آئی او سی نے بھارتی باڈی کی انتخابی شق مسترد کردی

سزا یافتہ افراد کو آئی او اے سے دور نہ رکھنے تک معطلی جاری رکھنے کی تنبیہ


Sports Desk/AFP September 06, 2013
سزا یافتہ افراد کو آئی او اے سے دور نہ رکھنے تک معطلی جاری رکھنے کی تنبیہ۔ فوٹو: فائل

آئی او سی نے بھارتی باڈی کی انتخابی شق مسترد کردی، سزا یافتہ افراد کو آئی او اے سے دور نہ رکھنے تک معطلی جاری رکھنے کی تنبیہ کی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے جمعرات کے روز بھارت کو تنبیہ کی کہ آئی او اے سے سزا یافتہ افراد کی بے دخلی تک اس کی معطلی برقرار رہے گی۔ آئی او سی انڈین اولمپک ایسوسی ایشن کو مائل کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ وہ اپنے قانون میں ترمیم کرکے ایسے آفیشلز کو انتخابات سے دور رکھے جو کرپشن یا دیگر مجرمانہ الزامات کا سامنا کررہے ہیں۔ آئی او سی سے معطلی کا مطلب ہے کہ بھارت اس سے فنڈنگ حاصل نہیں کرسکتا اورآفیشلز اولمپک ایونٹس میں شریک نہیں ہوسکتے، ایتھلیٹس پر قومی جھنڈے تلے اولمپکس کے مقابلوں میں پابندی برقرار رہے گی۔

گذشتہ دسمبر سے معطل آئی او اے نے اب صرف سزایافتہ آفیشلز پر پابندی لگانے پر رضامندی ظاہر کی ہے،بیونس آئرس میں ایگزیکٹیو بورڈ کی میٹنگ کے بعد آئی او سی کا کہنا ہے کہ وہ اہلیت کی شق میں ترمیم ہونے تک آئی او اے کی سربراہی کیلیے تازہ انتخابات کی منظوری نہیں دے گی، یہ شق نیشنل اولمپک کمیٹی کی گڈ گورننس کیلیے اہم اور معطل آئی او اے کو انتخابات کرانے سے قبل اس پر مکمل عمل کرنا ضروری ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ آئی او سی کی پوزیشن کا ایک آفیشل نوٹیفکیشن آئی او اے کو بھیج دیا جائے گا۔



یاد رہے کہ بھارت پر للیت بھانوٹ کو سیکریٹری جنرل منتخب کرنے کے بعد سے معطلی جاری ہے، انھیں دہلی میں منعقدہ 2010 کامن ویلتھ گیمز میں کرپشن پر عدالتی کارروائی کا سامنا رہا۔ آئی او اے کے نائب صدر ترلوچن سنگھ نے کہاکہ آئی او سی کی جانب سے اہلیت کی شق کے مطالبے پر عملدرآمد ناممکن ہے، یہ ایسے افراد سے امتیاز برتنا ہوگا جو قانون کی نظر میں مجرم ثابت نہ ہونے تک بے گناہ ہیں۔ جمعرات کو نئی دہلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بھارت دوبارہ اولمپکس میں شامل ہوجائے لیکن ہم ملکی قوانین کیخلاف کیسے عمل کرسکتے ہیں؟ یہ ایک مشکل صورتحال ہے۔

مئی میں مسئلے کے حل کیلیے لوزانے میں آئی او سی آفیشلز سے ملاقات کرنے والے بھارتی وزیر کھیل جیتندر سنگھ نے آئی او اے کو گورننگ باڈی کی ہدایات پر عمل کرنے کیلیے کہا ہے، انھوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ ان ترامیم پر عمل کرنا مشکل ہے کیونکہ یہ اولمپک چارٹر کا حصہ ہیں، افسوس کی بات ہے کہ آئی او اے اپنے قانون میں ترمیم نہیں کررہی، یہ انتہائی بدقسمتی ہے کہ انفرادی فائدے کو قوم اور عوام پر ترجیح دی جا رہی ہے۔