اسرائیل نے مسجد ابراہیمی نمازیوں کیلیے بند کردی صہیونی فورسز سے جھڑپیں درجنوں فلسطینی زخمی

مقبوضہ بیت المقدس کے قریبی علاقوں میں فلسطینیوں کی گرفتاریوں کے لیے قابض صہیونی فوج کے چھاپے، متعدد افراد گرفتار


INP September 07, 2013

یہودیوں کے نئے سال کی تقریبات اور مذہبی رسومات کی ادائیگی کیلیے اسرائیل نے الخلیل شہر میں مسجد ابراہیمی کونمازیوں کیلیے بغیرکسی وجہ کے بند کردیا۔

فلسطینی تنظیم حماس کی جانب سے مسجد براہیمی کو نمازیوں کو بندکرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کی گئی۔ ادھر فلسطین کے تاریخی شہر مقبوضہ بیت المقدس میں مسلسل دوسرے روز صہیونی فوجیوں اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن میں لاٹھی چارج اور آنسوگیس کی شیلنگ سے درجنوں فلسطینی زخمی ہوگئے، فوج نے مسجد اقصیٰ کے قریبی علاقوں سلوان، وادی حلوہ اور دیگر کالونیوں میں فلسطینیوں کی گرفتاریوں کیلیے چھاپے مارے اور متعدد افرادکوحراست میں لے لیا۔



ادھر اسرائیلی وزیر دفاع نے موشے یعلون نے کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اور ان کی حکومت کے درمیان ہونیوالے امن مذاکرات میں مغربی کنارے کی یہودی بستیوں کے انخلا پرکوئی بات چیت نہیں ہوئی اور نہ ہی آئندہ اس کا کوئی امکان ہے، مغربی کنارے میں یہودا اور السامرا کالونیاں اسرائیل کی دفاعی لائن ہیں، ان سے دستبردار ہونے کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اب تک فلسطینی اتھارٹی سے جو بھی بات چیت ہوئی ہے اس میں یہودی کالونیوں کے انخلا کا موضوع شامل نہیں کیا گیا۔