خواتین اچھا کام کریں تو آرمی چیف بھی بن سکتی ہیں کیپٹن کرن

فوج میں بھی ہمیں کام کرنے کا بھرپور موقع مل رہا ہے، نیوی لیفٹیننٹ عنبرین ابرار


Monitoring Desk September 06, 2013
خواتین صلاحیتیں ضائع نہ کریں، فلائٹ لیفٹیننٹ سائرہ امین کی کل تک میں گفتگو۔ فوٹو: فائل

LONDON: پاک بحریہ کی لیفٹیننٹ عنبرین ابرار نے کہا ہے کہ پاکستان کی خواتین دنیا کی کسی بھی قوم کی خواتین سے کم نہیں، ان کو اپنی ذمے داری سمجھنی چاہیے، وہ جس شعبے میں بھی بہترکام کرسکتی ہیں اس میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کریں۔

ایکسپریس نیوزکے پروگرام ''کل تک'' میں میزبان جاوید چوہدری سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ فوج میں بھی خواتین کو کام کرنے کا بھرپور موقع مل رہا ہے،میرے والد کا تعلق آرمی سے تھا پھر مجھے نیوی جوائن کرنے کا موقع ملا۔نیوی میں جانے والی خواتین کی ٹریننگ میں شپ پر لڑائی کا مکمل سیشن ہوتا ہے۔ ملک وقوم کی حفاظت کیلئے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔

پاک آرمی کی کیپٹن کرن اشرف نے کہا کہ ٹریننگ میں مردوعورت کا کوئی فرق نہیں رکھا گیا، آفیسرز اپنے کام سے ترقی کرتے ہیں، اگر خواتین اچھا کام کریں گی تواپنے کام کی بنیاد پر وہ بھی آرمی چیف بن سکتی ہیں۔



آرمی میں اپنا ڈر نکال کرآئے ہیں، پاکستانی خواتین کسی سے کم نہیں، صرف مصمم ارادے کی ضرورت ہے، میں بنیادی طورپرالیکٹرک انجنئیر ہوں لیکن ہمیں لڑنے کی بھی تربیت دی جاتی ہے۔ پاک فضائیہ کی فلائٹ لیفٹیننٹ سائرہ امین نے کہا کہ تمام خواتین کو پیغام ہے کہ وہ اپنی صلاحیتیں ضائع نہ کریں، پہلے فضائیہ میں خواتین کو پذیرائی نہیں مل رہی تھی لیکن اب وہ بہترین کردار ادا کررہی ہیں۔ جہاز یہ نہیں دیکھتا کہ اس کا کنٹرول خاتون کے ہاتھ میں ہے یا مرد کے ہاتھ میں، اس لیے تربیت میں مرداورعورت کا فرق نہیں دیکھا جاتا، فضائیہ میں خواتین کے لیے بہت اچھے مواقع ہیں۔