیل اور دیگر مصنوعات کی درآمد میں فائدہ نہیں پہنچایا، اس سے نہ صرف سرمایہ کاروں کے اعتماد کو دھچکا پہنچے گا بلکہ نجی شعبے میں پیداواری شعبے اور برآمدات کے فروغ کو بھی نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ اب حکومت کو ماضی کی طرح سابقہ حکومتوں کو الزام دینے کے بجائے اپنی کارکردگی سے مثبت اقدامات کرنے ہوں گے۔ زبیر ملک نے کہاکہ اس وقت پاکستان کو ایک ایسے واضح منصوبے کی ضرورت ہے جس سے ٹیکس کی وصولی میں اضافہ اور غیرترقیاتی اخراجات میں کمی ہو، غیرضروری چھوٹ سے بھی بچنا چاہیے۔