عمر دین کے بیٹے کے لیے
پٹ فیڈر کے کسانوں کی اپیل پر سندھ میں طلبہ، مزدور اور کسان رابطہ کمیٹی نے اس کی حمایت کا فیصلہ کیا
عمر دین کراچی کے ایک چھوٹے اخبار میں صحافی ہیں، وہ بنیادی طور پر سیاسی کارکن ہیں۔ انھوں نے ساری زندگی مزدوروں کے حالات کار کو بہتر بنانے کی جدوجہد کی۔ جب جنرل ضیاء الحق نے جولائی 1977ء میں مارشل لاء نافذ کیا تو عمر دین کمیونسٹ پارٹی کے ان کارکنوں میں سے تھے جنھوں نے مارشل لاء کے خلاف آواز اٹھائی اور فوجی عدالتوں سے سزا یاب ہوئے۔ جب فوجی حکومت نے بھٹو حکومت کی نافذ کردہ زرعی اصلاحات کو غیر موثر کرنے کی پالیسی اختیار کی اور اس پالیسی کی بناء پر بلوچستان کے علاقے پٹ فیڈر میں قبائلی سرداروں نے کسانوں کو زرعی زمینوں سے بے دخل کر دیا تو جمالی سرداروں کے خلاف کسانوں نے جدوجہد شروع کر دی۔
پٹ فیڈر کے کسانوں کی اپیل پر سندھ میں طلبہ، مزدور اور کسان رابطہ کمیٹی نے اس کی حمایت کا فیصلہ کیا، عمر دین، غلام اکبر، آصفہ رضوی، حمیدہ گھانگرو، رمضان میمن وغیرہ پٹ فیڈر گئے، ان کارکنوں نے پٹ فیڈر کے کسانوں کے ساتھ مل کر بھوک ہڑتال کی اور عمر دین اپنے ساتھیوں کے ساتھ گرفتار ہو گئے۔ فوجی عدالت نے عمر دین اور ان کے ساتھیوں کو ایک سال قید اور کوڑوں کی سزا دی، عمر دین نے ملک کی سب سے سخت جیل میں یہ سزا کاٹی، رہائی کے بعد وہ پھر جنرل ضیاء الحق کے خلاف تحریک میں مشغول ہو گئے، ان کی زندگی میں جدوجہد کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ عمر دین کا 15 سالہ بیٹا شعیب بلڈ کینسر میں مبتلا ہوا اور عمر دین نے اپنے بیٹے کا علاج جناح اسپتال میں کرایا، شعیب کے ٹیسٹ آغا خان اسپتال میں ہوئے۔ جناح اسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ شعیب کا مزید علاج وہاں نہیں ہو سکتا، یہ علاج شوکت خانم میموریل اسپتال لاہور میں ہی ممکن ہے۔ عمر دین نے ایک خط تحریر کیا ہے، وہ لکھتے ہیں:
''میرا بیٹا شعیب (عمر 15 سال) بلڈ کینسر کا مریض ہے۔ اسے 20 مئی 2013ء کو جناح اسپتال میں داخل کیا گیا اور پھر مختلف ٹیسٹوں کے نتیجے میں جب اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ بچے کو بلڈ کینسر ہے تو 27 مئی کو اسے کینسر وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا، وہاں فوری طور پر حکم دیا گیا کہ بچے کا فوراً ''بون میرو'' ٹیسٹ کروا لو تا کہ پتہ چل سکے کہ مرض ہڈی میں داخل ہو چکا ہے یا نہیں۔ استفسار پر بتایا گیا کہ یہ ٹیسٹ صرف دو جگہ پر ہوتا ہے، آغا خان اسپتال اور این آئی بی ڈی میں۔ جب ہم نے این آئی بی ڈی میں ٹیسٹ کروایا تو ڈاکٹر نے کہا کہ یہ قابل بھروسہ نہیں، آپ یہی ٹیسٹ آغا خان سے کروائیں، ٹیسٹ کی فیس NIBD نے ساڑھے چار ہزار روپے لی تھی جب کہ آغا خان نے اسی ٹیسٹ کے چالیس ہزار روپے لیے اور ٹیسٹ کی رپورٹ آنے کے بعد ڈاکٹروں نے بیٹے کا باقاعدہ علاج شروع کیا۔ 11 جون کو اسے پہلی کیمیو تھراپی کا ڈوز دیا گیا اور چونکہ یہ بہت سخت ہوتا ہے اس لیے شعیب کے ناتواں جسم نے برداشت نہیں کیا اور اس کی حالت بگڑ گئی، اس کا بخار تیز ہو گیا، پیٹ خراب ہو گیا اور جسم اتنا لاغر کہ واش روم تک وہیل چیئر پر لے جانے لگے، ڈاکٹروں اور طبی عملے کی دن رات کوششوں کے بعد بچے کی حالت کچھ بہتر ہوئی تو پھر اس پر ایک اور دوا آزمانی شروع کی گئی۔
یہ لفظ ''آزمائی'' اس لیے لکھا ہے کہ ہم جیسے لوگوں کی زندگی تو بذات خود ایک آزمائش ہوتی ہے اور پھر ترقی یافتہ ملکوں میں جو دوائیاں تیار ہوتی ہیں اس کی آزمائش بھی تو ترقی پذیر ملکوں کے ایسے مریضوں پر کی جاتی ہے جو علاج کی استطاعت نہیں رکھتے۔ جب دوسری دوا دیتے دیتے ڈاکٹروں نے مشورہ کیا کہ دوا کا اثر بھی دیکھنا چاہیے تو پھر تیسری دفعہ بون میرو ٹیسٹ کے لیے کہا گیا اور 20 جولائی کو آغا خان میں نمونہ دینے گئے۔ ڈاکٹر صاحب کو نمونہ دینا بولنے میں کتنا آسان لگتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک زندہ انسان کی ریڑھ کی ہڈی میں ڈرل مشین سے سوراخ کر کے اندر سے گودا نکالنے کا عمل کتنا تکلیف دہ ہو گا۔ جب کہ ''سُن'' کرنے والی دوا صرف گوشت اور چمڑے کو سُن کر سکتی ہے ہڈی کو نہیں۔
تیسرا ٹیسٹ آنے کے بعد ڈاکٹر نے کہا کہ مرض کا جتنا علاج ہم سے ہو سکتا تھا وہ ہم نے کر لیا، اب اس کا علاج ہمارے پاس نہیں، لہٰذا آپ آغا خان لے جائیں اور ساتھ ہی ایک ڈاکٹر کے نام مختصر سی تحریر اور فون نمبرز بھی لکھ دیے۔ مذکورہ نمبر پر فون کیا تو وہاں سے جواب ملا کہ 30اگست تک ان کے پاس وقت نہیں، (جب کہ ہم نے 2اگست کو رابطہ کیا) آپ پہلے (او پی ڈی) کی فیس جمع کرا دیں پھر آپ کو ڈاکٹر سے ملنے کی تاریخ مل سکتی ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہم آغا خان سے علاج کرانے کی طاقت رکھتے تو جناح اسپتال میں کیوں آتے؟ اسی روز ایک دوست کے بیٹے نے کہا کہ شوکت خانم والوں کا ایک یونٹ کراچی میں بھی ہے ادھر جا کر پتہ کرو، وہاں سے معلومات حاصل کیں۔ شوکت خانم اسپتال کے عملے نے ایک فارم دیا جس میں شوکت خانم اسپتال میں علاج کے لیے درج ذیل شرائط تحریر تھیں۔ یہ شرائط درج ذیل ہیں۔
(1) جو کینسر میں مبتلا ہوں یا ان میں کینسر واقع ہونے کا اندیشہ ہو۔
(2) جن کا مرض قابل علاج ہو اور ابتدائی درجہ پر ہو اور اسپتال میں متعلقہ مرض کی معالجاتی سہولیات اور وسائل دستیاب ہوں۔
(3) جن کی جسمانی حالت ایسی ہو جو کینسر کے سخت علاج کو برداشت کر سکے۔
(4) جنھوں نے کینسر کا علاج پہلے کسی ڈاکٹر یا اسپتال سے نہ کروایا ہو۔
ڈاکٹر صاحب ان حالات میں میرے تمام دوستوں اور ساتھیوں نے بھی اپنی اپنی استطاعت کے مطابق میرا ساتھ دیا ہے لیکن اب جو (بون میرو) علاج ہے وہ نہ میرے بس کی بات ہے اور نہ ہی میرے خاندان کی، کیونکہ میرے تعلقات اور نظریات والوں میں کوئی سرمایہ دار، جاگیردار، سردار اور خان نہیں۔ مرنا تو سب کو ہے، ہمارے باپ داد بھی گزر چکے ہیں لیکن ایک پھانس ہمیشہ دل میں چبھی رہ جائے گی کہ کاش میں اپنے شعیب کا علاج کروانے کی طاقت (مالی وسائل ) رکھتا۔ فقط عمر دین۔''
شوکت خانم اسپتال میں شعیب کا علاج اس لیے نہیں ہو سکتا ، کیونکہ اس کا علاج پہلے جناح اسپتال میں ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ شوکت خانم اسپتال کراچی میں نہیں ہے، غریب آدمی پہلے عام ڈاکٹر سے علاج کراتا ہے پھر سرکاری اسپتال سے رجوع کرتا ہے، خطرناک بیماری کی تشخیص بڑی لیبارٹری کے ٹیسٹ سے ہوتی ہے، پھر کینسر کے مریض کو شوکت خانم اسپتال میں علاج کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ شوکت خانم اسپتال دنیا بھر کے مخیر حضرات کے عطیات سے قائم ہوا ہے اور اس کا نظام دنیا بھر سے ملنے والے عطیات سے چلتا ہے، غریبوں کو کسی تکنیکی وجوہات کی بناء پر علاج سے محروم رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اب شوکت خانم اسپتال کے دروازے غریبوں کے لیے بند ہو جائیں گے تو وہ کہاں جائیں گے؟ عمر دین کے بیٹے کا علاج یورپ اور امریکا میں نہیں ہو سکتا۔ اب یا تو عمران خان مداخلت کریں یا پھر حکومت شعیب کو علاج کے لیے ملک سے باہر بھجوا دے ورنہ کیا ہم سب بے یار و مددگار عمر دین کے لیے موت کا انتظار کریں؟